امریکہ ڈائری: قسط نمبر 11

امریکہ میں موجود ایک صاحب دل پاکستانی کے احوال اور عزائم

نیویارک سے لگاؤ محض شاندار عمارتوں یا اس کی عالمی شہرت کی وجہ سے نہیں بلکہ کچھ ایسے لوگوں کی وجہ سے بھی ہے جو کہ مجھے دلی طور پر اچھے لگتے ہیں۔ ان میں ایک نام ظہیر اختر مہر کا ہے۔

میں ڈلاس میں تھا تو ان کی کال آئی۔ بہت خوشی ہوئی مگر ملاقات نہ ہو پائی۔ اگلی مرتبہ اللہ نے ایسا ترتیب بنایا کہ جانے انجانے میں ایک اور دوست کے ذریعے ظہیر بھائی سے ملاقات ہوگئی۔ لمبے قد کاٹھ کے ایک ملنگ اور مہمان نواز شخصیت۔ نہ دکھاوا نہ لالچ، بس پرانے پنجاب کی مہمان نواز شخصیت۔ ہر وقت مہمانوں کی آمد اور ان کی بے لوث خدمت، یہی ہے ظہیر اختر مہر کی زندگی۔

بیٹا پی ایچ ڈی کر چکا کینسر ریسرچ میں اور کینیڈا رہتا ہے اپنی والدہ کے ساتھ۔ ظہیر اختر مہر جیکسن ہائٹس کی پہچان ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ظہیر بھائی نے ایک ایسا اربوں کھربوں بلکہ بیش قیمت آئیڈیا دیا ہے کہ اگر پاکستانی اوورسیز ان کے ساتھ مل جائیں تو یقین جانیے یہ آئیڈیا ہمارے ملک کی قسمت بدل سکتا ہے۔ مجھے اوورسیز پاکستانیوں میں ظہیر اختر مہر کا آئیڈیا سب سے زیادہ متاثر کن لگا۔

مجھے جب پتا چلا کہ ظہیر اختر مہر جیسے سادہ لوح آدمی نے اوورسیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن (OPGF) کی بنیاد رکھی ہے، تو ان کی گاڑیوں کی ورکشاپ میں چند لمحوں کے لیے ہکا بکا رہ گیا۔ ویسے تو پاکستانیوں نے بہت سارے ادارے قائم کیے ہیں لیکن OPGF کیوں اہم ہے؟اوورسیز پاکستانیز گلوبل فاؤنڈیشن (OPGF) ایک غیر سرکاری، غیر سیاسی اور غیر مذہبی تنظیم ہے جو بیرون ملک مقیم پاکستانی شہریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ اور ان کی ترقی کے لیے وقف ہے۔ نیویارک میں قائم یہ ادارہ افریقہ، مشرق وسطیٰ، یورپ، کینیڈا اور ایشیا پیسیفک کے خطوں تک پھیلا ہوا ہے۔ ہمارا مشن دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کی آواز بننا، ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور عالمی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف کروانا ہے۔

ظہیر بھائی نے اس ادارے کو نیویارک میں وہاں کے قانون کے مطابق رجسٹر کروایا، پھر ملکوں ملکوں اپنے دوستوں، بھائیوں، رشتہ داروں، تعلق داروں اور اپنے پرائے سب کو شامل کر کے اس کو دنیا بھر میں پھیلا دیا۔ آپ افریقہ، یورپ، مڈل ایسٹ، ایشیا پیسیفک، فار ایسٹ ایشیا، سینٹرل ایشیا، جاپان، کینیڈا کہیں بھی جائیں OPGF کے نمائندے آپ کو ملتے نظر آئیں گے۔

ایک لمحے کے لیے سوچیں اس بندے کو کیا ضرورت پڑی تھی، کیا قیامت آئی تھی یہ سب کچھ کرنے کے لیے؟ میں گواہی دیتا ہوں یہ سب پاکستان کے لیے ہے۔ ہم پاکستان میں رہتے ہوئے لوگوں میں حب الوطنی کے سرٹیفکیٹس بانٹتے ہیں اور ایک شخص جو دل کا مریض ہو کر ہیرے کا دل لیے دنیا بھر میں پاکستانیوں کو اکٹھا کرنے میں لگا ہے۔

اچھی بات یہ ہے کہ جتنا ظہیر مخلص اور مہمان نواز ہے، اتنا ہی اللہ اسے مزید دیتا ہے۔ آج کل پنسلوانیا میں ایک بڑا سا ہوٹل، جس میں ڈھیر سارے کمرے اور اپارٹمنٹس ہیں، ظہیر بھائی نے خریدا ہے۔ ان کی گاڑیاں اور خالی جیب کے ساتھ بڑی بڑی ڈیلز اکثر بابا والی عادتیں یاد دلاتی تھیں۔ میں نے ان کے نیٹ ورک کے چھوٹے اپارٹمنٹس سے لے کر پنسلوانیا میں ان کے ہوٹل دونوں جگہ قیام کیا ہے۔

اکثر ایک لطیفہ سناتے ہیں کہ "کام کے لوگ تو رل گئے ہیں سڑکوں پہ”۔ اس لطیفے کا باقی ماندہ حصہ میں سنسر کرتا ہوں، البتہ یہ یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ کالم پڑھتے ہوئے اس حصے پہ وہ زور کا قہقہہ ضرور ماریں گے۔

پچھلے دو سالوں میں ظہیر بھائی نے OPGF کے کئی کنونشنز پاکستان اور اسپین میں کرائے جن میں بالخصوص پاکستانی فوج کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی غرض سے وہ پیش پیش رہے۔ مجھے کہتے ہیں "فوج کا نام سن کر ہاتھ خود ہی اٹھ کر ماتھے کی طرف چل پڑتا ہے سلوٹ مارنے کے لیے”۔ اپنے پیسوں پہ چل کر پاکستان آتے ہیں، ملنگوں کی طرح رہتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں کہ کاروبار ٹھپ نہ ہو جائے۔

ان کے ساتھ نیویارک کا کوئی کونا نہیں چھوڑا اور نہ پنسلوانیا کا۔ چلتے پھرتے گپ شپ اور بہت ساری قوالیاں سننے کا وقت بس ظہیر بھائی کے ساتھ ہی ہوتا ہے۔ ان کو رفاقت علی خان کی نعت سننے کا بہت لگاؤ ہے۔ میں اور ظہیر بھائی ان کے ٹرک میں بیٹھ کر بس چلتے رہتے ہیں، جدھر دل کیا نکل پڑے۔

پاکستانی اوورسیز کا ایک بات پہ اتفاق ہے کہ وہ اتفاق سے نہیں رہتے۔ ایک لمحہ سوچیے اگر 99 لاکھ پاکستانی ایک ادارے کے تحت آپس میں صلاح مشورے کے ساتھ پاکستان کی خدمت میں جڑ جائیں تو انقلاب برپا کر دیں، اور ان سب کے لیے OPGF جیسا ادارہ بہت ہی منظم ثابت ہو سکتا ہے۔

بہر حال کالم کو سمیٹتے ہوئے اتنا کہوں گا کہ اگر کسی شخص کو پرکھنا ہو تو اس کا وژن دیکھا جائے۔ ظہیر بھائی کی پنسلوانیا والی پراپرٹی میں ایک ندی بہتی ہے۔ پانی کا شور پیدا کرنے کے لیے ظہیر بھائی دور سے دریا کے پتھر اٹھا اٹھا کر لائے تاکہ مہمان آئیں تو ماحول بنا رہے۔

یاد رکھیے ہمیں ایسے ہیرے لوگ کم ہی ملیں گے۔ ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے۔ یہ پاکستان سے کچھ لینا نہیں، دینا چاہتے ہیں۔ اللہ ظہیر بھائی جیسے لوگوں کی ملک کی خدمت کو اسی طرح قائم رکھے اور ایسے لوگ سڑکوں میں کبھی نہ رلیں بلکہ اعلیٰ ترین اعزازات کے ساتھ عزت افزائی کے ساتھ روا رکھے جائیں۔

پاکستانی اوورسیز ہمارا اثاثہ ہیں۔ ہمیں ان کی قدر ہر حال میں کرنی ہے۔ بہت سارے اوورسیز پاکستانیز جو 70 یا 80 کی دہائی میں باہر آباد ہوئے ہیں، اب وہ 60 سے اوپر کی زندگی میں آخری دہائی جی رہے ہیں۔ ان کی اگلی نسل اس طرح سے پاکستان میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ ہمیں انہیں پرانے اوورسیز کے ذریعے پاکستان سے جوڑے رکھنا ہے، ورنہ ریمیٹنس (remittance) بھی کم ہوں گے اور ہم ان کو بھی کھو دیں گے اور ہم یہ ناقابل تلافی نقصان برداشت نہ کر پائیں گے۔

تمام تعریفیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے لیے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے