یقین کا معیار ؛ جب سچ بھی وفاداری کا محتاج ہو جائے

پاکستانی سیاست میں سچ اور جھوٹ کا تعین اکثر ثبوتوں، تحقیقات اور عدالتی فیصلوں سے کم، اور سیاسی مفاد، ذاتی وفاداری اور بیانیے کی ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے۔ یہی وہ المیہ ہے جس نے ہماری سیاست کو اصولوں سے زیادہ شخصیات کا محتاج بنا دیا ہے۔ اس تضاد کی سب سے نمایاں مثال عمران خان کی سیاست میں دیکھی جا سکتی ہے، جہاں یقین کا معیار بدلتا رہا، مگر دعویٰ ہمیشہ سچائی کا ہی کیا گیا۔

جب ریاستی اداروں کی جانب سے یہ بتایا گیا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری بدعنوان ہیں، تو اس بیانیے کو فوراً قبول کر لیا گیا۔ اسے احتساب کا نام دیا گیا، اسے انقلاب کی بنیاد قرار دیا گیا، اور اسے قوم کی تقدیر بدلنے کا راستہ بتایا گیا۔ لیکن جب یہی الزامات اپنے قریبی ساتھیوں، اپنی حکومت کے اہم کرداروں اور اپنے اردگرد موجود افراد تک پہنچے، تو اچانک یقین کی بنیادیں لرزنے لگیں، سوال اٹھنے لگے، اور وہی ادارے جن کی بات کل تک حرفِ آخر سمجھی جاتی تھی، آج مشکوک قرار پانے لگے۔

یہی تضاد اس وقت بھی سامنے آیا جب امریکہ کی مبینہ سازش کا بیانیہ پیش کیا گیا۔ ایک سفارتی پیغام کو بنیاد بنا کر پوری حکومت کے خاتمے کو عالمی سازش قرار دیا گیا۔ لیکن جب ملکی اداروں، تحقیقاتی عمل اور حتیٰ کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں اس بیانیے کی تصدیق نہ ہو سکی، تو حقیقت کو تسلیم کرنے کے بجائے بیانیے کو ہی سچ ماننے پر اصرار جاری رہا۔

اسی طرح، پانامہ پیپرز میں جب سیاسی مخالفین کے نام سامنے آئے تو اسے کرپشن کی عالمی دستاویز قرار دیا گیا۔ لیکن جب پنڈورا لیکس میں اپنے اور اپنے قریبی افراد کے نام آئے، تو اسے جھوٹ، سازش اور کردار کشی کہا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ کون قصوروار ہے اور کون بے قصور، اصل سوال یہ ہے کہ کیا سچ کا معیار سب کے لیے یکساں ہے یا نہیں؟

سیاسی اتحادوں کی نوعیت بھی اسی معیار کی عکاس رہی۔ جب مختلف جماعتیں اور سیاستدان تحریک انصاف کے ساتھ تھے، تو وہ محب وطن، ایماندار اور جمہوریت کے علمبردار تھے۔ لیکن جیسے ہی وہی لوگ دوسری صف میں جا کھڑے ہوئے، تو ان کی حب الوطنی مشکوک اور ان کی نیت پر سوالیہ نشان لگا دیا گیا۔ کیا حب الوطنی کا معیار بھی سیاسی وابستگی سے طے ہوتا ہے؟

یہ رویہ صرف ایک فرد یا ایک جماعت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہماری مجموعی سیاسی سوچ کا عکاس ہے۔ ہم شخصیات کو معیار بنا لیتے ہیں، اصولوں کو نہیں۔ ہم سچ کو اس بنیاد پر قبول کرتے ہیں کہ وہ ہمارے پسندیدہ بیانیے کے مطابق ہے یا نہیں، نہ کہ اس بنیاد پر کہ وہ حقیقت ہے یا نہیں۔

ایک حقیقی لیڈر کی پہچان یہ نہیں ہوتی کہ وہ صرف اپنے مخالفین کا احتساب چاہے، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ وہ احتساب کے اصول کو سب پر یکساں لاگو کرنے پر یقین رکھے، چاہے اس کی زد میں وہ خود کیوں نہ آ جائے۔ کیونکہ سچ، وفاداری کا محتاج نہیں ہوتا، اور انصاف، پسند و ناپسند کا پابند نہیں ہوتا۔

پاکستان کو آج سب سے زیادہ ضرورت کسی نئے نعرے یا نئے مسیحا کی نہیں، بلکہ ایک ایسے سیاسی کلچر کی ہے جہاں یقین کا معیار یکساں ہو، جہاں سچ کو سیاسی مفاد کے ترازو میں نہ تولا جائے، اور جہاں احتساب کا اصول سب کے لیے برابر ہو۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، تب تک سیاست میں سچ، سچ نہیں رہے گا، بلکہ صرف ایک بیانیہ بن کر رہ جائے گا اور بیانیے ہمیشہ بدلتے رہتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے