پاکستان کی مادری زبانوں کا گیارھواں سالانہ ادبی و ثقافتی میلہ اختتام پذیر

انڈس کلچر فورم کے زیرِ اہتمام پاکستان کی مادری زبانوں کا گیارھواں سالانہ ادبی و ثقافتی میلہ 13 فروری 2026 کو شام ساڑھے پانچ بجے پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس (پی این سی اے) اسلام آباد میں شروع ہوا اور 15 فروری 2026 کو رات نو بجے رنگا رنگ اور پروقار انداز میں اختتام پذیر ہوا۔

یہ سہ روزہ میلہ اس عزم کے ساتھ منعقد کیا گیا کہ پاکستان کی تمام مادری زبانوں اور ثقافتوں کو فروغ دیا جائے اور ان کے ادیبوں اور فنکاروں کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔ تین دنوں تک جاری رہنے والی اس تقریب میں ملک بھر سے شعرا، ادبا، دانشوروں، فنکاروں، طلبہ اور ثقافتی شخصیات نے بھرپور شرکت کی۔

لائف اچیومنٹ ایوارڈ تقریب

میلے کے پہلے روز مختلف پاکستانی زبانوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز ادبی شخصیات کو لائف اچیومنٹ ایوارڈز سے نوازا گیا۔ اس پروقار تقریب میں سابق وفاقی وزیر تعلیم مدد علی سندھی، وفاقی وزیر ثقافت و قومی ورثہ اورنگزیب کھچی، چیئرپرسن اکادمی ادبیات پاکستان پروفیسر ڈاکٹر نجیبہ عارف، صدر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ڈاکٹر احمد سعد نصیر الاحمد، ڈائریکٹر جنرل پی این سی اے محمد ایوب جمالی، یونیسکو کے نمائندہ ڈاکٹر فیوڈ پشایو اور فرحت اللہ بابر سمیت دیگر معزز شخصیات شریک تھیں۔

پنجابی، بلوچی، سندھی، بروہی، پھاڑی، گوجری، سرائیکی، ہندکو، پوٹھوہاری، گھوربتی اور پشتو زبانوں کی نمایاں شخصیات کو ان کی طویل ادبی خدمات کے اعتراف میں ایوارڈز دیے گئے۔

پشتو زبان کے ممتاز شاعر و دانشور ڈاکٹر محمد ہمایوں ہما بیماری کے باعث تقریب میں شریک نہ ہو سکے، تاہم ان کا ایوارڈ ان کی نمائندگی میں وصول کیا گیا اور ان کا صوتی پیغام بھی حاضرین کو سنایا گیا۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ساٹھ سالہ ادبی زندگی میں انہیں بے شمار اعزازات ملے، مگر انڈس کلچر فورم کا یہ ایوارڈ ان کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ مادری زبانوں کی خدمت کے اعتراف میں دیا گیا ہے۔

میلے کے اختتامی تقریب کا باضابطہ آغاز نوجوان گلوکار سدیس درمان نے خیبر پختونخوا کے دور دراز علاقے کلکوٹی میں بولی جانے والی زبان کے پہلے شاعر محمد زادہ کے کلام سے کیا، جو ایف ایل آئی کے تعاون سے پیش کیا گیا۔
بعد ازاں اسفندیار خٹک نے کلاسیکی خٹک رقص کو خوشحال خان خٹک کے کلام کے ساتھ پیش کیا اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ قائداعظم یونیورسٹی کے طلبہ نے روایتی پشتون اتنڑ پیش کیا، جس سے ہال ثقافتی رنگوں سے بھر گیا۔

اختر چنال نے بلوچی اور بروہی زبانوں میں کلام پیش کیا، اکبر خمیسو نے سندھی شاعری سنائی جبکہ نسیم علی صدیقی نے پوٹھوہاری، سرائیکی، پشتو اور اردو زبانوں میں اپنا کلام پیش کرکے سامعین کو محظوظ کیا۔

تقریب کی نظامت انڈس کلچر فورم کے بانی رکن اور سابق سیکرٹری منور حسن اور چیئرمین نصیر میمن نے نہایت شائستگی سے انجام دی۔

منتظمین کے خیالات

انڈس کلچر فورم کی سیکرٹری ڈاکٹر عظمیٰ نے کہا کہ فورم کے اراکین دن رات محنت کرکے پاکستان کی مادری زبانوں اور ثقافتوں کو فروغ دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس کاوش کو محبت پر مبنی ایک عظیم کام قرار دیا۔
چیئرمین نصیر میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سال عوام کی غیر معمولی دلچسپی کے باعث اضافی نشستوں کا انتظام کرنا پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ تین دنوں میں کم از کم بیس زبانیں سننے کو ملیں، جو پاکستان کی لسانی تنوع کی خوبصورتی کو ظاہر کرتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کلکوٹی اور دومیولی زبانوں میں پہلی مرتبہ کتابیں شائع ہوئی ہیں، جو ایک اہم پیش رفت ہے۔ انہوں نے ایف ایل آئی، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی، ہائر ایجوکیشن کمیشن اور دیگر اداروں و رضاکاروں کا شکریہ ادا کیا۔

علمی نشستیں اور مکالمہ

میلے کے دوران تقریباً تیس علمی نشستیں منعقد ہوئیں جن میں دو سو سے زائد شعرا، ادبا اور دانشوروں نے شرکت کی۔ قریباً اسی کتابوں کی رونمائی بھی کی گئی۔

مختلف موضوعات پر ہونے والے مکالموں میں مادری زبانوں کے تحفظ، فروغ، نصاب میں شمولیت اور قومی سطح پر شناخت جیسے اہم امور پر گفتگو کی گئی۔

15 فروری کو ممتاز دانشور ڈاکٹر خادم حسین اور رکن صوبائی اسمبلی خیبر پختونخوا نثار باز خان خصوصی طور پر اسلام آباد پہنچے اور مادری زبانوں کے فروغ کے حوالے سے مکالمے میں حصہ لیا۔ ڈاکٹر خادم حسین نے تجویز دی کہ وفاقی سطح پر تمام پاکستانی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔

ممتاز دانشور میڈم کلثوم زیب بائیں ہاتھ پر پلستر کے باوجود میلے میں شریک ہوئیں اور دو نشستوں میں اظہارِ خیال کیا، جو ان کے عزم کی واضح مثال تھی۔

اختتامی تقریب میں ڈائریکٹر جنرل پی این سی اے محمد ایوب جمالی نے کہا کہ وہ تقریروں کے بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں اور مادری زبانوں اور ثقافتوں کے فروغ کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے۔

یوں محبت، رواداری، رنگوں اور ثقافتی ہم آہنگی سے بھرپور یہ ادبی و ثقافتی میلہ 15 فروری 2026 کو رات نو بجے اختتام پذیر ہوا، جس نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان کی مادری زبانیں ہماری قومی شناخت اور ثقافتی ورثے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے