جیسا چولہا، ویسی روٹی

تضادستان ہمارا پیارا ملک ہے اور ہم اسی کے چولہے کی روٹی کھاتے ہیں۔ یہ ہمارا اپنا ہی چولہا ہے اور اپنی ہی روٹی ہے۔ رومانوی اور حب الوطنی کے حساب سے اس روٹی پر صبر و شکر کرنا واجب اور اس پر اعتراض کرنا گناہ ہے۔ بابا فرید الدین گنج شکرؒ نے تو روٹی "ٹک” یا "ٹکر” کو چھٹا رکنِ اسلام قرار دیا تھا اور ظاہر ہے جس کا کھائیں اسی کا گائیں۔

اسے احترام دینا لازم ہے مگر چولہے کے معیار سے ہی روٹی کے معیار کا تعین ہوتا ہے۔ جیسا چولہا ویسی روٹی کا یہی مطلب ہے۔ اسی طرح کا ملتا جلتا محاورہ "جیسا منہ ویسا تھپڑ” بھی ہے۔ اس سے مراد ہے کہ آپ جس کے مستحق ہوتے ہیں آپ کو وہی ملتا ہے۔ یہ Fatalism کے فلسفے پر مبنی سوچ ہے جس میں تقدیر کے جبر پر قانع ہونا پڑتا ہے، مگر اس کے مخالف فلسفہ اپنی تقدیر خود بنانے کا ہے، اپنے چولہے کا معیار بہتر کرنے کا ہے، اپنی روٹی کو بہتر سے بہتر بنانے کا ہے۔ جلی ہوئی روٹی اور کچی روٹی کھانا تقدیر کا جبر نہیں ہوسکتا۔ ہم چولہا جلانے اور چلانے والوں کی تدبیر سے ہی تقدیر بدل سکتے ہیں۔

آغاز تضادستان کے سب سے بڑے چولہے یعنی سیاسی تنوروں سے کرتے ہیں۔ ہم نے اپنی سیاست سے جو سیاسی روٹیاں بنائی ہیں وہ یا تو کچی ہیں یا زیادہ جلی ہوئی ہیں۔ کبھی وہ صرف بوڑھوں کے کھانے والی "مدری” ہوتی ہیں اور کبھی کرکری بنانے کے لیے "چھنڈی” ہوئی ہوتی ہیں۔ کچھ "تندونچی یا ڈائی” بچوں کے لیے "گلی” بناتے ہیں اور پھر وہ کھانے والے سیاست میں بھی ہمیشہ بچے رہتے ہیں کیونکہ وہ ’گلی‘ کھا کھا کر اس کے عادی ہوجاتے ہیں اور زندگی بھر بڑے نہیں ہو پاتے۔

ہمارے تنور کی تاثیر عجیب ہے کہ اس کی تنوری روٹی ایک دوسرے سے مختلف اور متضاد ہوتی ہے۔ یہ روٹیاں آپس میں لڑ لڑ کر تضادستان کو آگ کا تنور بنا دیتی ہیں۔ تنور تو پہلے ہی گرم ہوتا ہے، جب اس میں نفرت، تعصب اور مقابلے کا تیل پڑتا ہے تو وہ اور بھڑکتا ہے۔ افتادگانِ خاک اور روٹی خور چاہتے ہیں کہ خدا کی بستی کے تنور اور روٹی کے سیاسی شعبے میں تبدیلی آئے، آئین، قانون اور جمہوریت کا بول بالا ہو اور روٹی خور کرکری روٹیاں کھا کر مزے کریں۔

جلی ہوئی روٹیاں کھائیں گے تو پیٹ میں درد ہوگا اور ایک مشہور قصے کے مصداق حکیم ان کے پیٹ کے علاج سے پہلے ان کی آنکھوں کا علاج کرے گا کہ جلی ہوئی روٹی نظر بھی آ رہی تھی تو کھائی کیوں تھی؟ جلی ہوئی روٹی کھانے والوں کی آنکھ ہی کا علاج ہوتا ہے۔

بابا فرید کی "روٹی ٹکر” اور بھٹو کا "روٹی، کپڑا اور مکان” دراصل معیشت کی علامت ہیں۔ عوامی خوشحالی وہ شعبہ ہے جسے ہمیشہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ آج کے معاشی تنور میں روٹیوں اور گلیوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔ تنور میں آگ کی حدت کم ہے اور شاید لکڑیاں بھی سوکھی نہیں، گیلی ہیں۔ اسی لیے خدا کی بستی کے ہر گھر کی روٹیوں پر فرق پڑا ہے۔

توقع تو یہ تھی کہ ہمارے معاشی چولہے کے لیے خوشبودار صندل کی لکڑیاں مڈل ایسٹ سے آئیں گی اور پھر چولہا خوشبودار دھواں دے گا اور روٹیاں بھی اچھی پکیں گی، مگر آج کی دنیا میں ہر ایک کا فوکس اپنے معاشی چولہے پر ہے۔ کوئی تبھی لکڑیاں دیتا ہے اگر اس کا فائدہ ہو، وگرنہ اس کا اپنا چولہا ٹھنڈا پڑ سکتا ہے۔

آج کل دیسی لکڑیوں سے معاشی چولہا جلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ حکومت "پھونکنی” سے آگ روشن کرنے کی کوشش کر رہی ہے، بار بار "چمٹے” سے جلی ہوئی لکڑی کے خاکستر کو الگ کر رہی ہے مگر ہر طرف دھواں ہی دھواں ہے۔

روٹی خور آسمان سے من و سلویٰ، مڈل ایسٹ سے صندل اور مغرب سے ڈبل روٹی کے انتظار میں ہیں۔ کاش اپنے تنور کو اپنی ہی لکڑیوں اور اپنے ہی دانوں سے چلانے کا سوچا جائے۔ "جس دے گھر دانے، اوہدے کملے وی سیانے”۔

مقامی زراعت اور صنعت کو مضبوط بنانا ہی دیرپا حل ہے مگر زراعت کو پے در پے نقصان پہنچ رہا ہے۔ گندم اور آلو کی فصل سے دانے اگانے والے کاشتکار پریشان ہیں۔ اگر غلہ اگانے والے خوش نہ ہوں تو تنور کے لیے اناج کیسے آئے گا؟ صنعت کی لکڑیاں نہ جلیں تو تنور گرم کیسے ہوگا؟ اور اگر تنور گرم نہ ہوا تو لوگ روٹی کیسے کھائیں گے؟

روٹی خوروں کو گرم نان اور روٹی چاہیے، اس لیے گرم چولہے اور تپتے تنور لازم ہیں۔ جدید دنیا میں گھریلو چولہے اور تنور کا نظام بدل چکا ہے مگر عادتیں بدلنا مشکل ہوتا ہے۔ بقول آسکر وائلڈ:
"میں ہر چیز کی مزاحمت کر سکتا ہوں ماسوائے اپنی اندر کی خواہشوں کے۔”

تضادستانی روٹی خوروں کے لیے گرم چولہے اور گرم روٹیاں فراہم کرنے کے لیے روایت کو جدت سے ملانا ہوگا۔ اس کے لیے علم اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہوگا۔ امریکہ اور برطانیہ میں روٹی جیسی پیٹا بریڈ اور پراٹھا دستیاب ہوتا ہے جو صرف گرم کرنے سے تیار ہو جاتا ہے۔

بھلے وقتوں میں ذوالفقار علی بھٹو نے روٹی پلانٹ لگائے تھے اور بازار میں سستی روٹی دستیاب ہو گئی تھی۔ ہمارے بہت سے لوگ اوورسیز ہو گئے ہیں، وہ جدید ٹیکنالوجی کے ملکوں میں رہتے ہیں مگر جس طرح چینیوں اور کوریائیوں نے تعلیم و فن کو اپنے ملکوں میں منتقل کیا، ہمارے اوورسیز پاکستانیوں نے ایسا نہ کیا۔

ہمارے ہاں نہ تنور ماڈرن ہوئے، نہ ریستورانوں میں مغرب کی صفائی کا معیار آیا اور نہ تعلیم میں وہ انقلاب آیا کہ ہم مغرب کے ہم پلہ ہو سکیں۔ مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس مہنگے نجی اداروں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتیں جبکہ لوئر کلاس سرکاری اسکولوں تک محدود ہے۔ جدید دنیا میں حکومت تنور اور اسکول نہیں چلاتی بلکہ اصول و ضوابط بناتی ہے۔ حکومت Regulator ہے مگر یہ کام بھی درست انداز میں نہیں ہو رہا۔

تعلیم اور ٹیکنالوجی ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم جدید دنیا کا مقابلہ کر سکتے ہیں، وگرنہ گیلی لکڑیوں کا دھواں پھیلتا رہے گا، نہ اچھی روٹی ملے گی اور نہ امن و سکون ہوگا۔

چولہا، تنور اور روٹی معیشت کی علامتیں ہیں۔ صاف کہیں تو تضادستانی معیشت جوہڑ کے ٹھہرے پانی کی طرح سکوت اور آزمائش کا شکار ہے۔ بڑے بڑے خواب دکھانے کے باوجود عملی طور پر چولہے کے لیے تیل جتنی امداد بھی نہیں ملی۔ ہم ایک بحران سے نکل کر کئی طوفانوں کی زد میں ہیں۔ بیرونی قرضوں کی اربوں کی اقساط واجب الادا ہیں، معیشت پر حبس طاری ہے، ہوائیں دور تک چلتی نظر نہیں آ رہیں۔ تنور کو لکڑیاں اور تیل نہ ملا تو پھونکیاں اور چمٹے سب بیکار رہ جائیں گے۔

چولہے کے خاکستر میں انگارے بھرنے کے لیے سیاست کے روٹی خوروں کا ایک قومی دسترخوان پر بیٹھنا ضروری ہے۔ اس کام میں جتنی تاخیر ہوگی، اتنی ہی معاشی تنور کی گرمی اور حدت پر سوال اٹھتے رہیں گے۔

جیسے ہم ہیں ویسا ہی ہمارا ملک ہے
جیسا چولہا، ویسی روٹی۔
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے