قرآنی شعورِ انقلاب اور مطالعہ رمضان

الحمدللہ! سالوں سے یہ معمول چلا آ رہا ہے کہ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ قرآن کریم کے مطالعہ، اس کے فہم و تدبر اور اس کے پیغام کی تہہ تک پہنچنے کی جستجو میں بسر ہوتا ہے۔ رمضان المبارک، دراصل صرف تلاوت کا مہینہ نہیں بلکہ شعور کی بیداری، فکر کی تطہیر اور روح کی تعمیر کا موسم بہار ہے۔

مجھ پر اللہ رب العزت کا کرم ہے کہ ہر سال اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی نئی تفسیر، کسی نئے زاویۂ فکر اور کسی نئے فکری چراغ سے آشنا فرماتا ہے۔اس سال بھی استقبال رمضان کا عمل شروع کیا ہے۔ اس سال عالم اسلام کے عظیم مفکر، مجاہد فکر، اور "امام انقلاب” حضرت مولانا عبید اللہ سندھی رحمۃ اللہ علیہ کے افکار پر مشتمل تالیف

"قرآنی شعور انقلاب” کو مطالعہ کے لئے مختص کیا ہے۔

یہ کتاب دراصل حضرت سندھی رحمہ اللہ کے ان قرآنی افکار کا مجموعہ ہے جنہیں شیخ بشیر احمد لدھیانوی اور غازی خدا بخش نے جمع و ترتیب دیا، جبکہ حضرت مولانا مفتی عبد الغنی قاسمی مدظلہ نے اس کی نظرثانی و تحقیق فرمائی۔ یہ قیمتی علمی سرمایہ دارالکتب، یوسف مارکیٹ، اردو بازار لاہور سے شائع ہوا ہے۔ چھ سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب بظاہر چند منتخب سورتوں کی تفسیر ہے، مگر حقیقت میں یہ قرآن کے انقلابی شعور کا ایک فکری نقشہ اور ایک بیدار ذہن کی فکری روداد ہے۔

کتاب کے آغاز میں خود حضرت مولانا عبید اللہ سندھی علیہ الرحمۃ کے تصدیقی کلمات شامل ہیں جو اس کتاب کی علمی حیثیت کو مزید مستند اور قابل اعتماد بنا دیتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں:

"ہم ۱۹۳۹ء میں واپس وطن پہنچے اس کے بعد جب کبھی لاہور آئے اور اپنے عزیزوں کی خاطر وہاں رہے، مولوی بشیر احمد صاحب بی۔ اے لدھیانوی ہم سے قرآن شریف سمجھنے کے لئے مسلسل ملتے رہے۔ وہ ہمارے افکار لکھتے بھی رہتے تھے۔ اس طرح انہوں نے کئی سو صفحات تیار کر لئے۔ انہوں نے قرآن عظیم کا مطالعہ بہت عرصے پہلے سے مختلف اساتذہ کی صحبت میں جاری رکھا تھا اس لئے وہ ہمارے طرزِ تفکر کا انقلابی نقطہ تدریجاً سمجھنے کے قابل ہو گئے۔ اب ان کی خواہش ہے کہ ہمارا فکر لوگوں کو پڑھائیں یا پریس کے ذریعے سے پھیلائیں۔

ہمیں سندھ ساگر انسٹی ٹیوٹ کے متعلق علمی مرکز میں جس کا نام "محمد قاسم ولی اللہ کالج آف تھیالوجی” تجویز کیا ہے۔ ایسے ہی استاد کی ضرورت تھی، ہم نے انہیں اپنے ابتدائی تجارب میں شریک بنا لیا ہے۔ انہوں نے اپنے افکار کا نمونہ سورہ مزمل اور سورہ مدثر کی تفسیر میں پیش کرنا پسند کیا ہے۔

ہماری تقریریں بہت سے دوستوں نے ضبط کر لی ہیں، مگر آج تک ہم نے کسی کی تصحیح اپنے ذمہ نہیں لی۔ مولوی بشیر احمد اور مولوی خدا بخش کی محنتوں کا ہم پر خاص اثر ہے۔ اس لئے ہم نے اس رسالہ پر نظر ثانی منظور کی ہے۔ ہم شہادت دیتے ہیں کہ ان افکار کی ذمہ داری میں ہم بھی ان کے ساتھ شریک ہیں۔ ہم اپنے دوستوں سے سفارش کرتے ہیں کہ وہ اپنی یاد داشتیں اس طرز نظر کے مطابق بنا لیں۔
واللہ المستعان۔
عبید اللہ سندھی”

