پاکستان میں قومی حکومت کی بازگشت، مگر کیسے؟

پاکستان کی سیاست ایک بار پھر اُس موڑ پر آ پہنچی ہے جہاں ”قومی حکومت“ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اقتدار کی راہداریوں سے لے کر عوامی مباحثوں تک، یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا موجودہ سیاسی انتشار، معاشی غیر یقینی، اور گورننس کے بحران سے نکلنے کے لیے کوئی ایسی ہمہ گیر جماعتی حکومت ممکن ہے جو سیاست سے زیادہ ریاست کے استحکام کو ترجیح دے؟ مگر اصل سوال یہ نہیں کہ قومی حکومت ضروری ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایسی حکومت ممکن کیسے ہوگی، اور کس آئینی، سیاسی یا اخلاقی بنیاد پر اسے قائم کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں قومی حکومت کا تصور نیا نہیں۔ ماضی میں مختلف ادوار میں اس خیال کو مختلف ناموں سے دہرایا جاتا رہا کبھی ”اتحادِ ملی“، کبھی ”چارٹر آف ڈیموکریسی“، اور کبھی ”وسیع البنیاد حکومت“۔ لیکن ہر بار عملی مشکلات اور سیاسی مفادات نے اس خواب کو حقیقت بننے نہ دیا۔ موجودہ حالات میں یہ نعرہ ایک بار پھر زور پکڑ رہا ہے کیونکہ سیاسی جماعتوں کے مابین اعتماد کی فضا تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ ایک طرف معیشت کا بوجھ ہے جو ہر حکومت کے کندھوں کو جھکا دیتا ہے، دوسری جانب عوام کہ جن کا صبر سیاسی کھینچا تانی کے بوجھ تلے دم توڑتا محسوس ہو رہا ہے۔قومی حکومت کے حق میں سب سے بڑی دلیل یہی دی جا رہی ہے کہ ملک کو وقتی ترجیحات سے اوپر اٹھا کر ایک قومی ایجنڈے پر متفق قیادت کی ضرورت ہے۔ اگر تمام بڑی سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر اصلاحات، معیشت، اور ادارہ جاتی استحکام پر اتفاق کر لیں تو شاید بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ نکل سکے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسا اتفاق کس بنیاد پر ہوگا؟ پاکستان کی عملی سیاست میں اقتدار کی تقسیم ہمیشہ تنازع کا باعث رہی ہے؛ یہاں تک کہ عارضی سیٹ ایڈجسٹمنٹ بھی طوفان برپا کر دیتی ہے۔ ایسے میں قومی حکومت کی تشکیل کے لیے لازمی ہے کہ تمام فریق اپنی انا کے خول سے باہر نکلیں جو کہ ہماری سیاسی ثقافت میں سب سے مشکل مرحلہ ہے۔

ایک اور پہلو آئینی نوعیت کا ہے۔ پاکستان کا آئین پارلیمانی جمہوریت پر استوار ہے، جہاں حکومت اکثریت کے ووٹ سے بنتی ہے۔ قومی حکومت، جیسا کہ تصور میں بیان کی جاتی ہے، عملاً اتحادی حکومت ہی کی ایک توسیع ہے، لیکن اگر یہ کسی“اوپر سے دیے گئے فارمولے”کے تحت بنائی جائے، تو پھر جمہوریت کی روح متاثر ہوتی ہے۔ ماضی میں“ٹیکنوکریٹ”یا“عارضی سیٹ اپ”کے نام پر بننے والے تجربات کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی تاثر میں قومی حکومت کا تصور اکثر ایک غیر فطری حل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو وقتی سکون تو دے سکتا ہے مگر سیاسی روایت کو کمزور کر دیتا ہے۔تاہم، جو لوگ قومی حکومت کے حامی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات معمول کے سیاسی عمل سے قابو میں نہیں آ رہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، کرنسی کی گراوٹ، اور ریاستی اداروں کے درمیان اعتماد کے فقدان نے ایک ایسا بحران پیدا کیا ہے جس سے نکلنے کے لیے وسیع البنیاد مشاورت درکار ہے۔ ان کے نزدیک، قومی حکومت ایک ”ری سٹ آرڈر“ کا کردار ادا کر سکتی ہے، جو اقتدار کی کشمکش کو وقتی طور پر روک دے اور اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں سیاسی درجہ حرارت ہمیشہ بلند رہتا ہے، اتحادیوں کے درمیان بھی مفاہمت عارضی ثابت ہوتی ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت مستقل طور پر مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کے لیے تیار نہیں رہتی۔ اس لیے قومی حکومت کا قیام اس وقت تک ایک خوشگوار نعرہ تو بن سکتا ہے لیکن عملی امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ پھر بھی، اگر جمہوری ادارے، فوج، عدلیہ، کاروباری طبقات، اور سیاسی جماعتیں مشترکہ طور پر“ریاست کے مفاد”کے نام پر روڈ میپ بنائیں، تو شاید ایک محدود مدت کی“قومی اتفاقِ رائے حکومت”قائم ہو سکتی ہے۔ لیکن سوال پھر وہی رہتا ہے: یہ کب اور کیسے ممکن ہوگا؟قومی حکومت کے مخالفین یہ دلیل دیتے ہیں کہ ایسا کوئی بھی ماڈل سیاسی جماعتوں کو جواب دہی سے آزاد کر دیتا ہے۔

جب تمام فریق اقتدار میں شامل ہوں، تو ناکامی کا ذمہ دار کون ٹھہرے؟ جمہوریت میں حزبِ اختلاف کا ایک بنیادی کردار ہوتا ہے اور اگر وہی حزبِ اختلاف حکومت میں شامل ہو جائے تو عوام کے حقوق کی نمائندگی کون کرے گا؟ اس لیے بعض ماہرین کے نزدیک قومی حکومت کا قیام دراصل سیاست کے فطری توازن کو بگاڑنے کے مترادف ہے۔

ان تمام دلائل کے باوجود یہ سچ ہے کہ پاکستان کو اس وقت ایک بڑے قومی اتفاق کی ضرورت ہے۔ چاہے وہ قومی حکومت کی شکل میں ہو، یا کسی گرینڈ ڈائیلاگ کے ذریعے، لیکن سیاسی استحکام کے بغیر کوئی بھی معاشی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ قومی حکومت کا نعرہ محض ایک سیاسی نعرہ نہ بن جائے، بلکہ اسے حقیقی معنوں میں ایک“نیا عمرانی معاہدہ”سمجھ کر آگے بڑھایا جائے، تو شاید ملک کا سیاسی درجہ حرارت کم اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔فی الحال یہ بات واضح ہے کہ قومی حکومت کے امکانات سے زیادہ سوالات موجود ہیں۔ کسی بھی ماڈل کو کامیاب بنانے کے لیے سیاسی بالغ نظری، آئینی شفافیت، اور ریاستی اداروں کی غیر جانبداری لازمی شرائط ہیں۔ بصورتِ دیگر، قومی حکومت محض ایک سیاسی اُس امید کی طرح رہے گی جو ہر بحران میں سر اُٹھاتی ہے، لیکن کبھی اپنا وجود ثابت نہیں کر پاتی۔

*مصنف سیاسی و سماجی امور پر لکھتے ہیں اور کالمسٹ کونسل آف پاکستان (سی سی پی) کے مرکزی صدرکے طورپرذمہ داریاں نبھا رہے ہیں *

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے