کینیڈا ڈائری: قسط نمبر 2

پختون شنواری کے حوالے سے کینیڈا کی گفتگو جاری تھی۔ پختون شنواری صحافت کو خیرآباد کہہ کر کینیڈا جا بسے اور بچوں کی دیکھ بھال کے لیے انہوں نے ٹرک چلانے کا ایک مشکل فیصلہ کیا۔ بہت محنت کی، اپنے خاندان کو سنبھالا۔ پختون نے جہاں خبروں میں پشتو کو ایک نئی جدیدیت کے ساتھ ہمکنار کیا اور مجھ جیسے بہت سارے نئی آنے والی نسل کے اس وقت کے صحافیوں کو پڑھنے کا ہنر سکھایا، ادھر اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ محنت مزدوری میں بھی اپنا مقام بنایا۔

ایک ایسے شخص کو جو نیا نیا پورے خاندان کے ساتھ کینیڈا منتقل ہوا ہو، سنبھالنا صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو دیارِ غیر کی صعوبتوں سے آشنا ہوں۔ پختون کے ساتھ پہلے میں پاکستان ایمبیسی گیا اور وہاں ان کے پاسپورٹ کے حوالے سے کچھ تکنیکی درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی۔ بعد میں ہمارا سفر شروع ہوا ٹورنٹو سے ہوتے ہوئے نیاگرا فالس۔

میرے سر میں شدید درد تھا اور پختون شنواری کے دل میں یہ شدید خواہش کہ میں نیاگرا فالس دیکھے بغیر کینیڈا سے واپس نہ جا سکوں۔ پختون نے میری سیٹ کی پوزیشن ایسی بنائی کہ میں آرام سے لیٹے ہوئے راستہ ناپ سکوں۔ بنیادی طور پہ جنوری کینیڈا میں شدید سردی کی لپیٹ میں ہوتا ہے اور ٹورنٹو سے تقریباً سارا راستہ نیاگرا فالس کی طرف میدانی ہے۔ میں چونکہ پہاڑی آدمی ہوں اور پہاڑ کی سردی سے واقف ہوں، لہذا پہلے سے بیماری کے بعد میدانی علاقے کی سردی نے میری بیماری کی شدت میں مزید اضافہ کر دیا۔ میرا تجربہ رہا ہے کہ پہاڑی علاقوں کی سردی اور برف کا احساس میدانی علاقوں کی سردی اور برف باری سے کافی مختلف ہوتا ہے۔ شمالی امریکہ ہو یا بالٹک ریاستیں، دونوں میں پہاڑی علاقوں کے مقابلے میں سردی کی شدت کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے، یا ممکن ہے مجھے ایسا محسوس ہوا ہو۔

بہر حال عصر کو نکلے، میں اور پختون شنواری تقریباً مغرب کے آس پاس نیاگرا فالس پہنچ ہی گئے۔ اندھیرا ہو چکا تھا مگر اب تو ہر حال میں پانی کا بہاؤ دیکھنا تھا۔ نیاگرا فالس امریکہ اور کینیڈا کے بارڈر پر واقع ایک ایسا آبشار ہے جہاں پر دنیا کا 3% پانی گرتا ہے۔ مختلف رخ سے تین جگہ پانی آکر جمع ہوتا ہے اور زوردار انداز میں نیچے آکر گرتا ہے۔ سیاح بڑی تعداد میں امریکہ اور کینیڈا سے شب و روز سردی گرمی میں آتے ہیں اور اپنا وقت بتاتے ہیں۔ دونوں اطراف پارک، کیسینو، بارز اور ہوٹلز اور مختلف قسم کی عمارتیں بنی ہیں۔

ہم نے مغرب کی نماز پڑھی، میں نے ساتھ ریسٹورنٹ میں وضو کیا اور چل پڑے۔ رات کے وقت پانی کی بوندیں فضا میں بلند ہوئی تھیں جس سے ایک پہاڑ سا منظر بنا ہوا تھا کیونکہ دور سے روشنیوں کی وجہ سے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ کوئی پہاڑ ہو۔ آبشار کے گرنے کی وجہ سے پانی کی آواز جو دن میں موسیقی کا سماں پیدا کرتی ہے، رات میں کسی دیو جن کے چلانے کی ہیبت پیدا کر رہی تھی۔ اور مجھے جانے انجانے میں اس آواز سے شدید گھبراہٹ اور اللہ کی پناہ مانگنے کا احساس ہو رہا تھا۔ بچپن میں جہنم میں "سقر” کا سنا تھا کہ جہنم میں کوئی جگہ ہوتی ہے جو بہت سرد ہوتی ہے۔ میں ساتھ ساتھ پختون کو یہ احساسات بتاتے ہوئے کہہ رہا تھا کہ بس اتنا ہو کہ پانی کو ایک نظر دیکھ لیں تاکہ یہ حیرانی کی سی کیفیت ختم ہو۔

