معزول وزیراعظم عمران خان کی بیماری کے حوالے سے پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے کیے گئے احتجاج نے ایک بنیادی اور نہایت سنجیدہ سوال کو جنم دیا ہے: کیا یہ احتجاج واقعی وفاقی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تھا یا عملی طور پر خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک ایسے محاصرے میں دھکیل دیا گیا جس کی قیمت عام شہری نے ادا کی؟
جمہوریت میں احتجاج ہر سیاسی جماعت کا حق ہے۔ اختلافِ رائے کسی بھی زندہ معاشرے کی علامت سمجھا جاتا ہے، لیکن جب احتجاج اس شکل میں سامنے آئے کہ شاہراہیں بند کر دی جائیں، بین الصوبائی راستے مسدود ہو جائیں، تجارتی ٹریفک معطل ہو جائے اور مریض ایمبولینسوں میں سڑکوں پر کھڑے رہ جائیں تو پھر یہ سوال اٹھانا پڑتا ہے کہ کیا یہ سیاسی حکمتِ عملی تھی یا عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کا عمل؟ حالیہ احتجاج کے دوران خیبر پختونخوا کے پنجاب سے ملحق مختلف داخلی و خارجی راستے بند کیے گئے۔ نتیجتاً نہ صرف کاروبارِ زندگی متاثر ہوا بلکہ تعلیمی اداروں میں حاضری کم ہوئی، مال بردار گاڑیاں رک گئیں، سپلائی چین متاثر ہوئی اور صوبے کے دوسرے صوبوں کے ساتھ سماجی و معاشی روابط میں واضح خلل پیدا ہوا۔
یہ محض ایک تجزیاتی نکتہ نہیں بلکہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ چار دن قبل میں اپنے ماموں عطاء اللہ مندوخیل کی وفات پر ژوب گیا۔ اسلام آباد سے سی پیک کے راستے یارک انٹرچینج تک موٹروے غیر معمولی حد تک سنسان تھا، جیسے زندگی نے خود کو سمیٹ لیا ہو۔ واپسی پر جب ہم ڈیرہ اسماعیل خان کے مقام پر یارک کی طرف مڑے تو معلوم ہوا کہ راستہ مکمل بند ہے۔ ہمیں مجبوراً لکی مروت کی طرف جانا پڑا۔ گھنٹوں انتظار کے بعد ہمیں درہ تن کے راستے میانوالی میں داخل ہونے کا مشورہ ملا۔ راستے میں سینکڑوں گاڑیاں، ٹرک اور مسافر بسیں کھڑی تھیں۔ لوگ بے بسی سے ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ راستہ کب کھلے گا۔
جب ہم لکی مروت پہنچنے والے تھے تو میں نے کوہاٹ کے شاعر اور لکھاری ابرار لاہوتی سے رابطہ کیا کہ اگر خوشحال گڑھ کا راستہ کھلا ہو تو ہم وہ راستہ اختیار کر لیں۔ جواب میں انہوں نے خوشحال گڑھ کی ویڈیو بھیجی جس میں سینکڑوں گاڑیاں، ٹرک اور بسیں قطاروں میں کھڑی تھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ راستہ مکمل طور پر بند ہے اور ٹریفک کئی گھنٹوں سے رکی ہوئی ہے۔ اسی دوران میرے دوست اور پشتو کے معروف گلوکار راج خان مروت نے فون کیا اور اطلاع دی کہ لکی مروت سے درہ تن کا راستہ کھول دیا گیا ہے، لہٰذا ہم اس طرف سے نکلنے کی کوشش کریں۔ اس ایک اطلاع نے جیسے امید کی ایک کرن دکھائی اور ہم نے وہی راستہ اختیار کیا۔ یوں ژوب تا اسلام آباد سات گھنٹے کا سفر بارہ گھنٹوں میں مکمل ہوا۔
ان تمام مناظر کے دوران دل میں ایک ہی سوال بار بار اٹھ رہا تھا: اس ساری مشقت اور اذیت کا مقصد کیا تھا؟ اگر احتجاج کے نتیجے میں عام شہری کی زندگی اجیرن ہو جائے تو کیا یہ سیاسی کامیابی کہلائے گی؟
اطلاعات کے مطابق راستوں کی بندش کے باعث ایمبولینسوں میں موجود تین خواتین بروقت طبی امداد نہ ملنے کے سبب جان کی بازی ہار گئیں۔ کئی مریض گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہے۔ خواتین بچوں کو اٹھائے پیدل چلتی رہیں اور طلبہ اپنے امتحانات یا کلاسوں تک نہ پہنچ سکے۔ کاروباری سرگرمیاں معطل ہونے سے تاجروں کو نقصان اٹھانا پڑا، اشیائے خورونوش کی ترسیل متاثر ہوئی اور صوبوں کے درمیان معاشی لین دین سست پڑ گیا۔
اسی تناظر میں سینئر صحافی شمیم شاہد نے بھی واضح کیا کہ احتجاج کا حق اپنی جگہ، مگر عوامی مشکلات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے پرانے خیرآباد پل پر سڑک بند کرنے کے واقعے کا ذکر کیا جہاں ہزاروں افراد کئی گھنٹے رکے رہے اور واپس آنے والوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق بطورِ منتخب نمائندہ کسی بھی جماعت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ چار کروڑ عوام کی زندگیوں کو مفلوج نہ کرے۔
اسی طرح پشاور ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ طارق افغان نے اس بندش کے خلاف عدالت سے رجوع کیا، جس پر پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے آئی جی خیبر پختونخوا کو فوری طور پر راستے کھولنے کا حکم دیا۔ یہ عدالتی مداخلت اس امر کا ثبوت ہے کہ معاملہ محض سیاسی نہیں بلکہ شہری حقوق اور انسانی جانوں سے جڑا ہوا ہے۔
اہم سوال یہ بھی ہے کہ اس احتجاج سے سیاسی سطح پر کیا حاصل ہوا؟ نہ صدر آصف علی زرداری کی پوزیشن کمزور ہوئی، نہ وزیر اعظم شہباز شریف کے اختیارات میں کوئی کمی آئی اور نہ ہی کسی مقتدر ادارے پر فوری دباؤ محسوس ہوا۔ اگر کوئی براہِ راست متاثر ہوا تو وہ عام آدمی تھا—وہی شہری جس کے ووٹ سے حکومتیں بنتی ہیں۔
اگر احتجاج کے نتیجے میں تین خواتین جان سے چلی جائیں، مریض راستوں میں دم توڑ دیں، کاروبارِ زندگی معطل ہو جائے، طلبہ تعلیم سے محروم ہو جائیں اور صوبوں کے درمیان سماجی و معاشی تعلقات میں دراڑ پڑ جائے تو اسے کسی بھی زاویے سے سیاسی کامیابی نہیں کہا جا سکتا۔ عوام نے ووٹ اس لیے نہیں دیا کہ ان کی روزمرہ زندگی کو سیاسی دباؤ کا ہتھیار بنایا جائے۔ اقتدار کے ایوان اگر محفوظ رہیں اور سڑکوں پر عوام ذلیل و خوار ہوں تو یہ حکمتِ عملی نہیں بلکہ عوامی اعتماد کی توہین ہے۔ کسی ماں کی جان کسی نعرے سے بڑی ہے، کسی طالب علم کا مستقبل کسی سیاسی مقصد سے زیادہ قیمتی ہے اور کسی مزدور کی روٹی کسی جلسے سے کم اہم نہیں۔
سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے سرکاری مشینری اور پولیس کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ہی صوبے کو یرغمال بنا دیا۔ یہ صورتِ حال اپنی نوعیت میں انتہائی عجیب اور افسوسناک ہے کہ حکومت خود انتظامیہ بھی ہو، اختیارات بھی اس کے پاس ہوں اور پھر وہی حکومت سڑکیں بند کر کے احتجاج بھی کرے۔ اگر پی ٹی آئی کو واقعی احتجاج کرنا تھا اور اپنی سیاسی طاقت منوانی تھی تو وہ ملک گیر سطح پر اپنی قوت کا مظاہرہ کرتی، پورے ملک کے بڑے شہروں میں پُرامن پاور شو کرتی تاکہ یہ تاثر قائم ہوتا کہ وہ سچے دل سے اپنے لیڈر کے لیے قومی سطح پر آواز بلند کر رہی ہے۔
مگر یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ صوبے میں حکومت بھی انہی کی ہے، پولیس بھی انہی کے ماتحت ہے، انتظامیہ بھی انہی کے حکم پر ہے اور راستے بھی وہی بند کروا رہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے احتجاج کسی اور کے خلاف نہیں بلکہ اپنے ہی عوام کے خلاف ہو رہا ہو۔ طاقت کا اصل مظاہرہ عوام کو سہولت دے کر کیا جاتا ہے، نہ کہ ان کی زندگی کو مفلوج بنا کر۔
جب حکومت خود احتجاجی کردار ادا کرنے لگے اور ریاستی وسائل کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کرے تو سوال اٹھنا فطری ہے کہ آخر اس کا ہدف کون ہے—وفاقی قیادت یا اپنے ہی صوبے کے وہ شہری جو پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور عدم تحفظ کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں؟
سیاست اگر عوام کی سہولت کے بجائے ان کی تکلیف کا سبب بنے تو پھر وہ خدمت نہیں، ضد بن جاتی ہے۔ اور یاد رکھنا چاہیے کہ عوام خاموش ضرور رہتے ہیں مگر بھولتے نہیں، اور جب فیصلہ کرتے ہیں تو وہ فیصلہ ہمیشہ اپنے حق میں اور سخت انداز میں کرتے ہیں۔