افطاریوں کا سیزن ہے۔ اس کے باوجود اگر آپ بہترین افطاری سے محروم ہیں تو یہ آپ کا قصور ہے۔ افطاری کرنا اور افطاری کھانا دو مختلف چیزیں ہیں۔ جن لوگوں کو اس باریک فرق کا پتا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ کہاں افطاری کرنی ہے اور کہاں کھانی ہے۔
ایک مسلمان بھائی کی حیثیت سے میرا یہ فرض بنتا ہے کہ میں آپ کو افطاری کھانے کے چند وہ نسخے بتاؤں جو میں نے آج تک اپنے لاکر میں چھپا کر رکھے ہوئے تھے۔ افطاری کے وقت ایسی شکل بنا لیں گویا آپ روزے سے بالکل ہی نڈھال ہوگئے ہیں۔ ہوسکے تو تھوڑا سا لڑکھڑا کر سنبھلنے کی کوشش بھی کریں۔ اس کے دو فائدے ہوں گے: ایک تو کنفرم ہو جائے گا کہ آپ روزے سے ہیں، دوسرے سب لوگ آپ کے لیے جگہ چھوڑ دیں گے۔
تاہم اس دوران حد درجہ احتیاط کریں کہ آپ کے حلق سے ڈکار نہ نکلنے پائے۔ عموماً افطاری میں سب سے پہلے دودھ سوڈا یا شربت پیش کیا جاتا ہے۔ لے لیں… لیکن ذہن میں رہے کہ جونہی آپ نے شربت کا گلاس پیا، آپ کے معدے کی گنجائش کم سے کم تر ہوتی چلی جائے گی۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ جب میزبان گلاسوں میں شربت انڈیل رہے ہوں تو آپ نہایت ہوشیاری سے چٹنی والا برتن اپنی طرف سرکا لیں۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں سموسوں پکوڑوں کی بجائے چٹنی سرکانے پر کیوں زور دے رہا ہوں۔ اچھا سوال ہے۔ بات یہ ہے دوستو! سموسے پکوڑے تو پھر بھی مل جاتے ہیں، چٹنی بار بار نہیں ملتی۔
اکثر ’افطار داروں‘ کا خیال ہے کہ بہترین جگہ حاصل کرنے کے لیے افطاری سے کم از کم دو گھنٹے پہلے پہنچ جانا چاہیے، لیکن یہ کلیہ ناکام ہو چکا ہے کیونکہ اکثر ایسی صورت میں پلیٹیں اور دسترخوان بھی آپ ہی کو لگانا پڑتا ہے۔ بیس منٹ پہلے پہنچنا کافی ہے۔ روزانہ ایک ہی جگہ افطاری نہ کریں بلکہ آب و ہوا تبدیل کرتے رہیں اور اصول یاد رکھیں کہ آپ نے ہر افطاری آخری افطاری سمجھ کر کھانی ہے۔
٭ ٭ ٭
وطن عزیز میں اسپورٹس کی بیسیوں فیڈریشنز موجود ہیں۔ کرکٹ کو چھوڑ کر ہاکی، فٹ بال، اسکواش، بیڈمنٹن اور لگ بھگ ہر کھیل کی فیڈریشنز ہیں۔ بظاہر یہ کھلاڑی تیار کرتی ہیں اور مختلف بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے انہیں نامزد کرتی ہیں۔ یہ پرائیویٹ فیڈریشنز ہوتی ہیں جنہیں پاکستان اسپورٹس بورڈ فنڈنگ کرتا ہے۔
آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ارشد ندیم کی جیولین تھرو کے علاوہ ہم کسی کھیل میں کیوں کوئی مقام نہیں بنا پا رہے؟ وجہ یہ ہے کہ اکثر فیڈریشنز صرف پیسہ کمانے کی مشینیں بنی ہوئی ہیں۔ کروڑوں کے فنڈز، غیر ملکی دورے اور حساب کتاب کوئی نہیں۔
پاکستان اسپورٹس بورڈ وزیر اعظم کو خط لکھ لکھ کر تھک گیا ہے کہ جو فیڈریشنز پیسوں کا حساب نہیں دے رہیں یا جعلی الیکشن کروا رہی ہیں انہیں بلیک لسٹ کیا جائے۔ لیکن صورتحال یہ ہے کہ ملک کی بے شک بدنامی ہو جائے، ایسی فیڈریشنز کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی۔
نیا تماشا آپ سب نے دیکھ لیا ہوگا۔ ہاکی فیڈریشن کی جانب سے جن کھلاڑیوں کو آسٹریلیا بھیجا گیا تھا ان کی بکنگ بہترین ہوٹل میں ہوئی، پاکستان اسپورٹس بورڈ کی طرف سے ایک کروڑ کا چیک جاری ہوا، لیکن کھلاڑی خود چیخ پڑے کہ ہمیں بیہودہ رہائش گاہوں میں ٹھہرایا گیا اور سڑکوں پر دھکے کھانے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ مبینہ طور پر کھلاڑیوں کو زبان کھولنے پر دھمکیاں بھی دی گئیں۔
کہاں گیا ایک کروڑ؟ اسپورٹس بورڈ حساب مانگ رہا ہے اور جواب میں آئیں بائیں شائیں اور استعفے بازی ہو رہی ہے۔ ایکشن لینے کا اختیار وزیر اعظم کے پاس ہے، سو انہیں یہ اختیار فوری استعمال کرنا چاہیے، ورنہ دھیرے دھیرے صرف فیڈریشنز رہ جائیں گی، کھیل ختم ہو جائیں گے۔
٭ ٭ ٭
میں نے زندگی میں پہلی بار سینما 1987ء میں دیکھا۔ ملتان کے کچہری چوک پر آنجہانی "انجمن سینما” ہوا کرتا تھا۔ میرے ماموں کا بیٹا فلموں کا بڑا شوقین تھا، وہی مجھے ورغلا کر سینما لے گیا جہاں میں نے ندیم اور بابرہ شریف کی فلم مکھڑا دیکھی۔
ان دنوں سینما میں فلم دیکھنے والوں کو لفنگا سمجھا جاتا تھا اور اکثر لڑکوں کی منگنیاں بھی اسی لیے ٹوٹ جاتی تھیں کیونکہ لڑکی والوں کو پتا چل جاتا تھا کہ لڑکا تو اتنا بدمعاش ہے کہ سینما جا کر فلمیں دیکھتا ہے۔ اگر کوئی پکڑا جاتا تو والد گرامی بھی درگت بناتے اور محلے والے بھی قطع تعلق کر لیتے۔
ان دنوں کویتا، بابرہ شریف، انجمن اور سنگیتا وغیرہ ہٹ ہیروئنیں شمار ہوتی تھیں۔ میں نے "مکھڑا” دیکھی تو اگلے ڈیڑھ ہفتے تک میرے خوابوں میں بابرہ شریف ہی آتی رہی اور آتی بھی گانا گاتے ہوئے:
"میں ساری رات جاگاں گی، میں ساری رات جگاواں گی۔”
ان دنوں وہی گانے مشہور ہوتے تھے جن کی شاعری بھی کمال کی ہوتی تھی۔ احمد راہی، قتیل شفائی، منیر نیازی اور خواجہ پرویز کے گیتوں اور غزلوں نے دھوم مچا رکھی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سینما جانا معیوب سمجھا جاتا تھا جبکہ گھر میں وی سی آر لا کر فلمیں دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ ویڈیو سنٹرز جا بجا کھلے ہوئے تھے جہاں سے سو روپے میں وی سی آر، ٹی وی اور چار فلمیں بارہ گھنٹے کے لیے کرائے پر مل جاتی تھیں۔
خاندان کے لڑکے سائیکل پر وی سی آر اور چار کیسٹیں رکھ کر گھر لے آتے۔ صحن یا بڑے کمرے میں وی سی آر لگایا جاتا، بڑے چارپائیوں پر بیٹھ جاتے اور بچوں کے لیے نیچے دری یا چٹائی بچھا دی جاتی۔ ایک "انجینئر” لڑکا وی سی آر کا نگران مقرر کر دیا جاتا جو ہر دس منٹ بعد ایک روپے کے نوٹ پر تھوڑا سا پٹرول لگا کر وی سی آر کا "ہیڈ” صاف کرتا، ٹریکنگ درست کرتا اور اس بات کا دھیان رکھتا کہ کس سین کو فاسٹ فارورڈ کرنا ہے۔
جو لڑکے وی سی آر کے ساتھ چار فلمیں لے کر آتے تھے وہ اکثر چھپا کر پانچویں فلم بھی لے آتے تھے۔
ہائے کیا دور تھا۔
بشکریہ جنگ