وہ سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا اور آخر کار ایک ٹیوب لائٹ تلے ہم نے پانی کا نیچے گرنے والا نیاگرا فالس کا آبشار دیکھ ہی لیا۔ مگر واپس مڑتے ہوئے کہا چلتے ہیں بہت اندھیرا ہو گیا ہے اور پھر روشنی میں آئیں گے کل یا پرسوں۔ مگر جب میں نے پختون شنواری کے پیروں پر نظر ڈالی تو اس نے چپل پہنے ہوئے تھے اور ایک جوڑا جرابیں۔ جہاں جوتوں سمیت میرے پاؤں سن ہو رہے تھے، وہاں پختون شنواری کے چپل میں چلتے ہوئے میرے ساتھ ایک کلومیٹر سے زیادہ واک نے مجھے حیرت میں ڈالتے ہوئے پختون سے پوچھنے پر مجبور کیا کہ یہ کیا ماجرا ہے بھائی؟ پختون نے اپنی سادگی اور خلوص سے کہا: "رحیم شاہ، میں گاڑی میں چابیاں بھول آیا تھا اور جوتے گاڑی میں ہی رہ گئے تھے”۔

مجھے پختون کے اس جذبے پہ، اس خلوص پہ حیرانگی بھی ہوئی اور دل سے حد درجہ عزت بھی، مگر میں نے شنواری سے قدرے ناراضگی کے لہجے میں کہا کہ بھائی تمہارے پیر سڑ جائیں گے، خدا نخواستہ فالج ہو جائے گا، یہ کیا پاگل پن ہے۔ پختون شنواری کے چہرے کے تاثرات نے کہا کہ پتا نہیں پھر تم کب کینیڈا آؤ، میں ایسے ہی سہی مگر نیاگرا فالس دکھانا ضروری تھا، اتنا سفر کر کے آئے ہیں۔ یہ ہوتی ہے ایک ایسے سینئر اور بھائی جیسے بندے کی پہچان۔ یقین جانیں میں ایسا نہ کر پاتا مگر پختون نے تب تک یہ بات زبان پہ لانا گوارا نہ سمجھا جب تک میری نظر اس کے پیروں پہ نہیں پڑی۔ اس وقت سردی کی شدت صرف میں سمجھ سکتا ہوں یا میرا اللہ جو ہر چیز سے واقف ہے۔ اللہ پختون کو دنیا اور آخرت کا اجر دے۔

اب واپسی پہ پختون کو شدید قسم کا ذہنی دباؤ آگیا کہ چابی کیسے نکالیں گے اور یہاں تو کسی ادارے کو فون کرنا پڑے گا وغیرہ وغیرہ۔ میں نے پختون سے کہا بھائی میں کچھ حل کرتا ہوں۔ ساتھ ہی بار کے باہر کچھ باکسر کھڑے تھے، دیو قامت قسم کے۔ میں نے با با کا جیکٹ پہنا ہوا تھا، چھ فٹ کے قد سے شاید میں ان کو اپنی ہی کسی نسل کا باشندہ محسوس ہوا یا ان کے دل میں اللہ نے ڈالا۔ وہ بھاگ کے گئے، ڈاکٹر کا وہ آلہ لے کے آئے جو وہ کانوں میں رکھ کے دل کی دھڑکن اور سینے کی خرابی کا اندازہ لگاتے ہیں، اسٹیتھوسکوپ جسے انگریزی زبان میں کہا جاتا ہے۔ وہ گاڑی کے شیشے میں گھسایا اور کوئی جادوئی سا طریقہ اپناتے ہوئے گاڑی کا دروازہ اور لاک جھٹ سے کھول دیا۔

پختون شنواری کے تو جیسے چہرے کے تاثرات اچانک خوشی میں بدل گئے اور مجھے کہتے ہیں: "مان گیا رحیم شاہ”۔ پختون کے یہ الفاظ میرے کانوں میں ایسے گونجے جیسے میں نے پاکستان کو کرکٹ کا ورلڈ کپ جتا دیا ہو۔ گاڑی میں بیٹھے اللہ کا شکر ادا کیا، ادھر ہی بیٹھے بیٹھے عشا کی نماز پڑھی اور واپس مسیساگا روانہ ہوئے۔ بہت سفر کیے، بہت دوستوں نے ساتھ دیا، ان سب کی مہربانی، مگر پختون شنواری کے ساتھ نیاگرا فالس کی یہ داستان میں جب بھی گھر میں سناتا ہوں، پختون شنواری کے لیے دل میں عزت دس گنا بڑھ جاتی ہے۔ دوستی یاری میں صحافیوں کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا، یہ تعلق بھائیوں جیسا ہوتا ہے۔ مگر اتنی سردی میں چپل پہنے کوئی لب کشائی بھی نہ کرے، یہ صرف پختون شنواری کر سکتا ہے، رحیم شاہ بھی نہیں۔

پختون شنواری کے علاوہ کینیڈا میں ہمارے ایک اور ساتھی محترم اشفاق احمد تھے… ان کے ساتھ ڈاؤن ٹاؤن اور قریبی ٹورنٹو کے پاس سکی (Ski) پہاڑوں اور مختلف جھیلوں کی داستان اگلی قسط میں۔ ان کا تعارف تو بعد میں کریں گے مگر اتنا بتاتا چلوں کہ جب وہ خبریں پڑھتے ہوئے کہتے تھے "میں ہوں اشفاق احمد” تو خدا گواہ فلم کے امیتابھ بچن کا ڈائیلاگ میگا فون لاؤڈ اسپیکر کے کانوں میں گونج پڑتا تھا۔ ملتے ہیں اگلی نشست میں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے