یوں تو سال کے بارہ مہینوں میں سے ہر مہینہ انسانی مدارج کی بلندی کے مختلف اسباب مہیا کرتا ہے لیکن ان بارہ مہینوں میں سے سب سے زیادہ فضیلت والا اور بزرگی والا مہینہ رمضان المبارک ہے جو مسلمانوں کی زندگی کے لیے موسم بہار کی حیثیت رکھتا ہے۔ ماہ رمضان المبارک کے فضائل احادیث میں کثرت سے وارد ہوئے ہیں ۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ماہ رمضان تمام مہینوں سے افضل ترین ہے اور قدیم ایام سے اس کی فضیلت پائی جاتی ہے.
مثلا :
۱ یہ وہ مہینہ ہے جس کی پہلی تاریخ کو ابراہیم علیہ السلامپر صحیفہ نازل ہوا۔
۲ رمضان کی چھٹی تاریخ کو حضرت موسی علیہ السلام پر تورات نازل ہوئے۔
۳اٹھارویں تاریخ کو حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور نازل ہوئی۔
۴تیرھویں رمضان کو حضرت عیسی علیہ السلام پر انجیل نازل ہوئی۔
(یہ وہ مبارک کتابیں ہیں جو خالق کائنات نے مختلف قوموں کی ہدایت کے لیے نازل فرمائی)
۵ اس ماہ کی سترہ تاریخ ۲ ہجری جنوری ۶۲۴ عیسوی مسلمانوں نے جنگ بدر میں کامیابی حاصل کی۔ جو اسلام کی پہلی فتح ہے کفر پر۔
۶ یکم رمضان ۲ ہجری کو ہی روزہ مسلمانوں پر اسلامکی عبادت کا تیسرا رکن فرض قرار دیا گیا جو اسلامی زندگی کی عمارت کا تیسرا اہم ستون ہے۔
۷ اس مہینے میں وہ مہمات ہوئی جن میں حضور صلیاللہ علیہ وآلہ وسلم خود شریک نہیں ہوئے بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی کو سپاہ سالار بنا کر روانہ کیا.
جن مہمات کو اسلامی تاریخ سریہ کہا جاتا ہے چند یہ ہیں۔
یہ مہمات انہیں سپہسالاروں کےنام سے ہیں۔
۱ سریہ عمیر بن عدی رضی اللہعنہ بمقام عصما بنت مروان کی جانب ۲ ہجری میں ہوئی.
۲ سریہ زید بن حارث رضی اللہ عنہ بمقام امالقرقہ وادی القری کی جانب رمضان ۲ ہجری میں ہوئی۔
۳ سریہ عبداللہبن عتیک رضی اللہعنہ بمقام ابی واقع رافع یہودی کی جانب رمضان ۶ ہجری۔
۴ سریہ غالب بن عبدللہ بمقامالمیفعہ کی جانب رمضان ۶ ہجری
سریہ خالد بن ولید رضی اللہعنہ، سریہابو قتادہرضی اللہعنہ،سریہ عمرو بنالعاص رضی اللہعنہ اور سریہ زید الاشبیل رضی اللہ عنہ ۸ ہجری میں ہوئے.
رمضان کی دس تاریخ آٹھ ہجری ۲۲ جنوری ۶۳۰ عیسوی کو مکہفتح ہوا.
۱۹ رمضان ۴۰ ہجری کو ابنملجم نےحضرت علی پر حملہکیا اور آپ کی شہادت اکیس رمضان کو ہوئی.
۱۷ رمضان ۵۸ ہجری کو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے وفات پائی.
۲۷ رمضان کو قرآنپاک کیتاریخ ہے جو مسلمانوں کےلیے ضابطہ حیات ہے۔
رمضان کے مہینے کے تمام واقعات ہم بھول نہیں پاتے مگر ایک ایسا واقع جو ہر پاکستانی کے ذہن پر نقش ہے وہ ہے پیارے وطن پاکستان کا وجود جو دنیا کے نقشے ہر ۲۷ رمضان ۱۳۶۶ہجری ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو ابھرا۔