یہ کلمات دراصل صرف ایک تصدیق نہیں بلکہ ایک فکری امانت کی سند ہیں۔ یہ اس بات کا اعلان ہیں کہ قرآن کو محض ثواب کی کتاب نہیں بلکہ انقلاب کی کتاب سمجھا جائے، محض رسم نہیں بلکہ نظام سمجھا جائے، محض الفاظ نہیں بلکہ ایک زندہ تحریک سمجھا جائے۔

اس کتاب میں جن سورتوں کی انقلابی تفسیر پیش کی گئی ہے، ان کی فہرست بظاہر مختصر ہے مگر معنوی لحاظ سے نہایت وسیع ہے۔ سورتوں کی اجمالی فہرست یہ ہے۔

سورۃ الفاتحہ، سورۃ الجمعہ، سورۃ الاخلاص، سورۃ محمد، سورۃ الفلق، سورۃ المجادلہ، سورۃ الناس، سورۃ الحشر، سورۃ العصر، سورۃ الممتحنہ، سورۃ المزمل، سورۃ الصف، سورۃ المدثر، سورۃ المنافقون اور سورۃ الفتح۔
یہ انتخاب محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک مکمل فکری ترتیب کا مظہر ہے۔

سورۃ العصر کی تفسیر کا مطالعہ کیا، میں نے سورۃ العصر کی درجنوں تفاسیر دیکھی ہیں تاہم حضرت سندھی رحمہ اللہ کچھ اور ہی کہہ رہے۔ تفصیلی مطالعہ کے بعد اس پر مختصر تبصرہ لکھوں گا ان شا اللہ۔

حضرت سندھی رحمہ اللہ کا امتیاز یہ ہے کہ وہ قرآن کو صرف عبادات کی کتاب کے طور پر نہیں بلکہ ایک مکمل انقلابی دستور کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے افکار میں ایک عجیب تاثیر ہے۔ وہ قاری کو صرف معلومات نہیں دیتے بلکہ اسے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ سورۃ العصر کی تفسیر پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ قرآن محض چودہ سو سال پہلے نازل ہونے والی کتاب نہیں بلکہ آج بھی زندہ ہے، آج بھی رہنمائی کر رہا ہے اور آج بھی انسان کو پکار رہا ہے کہ وہ اٹھے، سوچے، سمجھے اور اپنے اندر اور اپنے گردوپیش میں تبدیلی لائے۔ میں پڑھتے پڑھتے اٹھ جاتا اور ٹہلتے ہوئے سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہوں۔

یہ احساس بھی دل میں بار بار ابھرتا ہے کہ ایسی کتابیں اور ایسے افکار بہت پہلے پڑھنے چاہیے تھے، مگر دنیا کی مصروفیات، ذمہ داریوں اور عوارض نے اس طرف توجہ نہ ہونے دی یا کتب میسر نہ ہوسکیں۔ بہرحال، دیر آید درست آید۔ امید ہے کہ اس رمضان المبارک میں دیگر تفاسیر کے ساتھ ساتھ حضرت سندھی رحمہ اللہ کے ان قرآنی افکار کا تفصیلی مطالعہ نصیب ہوگا اور یہ مطالعہ محض ذہنی تسکین کا ذریعہ نہیں بلکہ فکری بیداری اور عملی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔

حضرت سندھی رحمہ اللہ کے قرآنی افکار کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ وہ قاری کو مطمئن نہیں ہونے دیتے بلکہ اسے بے چین کر دیتے ہیں۔ وہ اسے یہ احساس دلاتے ہیں کہ قرآن کو صرف پڑھنا کافی نہیں، اسے سمجھنا ضروری ہے، اور صرف سمجھنا کافی نہیں، اسے اپنی زندگی میں نافذ کرنا ضروری ہے۔

شاید یہی "قرآنی شعورِ انقلاب” کا اصل پیغام ہے کہ قرآن کو کتاب نہیں، زندگی بنایا جائے،
تلاوت نہیں، تحریک بنایا جائے،
اور الفاظ نہیں، انقلاب بنایا جائے۔

بہرحال میں اپنے احباب سے بھی گزارش کرونگا کہ اگر "قرآنی شعور انقلاب” آپ کو آسانی سے مل سکتی ہے تو پلیز اس رمضان میں اس کا مطالعہ کیجئے۔ مجھے امید ہے آپ کو ایک نئی دنیا سے آشنائی ہوگی اور مجھے دعائیں دیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے