ویلنٹائن ڈے، محبت يا….

اب اہلِ مغرب کی طرح مسلمانوں کو بھی محبت کرنا آ گیا ہے، محبت کا دن منانا آ گیا ہے۔ کیا 14 فروری کو مسلمان نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی محبت کا دن منائیں گے؟ محبت کے جذبے سے سرشار ہو کر ویلنٹائن ڈے منائیں گے؟ ویلنٹائن کارڈ، غبارے یا چاکلیٹ سے بنے مصنوعی سرخ دل اور سرخ پھولوں کے تحائف کا تبادلہ کر کے مصنوعی محبت کا اظہار کریں گے اور محبت کا مذاق اڑائیں گے؟

محبت ایک پاکیزہ انسانی جذبہ ہے جو انسان کے دل میں جنم لیتا ہے، لیکن اہلِ مغرب نے محبت کے اس جذبے کو بھی مصنوعیت کا رنگ دے دیا ہے۔ اب ان کی یہ مصنوعی محبت، مصنوعی دلوں اور تحفوں کی محتاج ہو چکی ہے، جو سال میں صرف ایک بار جاگتی ہے۔ یہ بے حیائی کی کھلی اجازت دیتی ہے، نفرت، حسد اور احساسِ کمتری کو جنم دیتی ہے، اور عورت و مرد کی ناجائز رومانوی ملاقاتوں (ڈیٹس) کو فروغ دیتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس دن رقص، موسیقی، شراب نوشی اور بدکاری کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے۔ دوسروں کی بہنوں، بہوؤں اور بیٹیوں کی عزت کو خطرے میں ڈالا جاتا ہے اور نوجوان لڑکیوں کو شادی سے پہلے تعلقات کی طرف مائل کیا جاتا ہے۔ گویا اسی دن عشق و محبت کے سارے بخارات نکالے جاتے ہیں۔

اس کے باوجود آج اکثر مسلم ممالک میں ویلنٹائن ڈے منایا جاتا ہے اور اسلامی تعلیمات کا سرِعام مذاق اڑایا جاتا ہے۔ اسلامی معاشروں میں بھی نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا آزادانہ میل جول اور مصنوعی سرخ دل، سرخ پھول یا دل نما چاکلیٹ کے ذریعے محبت کا اظہار اس دن کا لازمی جز سمجھا جانے لگا ہے۔

محبت کے اظہار کا یہ طریقہ اسلام میں پسندیدہ نہیں، کیونکہ نامحرم مرد اور عورت کے درمیان خفیہ دوستی اور ناجائز تعلقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:

“اور پاک دامن مسلمان عورتیں اور تم سے پہلے کتاب دیے گئے لوگوں کی پاک دامن عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں، جب تم ان کے مہر ادا کرو اور باقاعدہ نکاح کرو، نہ کہ علانیہ زنا کرو یا پوشیدہ بدکاری اختیار کرو۔”
(سورۃ المائدہ: آیت 5)

کیا ویلنٹائن ڈے میں شہوت پرستی اور خفیہ دوستی شامل نہیں ہوتیں؟ کیا کوئی مسلمان اتنا بے غیرت ہو سکتا ہے کہ اپنی بہن، بیٹی یا بیوی کو خفیہ دوستی کی اجازت دے؟ یا خود ایسی عورت سے شادی کرنا پسند کرے جو خفیہ تعلقات رکھتی ہو؟

اسلام میں نکاح ایک خوبصورت بندھن ہے جس میں محبت موسمی یا وقتی جذبہ نہیں ہوتی۔ یہ مال و جاہ یا ظاہری خوبصورتی پر منحصر نہیں، بلکہ ایک پُرسکون رشتہ ہے جس کی بنیاد باہمی محبت، رحمت اور احساسِ ذمہ داری پر ہوتی ہے۔ ان عناصر کے بغیر محبت قائم نہیں رہ سکتی۔

14 فروری کو غباروں یا چاکلیٹ سے بنے مصنوعی دل یا پھول دلوں میں سچی محبت پیدا نہیں کر سکتے۔ ایسی محبت غبارے کی طرح ہوتی ہے، جس میں مصنوعی ہوا بھری جائے اور وہ آسانی سے نکل جائے۔

محبت تو وہ ہے جو اللہ ہمارے دلوں میں پیدا کرتا ہے۔ محبت مومن کے ایمان کی نشانی ہے، اور اسے محبت پیدا کرنے والے خالق نے ہی بیان فرمایا ہے:
“ایمان والے سب سے بڑھ کر اللہ سے محبت کرتے ہیں۔”

قصور ہمارا ہے کہ ہم نے اپنے نوجوانوں کے دلوں میں اپنے خالق، مالک اور رب سے سچی محبت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کیا ہمارے دلوں میں اللہ کی محبت اتنی گہری ہے کہ اس کے مقابلے میں کوئی اور محبت غالب نہ آئے؟ کیا ہم رسول اللہ ﷺ کو اپنا آئیڈیل مانتے ہوئے ان سے اس درجے کی محبت کرتے ہیں جس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا:
“قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھ سے اپنے باپ، اپنی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبت نہ کرے۔”

مصنوعی محبت کا ڈھونگ رچا کر ویلنٹائن ڈے منانے والوں کے لیے سوچنے کا مقام ہے کہ مسلمانوں کو محبت کے اظہار کے لیے دو تہوار عطا کیے گئے ہیں: عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ۔ عیدالفطر رمضان کے بعد خوشی کے طور پر منائی جاتی ہے، اور عیدالاضحیٰ میں مسلمان قربانی دے کر اس جذبے کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے لیے اپنی ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہیں۔ یہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے، جنہوں نے اللہ کے حکم پر اپنی محبوب ترین چیز، اپنے بیٹے کو قربان کرنے کا عزم کیا۔

اگر ہم اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کرتے ہیں تو ہمیں اپنی ناجائز اور اسلام کے منافی خواہشات کی قربانی دینی ہوگی۔ ویلنٹائن ڈے کا بائیکاٹ کرنا ہوگا اور اسلامی معاشرے کو ان غیر اسلامی رسومات سے محفوظ رکھنا ہوگا۔

اے اللہ! ہمیں اپنے نبی اکرم ﷺ سے اپنے باپ، اپنی اولاد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبت کرنے والا بنا دے، اور اس محبت کے اظہار کے لیے آپ ﷺ کی اطاعت نصیب فرما۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے