رمضان المبارک کی مناسبت سے استفہامی انداز میں
سوال: آغاز حضرت شاہ صاحبؒ کے تعارف سے مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ان کے نام و نسب کے حوالے سے پڑھے لکھے حلقے میں بھی کچھ غلط معلومات عام طور پر شائع ہیں،اس کی حقیقت کیا ہے؟
جواب:میرے خیال میں کسی بھی شخصیت کے احوال ووقائع کا سب سے مستند ماخذ اس کی خودنوشت ہوتی ہے۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی خود نوشت سوانح عمری ،”الجزء اللطیف فی ترجمة العبد الضعیف“ میں ان کے اپنے حالات اور سوانح کی تفصیل موجود ہے۔یہ رسالہ جیساکہ نام سے ظاہر ہے،عربی زبان میں تحریر کیا گیا۔اردو ترجمہ پروفیسر خلیق احمد نظامی صاحب نے کیا ہے اور ”مجموعہ رسائل امام شاہ ولی اللہؒ“ کے بالکل ابتدا میں مولانا مفتی عطاء الرحمٰن قاسمی صاحب نے شامل کیا ہے۔ شاہ صاحب کے اس رسالے کو بنیاد بنا کر کہا جائے تو ان کا اسم گرامی ولی اللہ بن عبد الرحیم اور تاریخی نام ”عظیم الدین“ ہے۔زیر مطالعہ کتاب کے شروع میں بھی وہ فقیر ولی اللہ بن عبدالرحیم کی تصریح فرماتے ہیں البتہ فتح الرحمٰن کے دیپاچے میں وہ اپنا نام احمد بن عبدالرحیم ،لقب ولی اللہ ،وطن دہلی اور نسب فاروقی ذکر کرتے ہیں۔دیباچہ فتح الرحمٰن کے مترجم مولانا مشتاق احمد تجاوری صاحب ہیں۔
الفوز الکبیر کے اردو شارح مولانا خورشید انور قاسمی فیض آبادی کے مطابق شاہ صاحب کاکشفی نام ”قطب الدین احمد “ ہے جو ان کی ولادت سے قبل ایک مولود سعید کی بشارت کے طورشیخ قطب الدین بختیار کاکیؒ نے ہدایت فرمایا تھا۔”انفاس العارفین“ میں حضرت شاہ صاحبؒ نے اس کا تفصیلی پس منظر ذکر کیا ہے۔واضح رہے کہ ”انفاس العارفین“شاہ صاحبؒ کے مختلف کتب و رسائل کا مجموعہ ہےجس کے ترجمہ نگار محمد فاروق القادری صاحب ہیں۔
مقدمہ نادر مکتوبات شاہ ولی اللہؒ مرتبہ مولانا نسیم احمد امروہوی،میں ان کے پیش کردہ نسب نامے کے مطابق،شاہ صاحبؒ بتیس واسطوں سے فاروقی النسل ہیں۔شاہ صاحبؒ کی تصریح اسکی تائید کرتی ہے۔معلوم نہیں ”رود کوثر“ میں شیخ محمد اکرامؒ نے اس طرف تفصیلی تعرض کیوں نہیں کیا حالانکہ وہ شاہ صاحبؒ کے تذکرے میں جزوی تفصیلات کا احصاء کرتے ہیں۔
حضرت الامام الکبیرؒ کے اسم گرامی سے قبل ”شاہ“ لاحقہ بھی ایک شبہ پیدا کرتا ہے کہ وہ سادات بنی ہاشم سے تعلق رکھتے ہیں۔ چونکہ ہمارے عرف میں عموماً یہ نسبت سادات کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ شاہ صاحبؒ کے ساتھ اس نسبت کا اظہار کسی قبائلی شناخت کے لئے نہیں بلکہ بطور تعظیم و احترام کیا جاتا ہے۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ اور اعلٰی حضرت مولانا شاہ احمد رضا خان بریلویؒ وغیرہ اس کی عام مثالیں ہیں۔ خانقاہ رائے پور کے مسند نشین کے اسماء کے ساتھ بھی ”شاہ“ کا لاحقہ استعمال ہوتا ہے۔ شاہ عبد الرحیم رائے پوریؒ،شاہ عبدالقادر رائے پوریؒ اور مفتی شاہ عبدالخالق آزاد ۔ یہ اسی طرح کا اضافہ ہے جو حضرت بڑے شاہ صاحبؒ کے اسم گرامی قدر کے ساتھ ہوا ہے۔ شہید بالاکوٹ صاحب تقویة الایمان و عبقات شاہ اسماعیل شہیدؒ کے متعلق تو بڑے التزام کے ساتھ کئی پڑھے لکھے لوگ ”سید“ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔جبکہ وہ شاہ صاحب کے پوتے ہیں ۔ اس سلسلے میں آگہی اور احتیاط ہونی چاہئے۔
اس قدر تفصیل اور معلومات کے تعدد و تنوع سے واضح ہوا کہ شاہ صاحبؒ کے نام و نسب کے حوالے سے تردد و اشتباہ بہرحال فطری ہے۔
(جاری ہے)