محبت کا عالمی دن ابھی منایا گیا ہے۔اس دن کو دنیا بھر میں سیلیبریٹ کیا جاتا ہے۔ محبت ایک خوب صورت احساس ہے۔جس کی خوشبو سے انسان کی زندگی معطر ہوجاتی ہے۔یہاں ہم اس محبت کا ذکر کررہے ہیں جو ایک لڑکے اور لڑکی کی محبت ہے ورنہ تو جس سے بھی محبت کے بارے میں پوچھو تو اسکا یہی جواب ہوتا ہے کہ جی مجھے اپنے ملک سے محبت ہے وغیرہ وغیرہ۔
دوستو پیار٬ محبت عشق وغیرہ جو بھی کرتا ہے دنیا والوں کی نظر میں بے وقوف کہلاتا ہے جبکہ یہی بے وقوف مریض جسے عشق وشق پیار ویار ہوتا ہے وہ دنیا والوں کو حقیر سمجھتا ہے۔
حسرت موہانی فرماتے ہیں کہ
خرد کا نام جنوں پڑگیا جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے
محبت کا ٹرینڈ ختم نہیں ہوسکتا۔ یہ بدلتا تو ہے مگر محبت کرنے والے ہر دور میں زندہ رہتے ہیں۔اب چاہے یہ محبت چند روزہ ہی کیوں نہ ہو آپ کو پکنک پوائنٹ شاپنگ مال ،لمکا یا پانی پوری کے ٹھیلوں پر یہ محبت کرنے والے مل جائیں گے۔سوشل میڈیا کے بعد لوگ آزاد خیال بھی ہورہے ہیں یا بگڑ رہے ہیں بہرحال محبت کے لیے وقت نکالنا بہت ضروری ہے۔ خاص کر ان لوگوں کے لیے جو اپنی زندگی کے کاموں میں اس قدر الجھ گئے ہیں کہ ان کو اپنی گھر والی سے پیار محبت کرنے کا وقت ہی نہیں ملتا۔ ایک عورت نے شکایت کی کہ کیا کروں بہن کبھی سچا پیار نہیں ملا حالاں کہ اس خاتون کو ایک درجن بچوں کی ماں ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔
بات دراصل یہ ہے کہ عورت کو پیار اور احساس کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے ۔یہ قدرتی بات ہے کہ مرد کے مقابلے میں عورت کے احساسات مختلف ہیں۔ وہ چاہتی ہے کہ اس کی بات کو سنا جائے۔ اس کی تعریف کی جائے۔اس کی قدر کی جائے۔ اس کا احترام کیا جائے اور اسے عزت دی جائے۔ عورت رومینس کو پسند کرتی ہے جبکہ مرد حضرات رومینس کو کسی اور طرف لے جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے ملک کی آبادی اور بڑھ جاتی ہے۔انور مقصود صاحب نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ اگر ڈرامے اچھے بنائے جائیں تو آبادی بھی کم بڑھے۔
ڈراموں سے یاد آیا کہ ہمارے ہاں جو ڈرامے بنائے جاتے ہیں ان میں یونیورسٹی اور درسگاہوں کا ایسا ماحول دکھایا جاتا ہے کہ جیسے وہ پڑھتے کم اور ڈیٹنگ کرنے زیادہ جاتے ہیں خیر محبت کے عالمی دن پر بات ہورہی تھی تو بھیا بات یہ ہے کہ محبت کو ایک دن نہیں روز ہی سیلیبرٹ کرنا چاہیے۔ کیا آپ روز اسی طرح محبت کرسکتے ہیں جس طرح آپ نے پہلے دن اپنی محبت کا اظہار کیا تھا۔اگر آپ وقت کی رفتار کے ساتھ کوئی بہانہ یا کوئی ایسکیوز بنانے لگےہیں تو آپ کو چاہیے کہ آپ کچھ دیر کے لیے اپنے ویلینٹائن کو دنیا سے چھپا کر کہیں دور لے جائیں۔خاص کر اسے کچھ دیر اپنے بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ اس کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر کسی پکنک پوائنٹ یا سی ویو پر لے جائیں اور اس کی ڈھیر ساری باتیں سنیں۔ اس سے پیار کی وہ باتیں کریں جو شاید آپ نے اپنے آفس کی فائلوں کو تلاش کرنے کے چکر میں کئی سال سے نہیں کی ہیں۔ اسےیاد دلائیں کہ محبت صرف جسمانی تعلق نہیں ہے یہ روح کا رشتہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا ۔
عورتوں کی ڈیمانڈ اپنی جگہ مگر محبت سے دیا ہوا ایک گلاب کا پھول بھی انھیں آپ کا دیوانہ بناسکتا ہے ۔
ایک بڑا دلچسپ قصہ جو شبانہ اعظمی نے سنایا تھا وہ کہتی ہیں کہ ایک دن جاوید اختر جو ان کے شوہر اور معروف شاعر ہیں نے اپنی کار ایک پھولوں کی دکان پر روک لی اور شبانہ جی کے لیے پوری کار خوبصورت پھولوں سے بھر دی۔آپ بھی اپنے ویلنٹائن یا جو آپ کی بیگم ہیں ان کے لیے ذرا فلمی انداز اپنائیں۔ شاہ رخ خان کی طرح اپنی بانہوں کو پھیلائیں۔ کبھی کوئی فلم ساتھ دیکھ لیں اور ہاں یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ جاوید صاحب کی طرح پھولوں کی دکان ہی گھر پر لے آئیں۔پیار اور خلوص سے دیا گیا ایک گلاب کا پھول بھی آپ کے ویلنٹائن کو آپ کا دیوانہ بنا سکتا ہے۔ کالم کے آخر میں وہ اشعار جو جاوید اختر نے شبانہ اعظمی کے لیے کہے ہیں۔
کھتئی آنکھوں والی اک لڑکی
ایک ہی بات پر بگڑتی ہے
تم مجھے کیوں نہیں ملے پہلے
روز یہ کہ کر مجھ سے لڑتی ہے
چہرے پر ہیں نرم اجالے
بالوں میں کالی راتیں
ہنس دے وہ تو موتی برسیں
پھولوں جیسی ہیں باتیں
مجھ کو تم سے پیار نہیں ہے
روٹھ کے مجھ سے کہتی ہے
لیکن ہر کاغذ پر میرا
نام وہ لکھتی رہتی ہے
میں بھی اس کا دیوانہ ہوں
کیسے اس کو سمجھاؤں
مجھ سے ملنا چھوڑ دے وہ تو
میں اک دن میں مرجاؤں
کتھئی آنکھوں والی ایک لڑکی