منظر بدلتا ہے صحن کے ایک کونے میں مرغیوں کا ڈربہ تھا اور کھبی ایک مرغی کو پکڑنا اور کھبی دوسری کو، کچن میں شربت بن رہا ہے اور ہے وہ مغرب سے کچھ پہلے کا وقت اور ساتھ پھل بھی ہے عموماً اس وقت ہم پھل نہیں کھاتے تھے۔۔۔
منظر بدلتا ہے رات کا وقت ہے میری آنکھ کھلتی ہے دیکھتی ہوں امی نہیں ہے کچن جاتی ہوں تو الگ ماحول ہے امی پراٹھے بنارہی ہے اور کچن میں چارپائی ہے سب اس پہ بیٹھے ہیں میں بھی ابو کے ساتھ بیٹھ جاتی ہو ایک عجیب سی خوشی ہے اس وقت چائے اور پراٹھا۔۔۔
منظر بدلتا ہے شام سے کچھ پہلے کا وقت ہے پڑوسی سے افطاری آئی ہے اور بہت مزے کی چیزیں ہے۔۔۔
منظر بدلتا ہے افطاری سے کچھ پہلے کا وقت ہے اور ٹی وی پہ عدنان سمیع کی آواز اے خدا اے خدا ۔۔۔۔ جس نے کی جستجو ۔۔۔مل گیا اس کو تو۔۔۔ میں حمد سن رہی ہوں۔۔۔
منظر بدلتا ہے شام میں بادل تھے صبح انگلش کا پیپر ہے اور افطاری کے بعد نیند بھی آرہی ہے اور پھر بارش شروع ہوئی اور ساتھ میں بجلی چلی گئی اور میں رات میں اٹھ کر تیاری کرونگی کہہ کر سو گئی۔۔۔۔۔۔۔۔
منظر کے بعد منظر بدلتے ہیں سردیاں گرمیوں میں اور گرمیاں پھر سردیوں میں اور یوں آج پھر وہ رمضان جو کہیں سالوں پہلے ہمارے والدین کی جوانی میں آیا تھا لمبی مسافت طے کر کے پھر آگیا۔۔۔۔
وقت کی یہ کیسی دُھول ہے اور یہ کیسے لمحے ہیں جو گزرتے نہیں اور آج پیچھے مڑ کر دیکھوں تو عمر کا ایک حصہ اپنے ساتھ لے گئی ہے۔۔۔۔
رمضان کی اپنی خوشی ہے آنے کی ویسی خوشی اور جانے کا وہی غم۔۔۔ لیکن پتہ نہیں کچھ کھو گیا ہے ۔۔۔کوئی کسک سی ہے جو بیٹھ کر، سوچنے سے بھی نہیں جاتی۔۔۔
یا پھر ہم بڑے ہوگئے ہیں ۔۔۔
رمضان المبارک مبارک ۔۔۔۔
دعاؤں میں ضرور یاد رکھیئے گا۔۔۔۔
دعاؤں کی طلبگار