تمہارا خط ملا۔ آج کے زمانے میں خط کا ذکر کچھ عجیب لگتا ہے لیکن ہم دونوں عجیب ہی تو ہیں، خود کو تباہ بھی کر لیا اور ملال بھی نہیں۔ تمہارے اِن فقروں نے دل چیر کر رکھ دیا کہ میں یہ خط تمہیں تجدید محبت کیلئے نہیں لکھ رہی اور نہ ہی مجھے اِس کی کوئی امید یا آرزو ہے اور تم نے لکھا کہ اگر میرا جواب آیا تو تم پتھر کی ہو جاؤ گی۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ تمہارا خط ملتا اور میں جواب نہ لکھتا؟ تمہارے لکھے ہوئے الفاظ میں تمہارا چہرہ دکھائی دے رہا تھا، اُن الفاظ کو پڑھتے ہوئے یوں لگ رہا تھا جیسے میری دیوارِ جاں ٹوٹ رہی ہو اور میں اپنی ہستی بھول رہا ہوں۔ ایک مرتبہ پھر، مجھے یوں لگا جیسے میں ہم دونوں جنیوا کی جھیل کے کنارے بیٹھے ہیں اور ڈوبتے سورج کا نظارہ کر رہے ہیں، وہی ڈوبتا سورج جس نے ہمیں ملایا تھا۔
آج جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں تو یہاں تمہارے شہر میں وہی دھندلی سی شام ہے جو تمہیں بہت پسند تھی۔ یاد ہے؟ جب ہم سردیوں میں یونہی ریلوے اسٹیشن کی جانب نکل جایا کرتے تھے تو تم کہتی تھیں کہ کاف، یہ تو مجھے مشرقی یورپ کے کسی پرانے اسٹیشن سے بھی زیادہ رومانوی لگتا ہے۔ تم چلی گئیں تو تمہارا شہر، دریا اور اسٹیشن، سب ایسے ویران ہو گئے جیسے کسی میلے کے بعد میدان خالی ہو جاتا ہے۔ تم نے ائیرپورٹ والی رات کا ذکر کیا۔ تم نے لکھا کہ میری بے چینی چھپائے نہیں چھپ رہی تھی، تم نے ٹھیک کہا تھا، میں ائیرپورٹ سے واپسی پر پورا راستہ اندازے سے گاڑی ڈرائیو کرتا رہا، مجھے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا سوائے اُس لمحے کے جب تم نے امیگریشن کے دروازے سے گزرنے سے پہلے، آخری بار مجھے مڑ کر دیکھا اور ہاتھ ہلایا تھا۔ تم نے جنیوا کے اپارٹمنٹ، کھڑکی، پہاڑ اور کافی کا ذکر کیا ہے۔ تمہیں یاد ہے کہ تم کہا کرتی تھیںکہ ہمارا اپارٹمنٹ ایسا ہوگا کہ جسکے سامنے برف سے ڈھکے پہاڑ ہوں اور نیچے ندی بہہ رہی ہو۔ بالآخر تمہارا خواب پورا ہو گیا۔
تمہارے پاس برف بھی ہے، پہاڑ بھی اور جھیل بھی۔ بس ایک ”کاف“ نہیں ہے اور شاید اب تمہیں کاف کی ضرورت بھی نہیں رہی۔ تمہارا یہ کہنا کہ آٹھ ارب لوگوں میں صرف میں ایک شخص تھا تمہاری زندگی میں… یہ جملہ پڑھ کر میں کتنی دیر تک مسکراتا رہا، آٹھ ارب لوگ۔ میں روزانہ سڑکوں پر ہزاروں چہرے دیکھتا ہوں، ٹریفک کے شور میں، دفتر کی لفٹ میں، بازاروں کی بھیڑ میں۔ ہر چہرہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے مگر ہر چہرے میں مجھے تمہاری کوئی نہ کوئی جھلک ڈھونڈنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔ کسی کے چلنے کا انداز تم جیسا ہے، کسی کے بالوں کا رنگ تمہارےبالوں جیسا ہے، کسی کی ہنسی تمہاری ہنسی کی نقل لگتی ہے۔ لیکن وہ ”تم“ نہیں ہوتیں۔
تم نے تعلق ختم ہونے یا دوری بڑھنے کا شکوہ کیا ہے۔ ٹھیک کیا۔ شاید میری ہی غلطی ہو گی، مگر یہ پیش گوئی تو میں نے یہیں کر دی تھی کہ جس دن تم جنیوا جاؤ گی ہمارا تعلق دھیرے دھیرے کم ہو کر ختم ہو جائیگا، اور تم ہمیشہ اِس بات سے اختلاف کرتی تھیں۔ لیکن ایسا ہی ہوا، جنیوا میں تمہارے شب و روز مصروف ہوتے گئے اور یہاں میرے دن رات غمِ روز گار میں گم ہوتے گئے۔ تمہاری صبح میری رات تھی اور میری رات تمہاری صبح۔ اب بھی میں اکثر اُسی پرانی جگہ جاتا ہوں جہاں ہم چائے پیا کرتے تھے، ”پٹھان کا ہوٹل“ اب بھی وہیں ہے، اُس کی چائے میں اب بھی وہی ذائقہ ہے، مگر اب کوئی اُس چائے کی بھاپ سے گاڑی کے شیشے پر میرا نام نہیں لکھتا۔ کبھی کبھی مجھے وہم ہوتا ہے کہ ابھی ایک گاڑی ساتھ آ کر رکے گی، تم اُس میں سے اترو گی اور اپنی اسی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھ کر ہاتھ ہلاؤ گی۔ میں چونک کر دیکھتا ہوں تو کوئی اور ہوتا ہے۔
جب میں یہ سوچتا ہوں کہ تمہارے ساتھ گزارے ہوئے لمحے اب ماضی کا حصہ ہیں تو یقین نہیں آتا، اُن لمحوں کی یادیں صدیوں پر محیط ہیں، کبھی کسی پہاڑ کے دامن میں بیٹھ کر گنگنانا تو کبھی کسی جھیل کنارے چہل قدمی کرنا،کبھی سردیوں کی دھوپ میں دریا کی جانب نکل پڑنا تو کبھی کسی بھیگی شام میں ڈرائیونگ کرنا۔ ہر موسم، ہر رنگ، ہر گھڑی ہمیں یاد ہے۔ اگر کبھی میں جنیوا آیا تو شاید کچھ پل تمہارے ساتھ بتِانے کو مِل جائیں، مگر نہ جانے اب وہ بات ہوگی یا نہیں۔ جو کچھ میں لکھ رہا ہوں اِس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے کوئی پچھتاوا ہے، ہم نے جتنا بھی وقت گزارا وہ ناقابل یقین تھا، اِس لیے پچھتاوے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بس کبھی ایک خلش سی دل میں اٹھتی ہے کہ اگر یوں ہوتا تو کیا ہوتا اور یوں نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔ اِس سوال کا جواب کوئی نہیں جانتا، ممکنات لا متناہی ہو سکتے ہیں۔ بات کچھ فلسفیانہ ہو گئی اور میں جانتا ہوں تمہیں فلسفے سے زیادہ دلچسپی نہیں، لیکن کیا کروں بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر۔
مجھے معلوم نہیں کہ میں اِس خط میں کیا کہنا چاہتا ہوں، دکھ کا اظہار ہے یا تجدید تعلق کی درخواست۔ یہ بھی علم نہیں کہ اِن خطوط کو لکھنے سے ہمیں کیا حاصل ہوگا، لیکن چاہت میں دنیا داری اور نفع نقصان کہاں دیکھا جاتا ہے۔ بس اتنی مہربانی کرنا کہ میرا یہ نام کاف اب کسی اور کو مت دینا۔ اتنا تو تم کر ہی سکتی ہو؟
فقط، تمہارا ماضی، تمہارا کاف۔
بشکریہ جنگ