پورے ہاسٹل کو جرمانہ

ہاسٹل سے باہر اپارٹمنٹ میں ہر طرز کی سہولیات دستیاب تھیں، لیکن وہاں بڑے انوکھے واقعات رونما ہوتے تھے۔ ضیاء عظیم اور وقار عظیم، فرام بھکر، دونوں بھائیوں کے فلیٹ پر مقامی لوگوں سے جھگڑا ہوا۔ وہ دونوں ہاسٹل آئے اور پندرہ سولہ لڑکے ساتھ لے کر گئے۔ بڑا جھگڑا ہوا تھا۔

پہلا سمسٹر مکمل کرنے کے بعد میں فراٹے سے گرامر کے مطابق رشین زبان بول سکتا تھا، لہٰذا میں بھی فلیٹ میں منتقل ہو گیا۔ میرے ساتھ بھی بہت دلچسپ اور سبق آموز واقعات پیش آئے جن کا تذکرہ پھر ہوگا۔ ہاسٹل سے باہر مقیم کچھ طلبہ کے گھمبیر مسائل سامنے آئے تو ڈین محسن مرات نے کمیونٹی سینٹر میں سب کو جمع کیا۔ ہنگامہ برپا ہوا اور تھرڈ ایئر سے نیچے تمام اسٹوڈنٹس کو واپس ہاسٹل آنے کا حکم دیا گیا۔ مجھے بھی ہاسٹل واپس آنا پڑا۔

ہاسٹل کی رونق بڑھ گئی اور کمرے کم پڑ گئے۔ مدنی والے کمرے میں تین اسٹوڈنٹس ہو گئے تھے۔ وہ ہفتہ افنان، جہانگیر میئو، راجہ سرمد اور میں نے ایک کمرے میں گزارا۔ دو بستر اور چار جوانیاں! شام کے وقت جو پہلے آتا وہ بستر پر قبضہ جما کر لیٹ جاتا اور باقی دو کو فرش پر سونا پڑتا۔ ہماری روز منہ ماری ہوتی تھی۔

افنان کے کمرے میں ایک ہفتہ قیام کے بعد عارضی طور پر پرنس ندیم کے کمرے میں منتقل ہوا۔ ایک رات میں سو رہا تھا کہ ثناء اللہ نے دروازہ بجایا، پھر زور زور سے بجایا۔ میں منہ بناتا اٹھا۔ موصوف بولے: "سپچکی است؟ سپچکی است؟” وہ ماچس مانگ رہا تھا۔ تب میں سگریٹ نہیں پیتا تھا، بادلِ نخواستہ اسے اگلے کمرے کی طرف بھیج دیا۔ دوسرے دن پھر یہی واقعہ ہوا۔ اب میرا پارہ ہائی ہو گیا۔

رات کے وقت کوریڈور سے گزرتے دیکھا کہ نعمان دوسرے کمرے میں اظہر ستار کے پاس بیٹھا تھا۔ میں نے ٹھنڈے پانی کی دو بوتلیں پہلے ہی محفوظ کر لی تھیں۔ میدان صاف دیکھ کر ایک بوتل نعمان اور دوسری ثناء اللہ کے بستر پر انڈیل دی اور اوپر کمبل برابر کر دیا۔ تھوڑی دیر بعد جب نعمان کی اونچی اونچی گالیاں سنائی دیں تو میں کمبل لپیٹ کر سو گیا۔ دو دن بعد پھر وہی "سپچکی است” والی حرکت۔ میں نے پھر سے ویسا ہی بدلہ لیا۔ نعمان نے جب مجھ سے پوچھا تو صاف مکر گیا۔

ایک رات مجھے بہت زور کا پیشاب لگا۔ کمرے میں بلب بند تھا، گھپ اندھیرا تھا۔ ڈسکو سے آنے والی آوازوں کی مدد سے دروازے کی سمت کا تعین کیا۔ ٹٹول ٹٹول کر دروازے کی طرف بڑھا لیکن پریشر ناقابلِ برداشت تھا۔ یوں محسوس ہوا کہ کپڑے خراب ہو جائیں گے اور سرد رات میں نہانا جان لیوا عمل تھا۔ پیپسی کی ایک بڑی خالی بوتل ہاتھ لگی۔ اس میں مثانہ خالی کر کے سکون کا سانس لیا اور سو گیا۔

کچھ دن بعد پھر اسی طرح پریشر بنا۔ دروازہ کھول کر کوریڈور میں دیکھا، کوئی بھی نہ تھا۔ واش روم کی طرف تیزی سے چلا لیکن پریشر پھر زوروں کا تھا۔ ایسا محسوس ہوا کہ راستے میں ہی کام تمام ہو جائے گا۔ سنسان کوریڈور دیکھ کر پاجامہ نیچے کیا اور وہیں دھار مارنی شروع کر دی۔ لہراتا ہوا آدھے کوریڈور کو سیراب کر کے ہاتھ دھو کر واپس آ کر سو گیا۔

صبح ہاسٹل کمانڈنٹ کے شور سے آنکھ کھلی۔ دروازے پر کوئی دستک دے رہا تھا۔ باہر جھانکا تو پیشاب کی ناگوار بو نتھنوں سے ٹکرائی۔ فوراً دروازہ بند کیا۔ دوبارہ دستک ہونے پر ناک پر ہاتھ رکھے باہر نکلا۔ ہر طرف پیشاب کی بو پھیلی تھی۔ فلور کے تمام اسٹوڈنٹس ناک پر ہاتھ رکھے اپنے اپنے کمروں کے باہر کھڑے تھے اور کمانڈنٹ اونچی آواز میں چلا رہی تھی۔ کوئی بھی اس حرکت کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔ میں بھی چپ چاپ ناک پر ہاتھ رکھے سنتا رہا۔ کمانڈنٹ نے پورے فلور پر جرمانہ عائد کیا جو سب نے گالیاں بکتے ہوئے جرمِ ناکردہ کی سزا کے طور پر ادا کیا۔

دوسرے ہفتے پھر رات کے وقت پریشر بنا۔ اب مجھے شرارت سوجھی۔ کوریڈور میں پھر سے پیشاب کر دیا۔ اگلی صبح پھر وہی ڈرامہ اور جرمانہ۔ افنان کو مجھ پر شک ہوا۔ میں بولا: "جس نے بھی میرا نام لیا، بہت گندی گالیاں دوں گا۔” افنان بولا: "تین سال ہو گئے، آج تک کسی نے ایسا کارنامہ نہیں کیا، یہ تیرا ہی کام ہے۔” میں صاف مکر گیا۔ اس مرتبہ پورے ہاسٹل پر بھاری جرمانہ عائد ہوا تھا۔

ہاسٹل کے اسٹور روم میں ایک بڑی اور وزنی الماری فالتو پڑی تھی۔ اس کے تین دعوے دار بن گئے: عبدالرحمن، شعیب اور عبدالوہاب۔ معاملہ غیرت خان کے پاس گیا۔ الماری کو اسٹور سے باہر نکالا گیا لیکن کوئی بھی اپنے دعوے سے پیچھے نہ ہٹا۔ رات کے وقت عبدالرحمن اور زاہد عمران نے وہ الماری گراؤنڈ فلور سے گھسیٹ کر پانچویں فلور پر شعیب کے دروازے کے آگے رکھ دی۔ صبح جب اس نے کمرے کا دروازہ باہر کی طرف کھولا تو نہ کھل سکا۔ سب لوگ یونیورسٹی جا چکے تھے۔ دو گھنٹے بعد جب بریک ٹائم میں کچھ لوگ واپس آئے تو شور سن کر الماری ہٹائی گئی۔

احمد مالنکی پر ہاسٹل کی لڑکیاں میڈیکل تجربات کرتی تھیں۔ چھوٹا قد ہونے کے باعث لڑکیاں اسے بچہ سمجھتیں اور وہ مزے لیتا تھا۔ اس کے روم میٹ صادق نے یہ پول کھولا تھا۔

نیئر عمران شاہ اور ملک طاہر نے مل کر ایک ریسٹورنٹ بنایا۔ ایک مقامی خاتون کو روٹیاں پکانے کے لیے مامور کیا۔ ماہانہ تیس ڈالر کے عوض دو وقت کا کھانا ملتا تھا۔ ایک جمعہ کے روز سہیل شوکت دو دوستوں کے ہمراہ گیا۔ فقط شوربے کے ساتھ ہی کئی روٹیاں کھا گئے۔ دوسری مرتبہ تین بندے بریانی چکھتے چکھتے آدھا پتیلا خالی کر گئے۔ اس خاتون کو دوبارہ کھانا پکانا پڑا۔ شام کو نیئر عمران شاہ نے سہیل شوکت کا حساب کر کے باقی رقم اسے واپس تھما دی۔

اچھے طلبہ کے علاوہ کچھ نارمل اسٹوڈنٹس بھی تھے جو ڈگری لے کر پاکستان میں کوچنگ کلاسز جوائن کر کے یا رشوت کا سہارا لے کر پی ایم ڈی سی کا امتحان پاس کر گئے، لیکن اکثریت ابھی تک کھانسی بخار والے ڈاکٹر سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ یہ وہ لوگ تھے جن کے والدین کے پاس پیسہ تھا اور انہیں فقط ڈگری لینے بھیجا گیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے