کینیڈا ڈائری: قسط اول

2017 کی بات ہے کہ جب ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کو امریکہ (ڈیلاس) اور بعد میں کینیڈا جانا تھا اور میں ان کے سفر کا ساتھی تھا۔ امریکہ میں چند دن گزارنے کے بعد ہمارا اگلا پڑاؤ کینیڈا کا تھا۔

کینیڈا محض ایک ملک نہیں بلکہ قدرت کی فیاضیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے، جو رقبے کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اس کی جغرافیائی وسعت بحرِ اوقیانوس سے بحرِ منجمد شمالی تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں برف پوش پہاڑ، گھنے جنگلات اور نیاگرا جیسے عظیم آبشار اس کی پہچان ہیں۔ تاریخی طور پر یہ سرزمین ہزاروں سال تک مقامی قبائل کا مسکن رہی، جسے بعد میں فرانسیسی اور برطانوی آباد کاروں نے جدید ریاست کی شکل دی۔ آج کا کینیڈا اپنی کثیر الثقافتی (Multiculturalism) پہچان اور تارکینِ وطن کی ہمت افزائی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ڈیلاس سے فلائٹ براستہ نیویارک تھی، پھر ٹورنٹو۔ مگر اللہ کی کرنی دیکھیے کہ ڈیلاس ایئرپورٹ جانے سے پہلی والی رات ہی مجھے ایسے خطرناک قسم کے بخار نے آ گھیرا کہ صبح گھر سے نکلتے ہوئے میں کپکپا رہا تھا۔ میں جو کہ اسلم خان کے گھر ٹھہرا ہوا تھا، وہاں سے دو پیناڈول کھائیں اور چلتا بنا، مگر میری حالت ہر گزرتے لمحے کے ساتھ خراب ہوتی رہی۔ نیویارک پہ کنکشن لیتے ہوئے بس ایک گرم دودھ کا گلاس اور ایک کیلا یا سیب ساتھ لیا اور نیویارک سے ٹورنٹو تک بے ہوشی کی سی کیفیت رہی۔

اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ سفر بذاتِ خود ایک امتحان (عذاب کا ٹکڑا) ہوتا ہے۔ بس اپنا کام انسان کرے اور گھر لوٹے، اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انسان کی روزمرہ کی ترتیب خراب ہو جاتی ہے۔ اسی طرح رات کے سفر سے بھی اللہ کے نبی ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ بہر حال، کینیڈا پہنچنے پر ٹورنٹو ایئرپورٹ میں مجھے ایئر ہوسٹس نے جگایا کہ: "بھائی! سارے پیسنجر چلے گئے ہیں اور جہاز اتر گیا ہے، آپ بھی جائیں۔” جب میں نے آنکھ کھولی اور ادھر ادھر دیکھا تو واقعی جہاز میں اکیلا بچا تھا میں، اور میرے ساتھ میرا 102 کا بخار۔ بیگ پکڑا اور ایئرپورٹ کے احاطے میں داخل ہوا۔ قدرے سنسان سا ایئرپورٹ تھا یا شاید اس وقت اور فلائٹس نہیں ہوں گی۔ امیگریشن کاؤنٹر پہ گیا، انٹری اسٹیمپ لگوایا اور باہر نکل آیا۔

جہاں دو جگری دوست، ایک انعام عباسی اور دوسرا پختون شنواری میرے انتظار میں کھڑے تھے۔ انعام عباسی ٹورنٹو ایئرپورٹ پہ ہی کام کرتے ہیں اور عرصہ دراز سے وہاں رہائش پذیر ہیں۔ وہ حد درجے کے شریف مسلمان اور پاکستانی ہیں۔ وہ ایسے دوستوں میں سے ہیں کہ رابطہ رہے نہ رہے، انعام دل میں رہتا ہے اور جب بھی بات ہوتی ہے، بہت قریب اور خلوص سے بھرپور محسوس ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ تھے پختون شنواری۔ اگر میں آپ کو بتاؤں تو وہ پشتو نیوز کاسٹنگ کے "برانڈ” تھے۔ میں کیا، آج بھی بہت سارے خیبر نیوز کے اینکر شاید پختون جیسے خبریں پڑھنا چاہتے ہوئے بھی نہیں پڑھ پائیں گے۔ جو خبروں کی روانی اور پشتو الفاظ کی ادائیگی اللہ پاک نے پختون شنواری کی زبان کو دی تھی، ایسی نہ کبھی پہلے کسی کو ملی ہو گی نہ بعد میں۔ وہ شاعر بھی ہیں۔ مجھے ان کی شاعری اور نیوز کاسٹنگ سے حد درجہ محبت ہے، اور پختون شنواری جب مذاق کا عنصر لے آتے ہیں باتوں میں، تو اپنی ہنسی کو سنبھالنا اس دنیا کا مشکل ترین کام بن جاتا ہے۔

پختون شنواری خیبر نیوز سے ایک دہائی سے زائد عرصہ وابستہ رہے۔ انہوں نے خبریں لکھیں، خبریں نشر کیں اور وہ افغانستان و پاکستان کے پشتونوں میں حد درجہ مشہور و معروف تھے۔ جب وہ سکرین پر بیٹھتے تھے تو اپنی خوبصورت شخصیت کی وجہ سے کیمرے کی تمام تر توجہ خود بخود اپنی طرف کھینچ لیتے تھے۔ وہ انتہائی فوٹوجینک، خوش لباس اور محنتی انسان ہیں۔ پشتو ادب اور زبان کے ساتھ ان کی زندگی کس طرح بسر ہوئی، یہ ایک طویل داستان ہے۔ شروع شروع میں جب خیبر نیوز کیا، کسی بھی الیکٹرانک میڈیا آؤٹ لیٹ کا نام و نشان نہیں تھا، تب پختون شنواری پشاور میں پشتو اخبارات سے منسلک تھے۔ اگر میری یاداشت دھوکہ دہی نہ کرے تو غالباً وہ ‘وحدت’ یا ‘قدرت’ جیسے کسی اخبار کا تذکرہ کرتے تھے۔ مزید برآں، ‘پژواک نیوز’ سمیت بہت سارے میڈیا آؤٹ لیٹس کو یہ شرف ملا کہ پختون شنواری جیسے اعلیٰ پائے کے صحافی اور شاعر نے ان کے ساتھ کام کیا۔

میرا یہ ماننا ہے کہ چینلز اور اخبارات جو کچھ بھی ہیں، وہ پختون جیسے مزدور اور جفاکش صحافیوں کے مرہونِ منت ہیں۔ مجھے افسوس ہوتا ہے کہ پشتو زبان کا یہ عظیم سپوت معاشی تنگ دستی کے خلاف زندگی بھر لڑتا رہا، مگر بالآخر کامیاب ہو گیا۔ ان کے بچے اب ان کا بازو ہیں، اور اگر وہ کامیاب ہیں تو سمجھیں پختون کامیاب ہو گیا۔ پختون نے خیبر نیوز میں آنے سے پہلے بھی بہت ہمت اور جوانمردی کے ساتھ حالات کا مقابلہ کیا۔ کبھی فیکٹریوں میں تو کبھی ہوٹلوں میں کام کیا، اور اب کینیڈا میں ٹرک چلانے سے بھی نہیں گھبراتے۔ وہ مجھے کہتے ہیں:

"رحیم شاہ! ایک دن ٹرک الٹ گیا اور میں سخت سردی میں پڑا رہا، بعد میں ہیلی کاپٹر نے آکر ریسکیو کیا۔”

یہ سن کر میری آنکھوں میں دو طرح کے آنسو تھے؛ ایک ہنسی والے اور ایک غم والے۔ زندگی میں خوشی اور غم دونوں کے آنسوؤں کا تجربہ مجھے پختون شنواری کی بدولت ہوا۔ غم کے آنسو اس لیے کہ اتنا عظیم شاہکار آدمی زندگی میں اتنے مصائب کیوں جھیلتا رہا، اور خوشی کے آنسو اس لیے کہ پختون یہ داستان سناتے ہوئے طنز و مزاح کا عنصر ایک لمحے کے لیے بھی نہیں چھوڑتا تھا اور میں ساتھ ساتھ ہنس ہنس کر پاگل ہو رہا تھا۔ یہ ہے پختون شنواری!

پختون شنواری اور انعام بھائی کے بیچ جیسے پاکستان انڈیا کا میچ پڑ گیا کہ "رحیم شاہ کو کس کے گھر جانا ہے؟” مگر آخر کار پختون شنواری جیت گیا۔ وہ ان دنوں مسیساگا (Mississauga) میں اپنے بچوں سمیت ایک بیسمنٹ میں رہتے تھے۔ اس نے دو کمرے کے گھر میں ایک کمرہ میرے لیے مختص کیا ہوا تھا۔ وہاں انہوں نے وہ روایتی کھانا پیش کیا کہ میرے پاس الفاظ نہیں۔ سب بچے مجھے "کاکا، کاکا” کہہ کر پکار رہے تھے اور میں بخار کی وجہ سے بدن ٹوٹنے کے درد میں مبتلا تھا۔ کسی طرح کھانا کھایا اور سو گیا۔ ہماری بھابھی (پختون شنواری کی زوجہ) روئیں کہ کینیڈا لوگ آ کر گھومتے ہیں اور رحیم اتنا بیمار ہے۔ میں اگلے دن اٹھا تو پختون شنواری اپنے کھلکھلاتے ہوئے چہرے کے ساتھ مجھے مخاطب کر کے کہتا ہے: "رحیم شاہ! میں نے تو ٹرکنگ سے آج چھٹی کی ہے! چلو چلتے ہیں نیاگرا فالس (Niagara Falls)!”

اگلی قسط میں: نیاگرا فالز پر میں اور پختون شنواری نے گاڑی کی چابی گاڑی میں ہی چھوڑ دی اور سخت سردی میں کیسے یہ معمہ حل ہوا، یہ سب اگلی قسط میں ان شاء اللہ!

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے