فیضانِ مدینہ ؛ جہاں دلوں کو قرار ملتا ہے

یہ شہرِ کراچی ہے… شور، ہجوم، تیز رفتار زندگی اور بے شمار فکری الجھنوں کا شہر۔ مگر اسی شہر کے دل میں ایک ایسا مقام بھی ہے جہاں قدم رکھتے ہی دنیا کی ہلچل جیسے خاموش ہو جاتی ہے۔ حالیہ دنوں مجھے عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ میں حاضری کی سعادت نصیب ہوئی، اور یوں محسوس ہوا جیسے دل کو مدتوں بعد اپنی اصل پناہ گاہ مل گئی ہو۔

یہ صرف اینٹوں اور پتھروں کی عمارت نہیں، یہ دلوں کی تعمیر کا کارخانہ ہے۔ یہ وہ مرکز ہے جو امیرِ اہلِ سنت، بانیٔ دعوتِ اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری کی نسبت سے پہچانا جاتا ہے ،وہ شخصیت جنہوں نے عشقِ رسول ﷺ کو عام کرنے اور امت کی اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔

مرکز میں داخل ہوتے ہی جو منظر آنکھوں کے سامنے آیا، وہ الفاظ میں مکمل طور پر بیان کرنا آسان نہیں۔ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے عاشقانِ رسول ﷺ، خاموشی سے قرآن کی تلاوت میں مشغول۔ کہیں ذکر کی مدھم صدائیں، کہیں آنکھوں سے بہتے آنسو، کہیں ہاتھوں کی دعاؤں میں لرزش۔ ایسا لگتا تھا جیسے زمین پر آسمان اتر آیا ہو۔

یہاں نوجوان بھی ہیں، بزرگ بھی؛ طالبِ علم بھی ہیں اور کاروباری حضرات بھی۔ سب ایک ہی صف میں، ایک ہی مقصد کے ساتھ اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے۔ فرض و سنت سیکھنے کے حلقے سجے ہوئے ہیں، بیانات جاری ہیں، اصلاحِ اعمال کی بات ہو رہی ہے۔ ہر چہرہ ایک داستان سناتا ہے، تلاش کی داستان، توبہ کی داستان، اور امید کی داستان۔

اس روحانی فضا میں کھڑے ہو کر احساس ہوتا ہے کہ اصل طاقت نہ دولت میں ہے، نہ شہرت میں، بلکہ اس تعلق میں ہے جو بندہ اپنے رب سے جوڑ لے۔ فیضانِ مدینہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ اگر نیت خالص ہو تو بکھرے ہوئے دل بھی سنور سکتے ہیں، اور بے سمت زندگیاں بھی راستہ پا سکتی ہیں۔

ہماری سوسائٹی کو آج جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ یہی روحانی بیداری ہے۔ اگر گھروں، بازاروں اور اداروں میں یہی خشیت، یہی اخلاص اور یہی نظم و ضبط آ جائے تو ہمارے حالات بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔

آج جب انسان ترقی کے نام پر چاند تک پہنچ گیا ہے مگر اپنے ہی دل کے اندر جھانکنے سے قاصر ہے، ایسے میں فیضانِ مدینہ جیسے مراکز ہمیں ہماری اصل پہچان یاد دلاتے ہیں۔ یہ ہمیں بتاتے ہیں کہ اصل کامیابی عہدوں میں نہیں، عاجزی میں ہے؛ اصل دولت بینک بیلنس میں نہیں، دل کے سکون میں ہے؛ اور اصل عزت لوگوں کی تعریف میں نہیں، رب کی رضا میں ہے۔

اگر ہم میں سے ہر شخص اپنے اندر ایک چھوٹا سا “فیضانِ مدینہ” آباد کر لے یعنی نماز کی پابندی، اخلاق کی بہتری، سچائی، خدمتِ خلق اور عشقِ رسول ﷺ تو یقین کیجیے ہمارے گھروں میں بھی نور اتر آئے گا اور معاشرہ بھی سنور جائے گا۔

یہ صرف ایک حاضری نہیں تھی، یہ دل کی بیداری کا لمحہ تھا۔ اور میں، فیاض احمد رانا، اس لمحے کو اپنی زندگی کی قیمتی متاع سمجھتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس نور کو سنبھال کر رکھنے اور اسے آگے پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے