امریکہ ڈائری: قسط نمبر 10

نیویارک شہر، جسے "دی بگ ایپل” (The Big Apple) بھی کہا جاتا ہے، دنیا کا سیاسی اور مالیاتی مرکز ہے۔ 1624 میں ڈچوں کے ذریعے قائم ہونے والا یہ شہر آج وال اسٹریٹ (Wall Street) کی وجہ سے عالمی معیشت کی نبض کنٹرول کرتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا ہیڈ کوارٹر یہاں ہونے کی وجہ سے یہ عالمی سفارت کاری کا گڑھ بھی ہے۔ اس شہر کا سالانہ بجٹ تقریباً 100 ارب ڈالر سے زائد ہے، جو اسے دنیا کی طاقتور ترین بلدیاتی معیشت بناتا ہے۔

میرے لیے نیویارک کو چند لوگوں نے بہت شاندار بنایا جن کا تذکرہ کرنا بہت ضروری ہے۔ میں چوہدری بلال کا تذکرہ تو کر چکا ہوں۔ ان سے فراغت کے بعد برونکس (Bronx) میں ہی قریب محترم ابراہیم خان لالا نے میری بہت خوب مدارت کی۔ ابراہیم لالا نیویارک میں زندگی کا بیشتر حصہ گزار چکے ہیں اور وہاں کے مانے جانے والے پختون اور سادہ لوح طبیعت کے انسان ہیں۔ سوات "برہ بانڈئی” کے انتہائی معزز خاندان سے تعلق ہے، مگر نیویارک میں اب تک وہی سوات والا مزاج نہیں بھولے۔ آپ کو محسوس نہیں ہوگا کہ ابراہیم لالا نے زندگی کے 30 سال امریکہ میں گزارے ہیں۔

ابراہیم لالا میرے بڑے بھائی سید عابد شاہ کے دوست ہیں اور امریکہ میں ان کے گھر آمد کے بعد جب میں نے ان سے قبلہ کا پوچھا کہ کس طرف ہے اور ساتھ میں رکھا قرآن شریف پڑھنے کا میرا انداز انہیں بہت اچھا لگا۔ مجھے کہتے ہیں: "میری 30 سالہ امریکی زندگی میں تم اور عابد شاہ دو ایسے انسان ہو جو مجھ سے گھر آنے کے بعد پوچھ بیٹھے ہو کہ قبلہ اور جائے نماز کہاں ہے۔”

میں نے اس بات پر اللہ پاک کا شکر ادا کیا کہ اس کی توفیق سے انسان اس کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور سر بہ سجود ہوتا ہے۔ انسان کو امریکہ جا کر یا کسی بھی ملک جا کر اپنے خالقِ حقیقی کو نہیں بھولنا چاہیے۔ اس کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔

ابراہیم لالا نے اپنے ہاتھوں سے بنے پراٹھے، چائے، مرغیاں، سویٹ ڈش اور پتا نہیں کن کن کھانوں سے تواضع کی۔ لمحہ بھر یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ میں اپنے گھر میں ہوں یا ان کے گھر مہمان۔ ان کی مہمان نوازی سے زیادہ گھر کے ایک بڑے اور بزرگ کا سا احساس دل کو چھونے والا ہوتا ہے۔ انہی دنوں میں ان کے بڑے بھائی بھی آئے تھے، خوب گپ شپ لگی۔

ابراہیم لالا نے کہا: "زمین کے راستوں سے تو نیویارک دیکھنے کا مزہ ہوتا ہی ہے، میں تم کو ہیلی کاپٹر میں ہالی ووڈ فلموں کی طرح نیویارک دکھاتا ہوں”۔ ہاتھ سے پکڑا اور چل پڑے، بروکلین برج (Brooklyn Bridge) کے پاس سے جہاں سے 38 منٹ کی ہیلی کاپٹر رائیڈ لی اور مجھے تو اپنا آپ ہالی ووڈ فلموں کا ہیرو لگ رہا تھا۔

ابراہیم لالا کے ساتھ وقت میں نہ تکلف کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی مہمان نوازی کا۔ ابراہیم لالا نے شاید ہی کسی سیاسی شخصیت کی امریکہ میں مہمان نوازی نہ کی ہو، اور میرے جیسے پتا نہیں کتنے مہمان ان کے ڈیرے پہ آتے ہوں گے۔ مگر ابراہیم لالا کے چہرے پہ کبھی اداسی یا تنگی نہیں دیکھیں گے۔ فارمیسی کا بزنس دیکھتے ہیں، بچے لندن اور امریکہ میں سیٹل ہیں، لیکن دل ان کا سوات کے لیے دھڑکتا ہے۔ مجھے اپنی کہانی سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ نیویارک میں بہت برف باری ہوئی تو میں پھسل کر گر گیا اور دو مہینے ٹوٹی ٹانگ کے ساتھ ہسپتال میں رہا۔ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ کوئی ملنے کے لیے آنے والا نہ ہوتا جو اذیت میں مزید اضافہ کرتا…

کیا ہی شاہانہ اور ہیرے پیدا کیے ہیں ہماری مٹی نے۔ ابراہیم لالا جو کماتے ہیں ان سے زیادہ خرچ کرتے ہیں اپنوں اور پرایوں سب پر، سوات میں اور نیویارک میں۔ یہ ایک سلسلہ ہے جو اللہ پاک چلا رہے ہیں۔ اللہ ہمارے ملک کے ان حقیقی سفیروں کو آباد اور شاد رکھے۔ عابد بھائی اور بابا سے ان کی محبت میرے لیے بہت اچھا احساس پیدا کرتی ہے۔ مین ہٹن (Manhattan) میں کہیں گھومنے نکلے تو کہتے ہیں: "عابد شاہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے اس لیے اس کو میری طرف سے ایک اچھے قسم کے سن گلاسز (Sun glasses) گفٹ میں دے دینا”۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ ابراہیم لالا جانتے ہوئے کہ وہی سن گلاسز مین ہٹن سے تھوڑا پرے کر کے کسی شاپ سے سستے مل جاتے، لیکن کہتے ہیں: "یہیں مہنگی والی دکان سے خریدتا ہوں ورنہ کیسے پتا چلے گا کہ عابد شاہ سے میں کتنی محبت کرتا ہوں”۔

میں یہاں ان پشتونوں کی محبت کا تذکرہ کیے بغیر نہیں رہ سکتا جو سب کچھ خلوص کی بنیاد پر کرتے ہیں، نہ کسی لالچ کی بنیاد پر اور نہ ہی دکھاوے کی بنیاد پر۔ اللہ ابراہیم لالا کو خوش اور آباد رکھے، وہ نیویارک اور امریکہ میں پشتون کمیونٹی کے خاموش ہیرو ہیں۔ ابراہیم لالا کے ساتھ ڈاؤن ٹاؤن، ٹائمز اسکوائر، میڈیسن اسکوائر گارڈن دیکھنا، پھر آنا ان کے گھر ٹھہرنا اور پھر نیویارک میں نکل جانا ایک زبردست تجربہ رہا۔ جن کے لیے ہمیشہ دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔

مزید نیویارک میں کن سے ملے؟ او پی ایف (OPGF) کی بنیاد ڈالنے والے ظہیر اختر میر کون ہیں؟ ان پر ان شاءاللہ بات کریں گے اگلی قسط میں……….

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے