آئینہ وزیر: خوف کے سائے میں امید کی کرن

وزیرستان کی ایک بچی آئینہ وزیر کے خواب اور زاعفران وزير کے اغوا نے شدت پسندی، سیاست اور ریاستی ذمہ داریوں پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے۔

وزیرستان کی کم سن باصلاحیت بچی آئینہ وزیر کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جسے نوجوان زاعفران وزیر نے ریکارڈ کر کے شیئر کیا۔ اس ویڈیو میں آئینہ وزیر کے کھیل کے شوق، معصوم اعتماد اور روشن خوابوں کی جھلک نمایاں تھی مگر بدقسمتی سے اس مثبت سرگرمی کو شدت پسند عناصر نے اپنی تنگ نظری کی عینک سے دیکھا اور اسے تنازع کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ یوں ایک بچی کے خوابوں کی کہانی اچانک خوف، دباؤ اور جبر کے ماحول میں داخل ہو گئی۔

اسی تناظر میں تحریک طالبان کے افراد نے زاعفران وزیر کو اغوا کر کے زبردستی معافی کی ویڈیو ریکارڈ کروائی جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ اس عمل کو اسلام اور پشتون روایات کے خلاف قرار دیں۔ یہ واقعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ خطے میں اب بھی مثبت سرگرمیوں، فنون لطیفہ اور کھیل کے فروغ کو بعض حلقے اپنے نظریات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

دوسری جانب آئینہ وزیر کی ویڈیو نے امید کی ایک نئی کرن بھی پیدا کی اور پشاور زلمی کی جانب سے اسے ٹیم میں شامل ہونے کی پیشکش سامنے آئی جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ اگر حوصلہ پائے تو وہ رکاوٹوں کو عبور کر سکتا ہے۔ ایک انٹرویو میں آئینہ وزیر نے بی بی سی کو بتایا کہ اس کی سب سے بڑی خواہش تعلیم حاصل کرنا ہے جو وزیرستان کے بچوں کے اجتماعی خوابوں کی ترجمانی کرتا ہے۔

سابقہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ یہ خطہ آئینی و قانونی دائرے میں آ کر امن، ترقی اور بنیادی حقوق سے مستفید ہو سکے۔ تاہم زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ 2013 سے اب تک پاکستان تحریک انصاف کی مختلف حکومتوں کے دوران بھی ریاستی رٹ مکمل طور پر قائم نہ ہو سکی۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس خلا نے شدت پسند عناصر کو منظم ہونے کا موقع فراہم کیا اور بعض حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ سیاسی مصلحتوں یا کمزور پالیسیوں کے باعث شدت پسند گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات میں تاخیر ہوئی جس کے نتیجے میں عوام کو مطلوبہ امن میسر نہ آ سکا۔

کئی دہائیوں سے فاٹا کا خطہ میدانِ جنگ بنا رہا جہاں مسلسل بدامنی کے باعث ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور کیمپوں میں زندگی گزارنے لگے جبکہ جو لوگ اپنے علاقوں میں رہے ان کے بچے جنگی ماحول کے باعث تعلیم کے زیور سے محروم ہو گئے۔ اس محرومی نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جسے شدت پسند عناصر نے اپنے نظریات کے فروغ کے لیے استعمال کیا اور شدت پسندی کی جڑیں مزید مضبوط ہوتی چلی گئیں۔

اس کے باوجود جن بچوں کو تعلیم کا موقع ملا وہ شدت پسندی سے بچ نکلے مگر افسوس کہ ایسے روشن ذہنوں کے لیے ماحول تنگ کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی فاٹا میں فنون لطیفہ، کھیل یا تعلیم کی کوئی شمع روشن ہونے لگتی ہے تو تاریکی کے ہمنوا اسے بجھانے کے لیے سرگرم ہو جاتے ہیں جس سے عالمی سطح پر پشتون قوم کے امن پسند اور ثقافتی چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ خوف اور جبر کے ذریعے مثبت سوچ کو دبایا نہیں جا سکتا۔ اگر ایک جانب شدت پسند عناصر زاعفران وزیر جیسے نوجوانوں کو اغوا کر کے خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں تو دوسری جانب امن پسند عوام ان کا پھولوں سے استقبال کر کے واضح پیغام دیتے ہیں کہ معاشرہ شدت پسندی سے بیزار ہو چکا ہے اور امن، تعلیم اور ثقافت کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ عوامی ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ شدت پسندی کی سوچ معاشرے کی نمائندہ سوچ نہیں بلکہ ایک محدود اور مسترد شدہ بیانیہ ہے کيونکہ جب معاشرہ پھولوں سے استقبال کرے تو سمجھ لیں کہ بندوق کا بیانیہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔

پشتون سرزمین امن کے لیے بے شمار قربانیاں دے چکی ہے اس لیے اب وقت آ گیا ہے کہ یہ خونیں کھیل بند ہو اور آئینہ وزیر و زاعفران وزیر جیسے باصلاحیت بچوں اور نوجوانوں کو تعلیم، کھیل اور خوشحال زندگی کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ خطہ خوف کے بجائے امید اور ترقی کی علامت بن سکے۔ امن نہ صرف بندوق کی خاموشی کا نام ہے بلکہ وہ ماحول ہے جہاں بچے خواب دیکھ سکیں، فنکار تخلیق کر سکیں اور نوجوان اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھا سکیں۔

مزید تشویشناک امر یہ بھی ہے کہ شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے حوالے سے یہ اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے بعد دیگر خطوں میں بھی بھرتیوں کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو علاقائی اور عالمی امن کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ اس تناظر میں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ ایک مقامی شدت پسند تنظیم کو مالی وسائل، اسلحہ اور افرادی قوت کس طرح میسر آتی ہے۔ یہ سوال نہ صرف سیکیورٹی اداروں بلکہ پالیسی ساز حلقوں کے لیے بھی غور طلب ہے کیونکہ شدت پسندی کا مسئلہ عسکری ،سیاسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں سے جڑا ہوا ہے۔

آئینہ وزیر اور سماجی کارکن زاعفران وزیر کی کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی امن نہ صرف سیکیورٹی اقدامات سے بلکہ خوابوں کے تحفظ، تعلیم کے فروغ اور مثبت سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی سے قائم ہوتا ہے۔ زاعفران وزیر کی ہمت اور آئینہ وزیر کے روشن خواب نے واضح کر دیا کہ معاشرہ خوف اور جبر کے بیانیے کے بجائے حوصلے، ہمت اور امن کے ساتھ کھڑا ہے۔

تاہم چونکہ شدت پسند سماجی کارکن جیسے نوجوانوں کو اغوا کر سکتے ہیں تو آئینہ وزیر کی زندگی اور اس کے خاندان کی حفاظت انتہائی ضروری ہے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اس بچی اور اس کے اہل خانہ کو مکمل تحفظ فراہم کرے اور ساتھ ہی وزیرستان کی دیگر بچیوں اور بچوں کے مستقبل کو بھی شدت پسند عناصر سے محفوظ بنائے۔

وزیرستان نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اس لیے وقت آ گیا ہے کہ خوف کے تسلسل کو ختم کر کے آئینہ وزیر جيسی بچيوں اور زاعفران وزیر جیسے سماجی کارکنوں کو تعلیم، کھیل اور خوشحال زندگی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ جب یہ نوجوان محفوظ ہوں گے اور اپنے خوابوں کو آزادانہ طریقے سے پروان چڑھا سکیں گے تو یہ صرف ایک بچی یا ایک نوجوان کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ پورے وزیرستان کے مستقبل، امن اور معاشرتی بحالی کی ضمانت بھی بن جائے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے