جب مشرقی پاکستان کے بہاری شہری دو پاٹوں کے درمیان پِسے BBC اردو کے مضمون میں کیا نہیں بتایا گیا؟
بی بی سی اردو کے لیے رقیب حسنات صاحب، جو بی بی سی نیوز بنگلہ سے وابستہ ہیں، نے 23-02-26 کو بنگلہ دیش کے حالیہ انتخابات میں جماعت اسلامی کی کامیابی پر ایک تفصیلی مضمون شائع کیا ہے۔ مضمون پڑھتے وقت میری نظر پہلے اس تصویر پر پڑی جس میں کچھ مسلح نوجوان دکھائے گئے ہیں۔ کیپشن میں صرف "Getty Images” لکھا ہے اور یہ سطر درج ہے:
"سنہ 1971 کی جنگ میں جماعت اسلامی کے کردار پر بات کی جاتی ہے۔”
یہ نوجوان کون ہیں؟
کس تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں؟
کس سال کی تصویر ہے؟
کچھ نہیں بتایا گیا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مکتی باہنی کے جوان ہوں تحقیق لازم ہے۔ وہی مکتی باہنی جس نے "مخبر” کا الزام لگا کر بہاری نوجوانوں کو گلیوں میں ذبح کیا۔ لیکن بی بی سی کے مضمون میں مکتی باہنی کا ذکر صفر ہے۔
یہ تصویری ابہام اتفاقی نہیں، یہ اُس بڑے بیانیاتی یک طرفہ پن کی علامت ہے جس میں 1971ء کی تاریخ لکھی جاتی ہے۔
جنوری تا مارچ 1971ء میں جب عوامی لیگ کے مسلح کارکنوں نے مشرقی پاکستان بھر میں اردو بولنے والے بہاریوں کا قتل عام شروع کیا چٹاگانگ، کھلنا، میمن سنگھ، ڈھاکہ تو ان پاکستانیوں/بہاریوں/نہتے شہریوں کے پاس کیا راستہ تھا؟ ایک طرف مکتی باہنی تھی جو "مخبر” کا الزام لگا کر مرد، عورت، بچوں اور بزرگوں کو مارتی تھی؛ دوسری طرف ریاست تھی جو تحفظ کا وعدہ کر رہی تھی۔ ایک عام شہری کیا کرے؟
کیا ان کو ملک توڑنے والوں کے ساتھ کھڑا ہو جانا چاہیے تھا؟ فرض کریں کہ وہ ایسا کرتے بھی تو کیسے؟ مرنے سے پہلے ان کی وفاداری یا بنگالیوں کے لیے ان کے جذبات کون پوچھ رہا تھا؟ بس ان کا اردو اسپیکنگ ہونا، بہاری ہونا ہی کافی تھا چاہے انہیں بنگلہ زبان پر عبور ہو یا ان کے خاندان میں بنگالی لڑکے یا لڑکی سے شادی ہوئی ہو۔ سب نفرت کی آگ میں جل گیا۔ اسکول کے دوست، فیکٹری میں ساتھ کام کرنے والے، ریلوے کے ساتھی، کالج کے ہم جماعت، محلے دار سب سفاک "مکتی باہنی” بن گئے۔
مغربی پاکستان کے سویلین اور عسکری ایلیٹس کا غصہ ان بے بس لوگوں پر اترا۔ ہاں، انسانیت کئی بار سانس لیتی ہوئی بھی نظر آئی۔ کئی بنگالی خاندانوں نے بہاری خاندانوں کو اللہ پاک کی مدد سے مکتی باہنی نامی قہر سے بچایا۔
لیکن سوالات باقی ہیں اور یہ وہ پریشان کن سوالات ہیں جو عالمی میڈیا نے آج تک نہیں پوچھے۔
البدر اور الشمس ایک ہی لفظ میں نہ سمیٹیں
میں یہ بات کئی بار لکھ چکی ہوں کہ البدر اور الشمس میں فرق کو جاننا ضروری ہے۔ بی بی سی کے مضمون نے ان تنظیموں کو ایک ہی لفظ "ملیشیا” میں سمیٹ دیا۔
مضمون سے ایک اقتباس پیشِ خدمت ہے:
"جب سنہ 1971 کی جنگ شروع ہوئی تو جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش کی آزادی کی مخالفت کی اور متحدہ پاکستان کے حق میں کھڑی ہوئی۔ اس وقت پاکستانی حکام کے تعاون سے ایک امن کمیٹی بھی بنائی گئی تھی۔ اسی قیادت کے تحت رضاکار، البدر اور الشمس جیسی ملیشیا فورسز قائم ہوئیں، جنھیں جنگی جرائم میں مدد کرنے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔”
اس مختصر اقتباس میں کئی سوال چھپے ہیں۔
پہلا یہ کہ پاکستان کے ٹوٹنے کے اس خوں آلود اور الم ناک مرحلے کو محض "بنگلہ دیش کی آزادی” لکھ کر ایک یک طرفہ بیانیے کو آگے بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ اس واقعے کے کئی فریق تھے، کئی زاویے تھے اور کئی ایسے زخم تھے جو آج بھی مندمل نہیں ہوئے۔
دوسرا یہ کہ رضاکار، البدر اور الشمس یہ تینوں ایک جیسے نہیں تھے۔ ان کی ساخت، تشکیل اور کردار میں واضح فرق تھا، جسے اجاگر کیا جانا چاہیے تھا۔
اور تیسرا اور سب سے اہم وہ حقائق جو سرکاری یادداشت کا حصہ نہیں بنے، جو نصاب میں نہیں پڑھائے گئے، جو "کیمپوں” کی دیواروں کے اندر دفن ہیں — ان پر بھی بات ہونی چاہیے تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ البدر اور الشمس کی ساخت، تشکیل اور حکمت عملی مختلف تھی۔ ان گروہوں پر سنگین الزامات بھی عائد ہوئے، اور یہ الزامات بنگلہ دیشی عدالتی فیصلوں کا حصہ بنے۔ لیکن اسی تاریخ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے: ان گروہوں میں شامل ہونے والوں میں کچھ وہ نوجوان بھی تھے جو خود کو محاصرے میں محسوس کر رہے تھے۔ کچھ بنگالی تھے، کچھ غیر بنگالی۔ 1971ء کی زمین پر شناختیں اتنی سادہ نہیں تھیں جتنی بعد کے بیانیوں میں بنا دی گئیں۔
فرق بتانا تاریخی دیانت ہے۔
کسی بھی گروہ کو مکمل شیطان یا مکمل معصوم بنا دینا تاریخ نہیں، سادہ کاری ہے۔
کریسنٹ انٹرنیشنل کے مطابق دونوں تنظیمیں 16 دسمبر 1971ء کو پاکستانی فوج کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ہی تحلیل ہو گئیں۔ بہاری عینی شاہدین کے مطابق مکتی باہنی کے بعض بنگالی افراد بھی البدر اور الشمس میں شامل ہوتے تھے۔
بہاریوں کی نسل کشی وہ باب جو نہیں لکھا جاتا
پورے مضمون میں اردو بولنے والی بہاری کمیونٹی کا ایک لفظ نہیں۔ نہ مارچ 1971ء کے قتل عام کا ذکر، نہ جنیوا کیمپ کا، نہ اُن ہزاروں بہاری مردوں، عورتوں اور بچوں کا جو آج بھی ڈھاکہ کے کیمپوں میں 4×4 سے 7×7 فٹ کے قبر نما کمروں میں زندگی گزار رہے ہیں نہ پاکستانی شہری، نہ بنگلہ دیشی محض "پھنسے ہوئے لوگ”۔
ایک تحقیق کے مطابق 64 ہزار سے زائد بہاری اور غیر بنگالی 1971ء میں مارے گئے۔ امریکی محقق رممل کا اندازہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ سرمیلا بوس نے اپنی کتاب "Dead Reckoning” میں لکھا کہ بنگالی ذرائع بہاریوں پر مظالم کا اعتراف کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کتاب پر خود بہت تنقید ہوئی کیونکہ یہ مقبولِ عام بیانیے سے ہٹ کر تھی۔
اور یہ مظالم صرف اعداد و شمار نہیں ان کا چہرہ بھی ہے۔
Getty Images کے فرانسیسی فوٹوگرافر Christian Simonpiétri نے دسمبر 1971ء میں وہ مناظر کیمرے میں قید کیے جو کسی نصاب میں نہیں پڑھائے جاتے۔ ان کی تصویر میں زمین پر پڑے انسان ہیں، چاروں طرف ہجوم ہے، مسلح افراد کھڑے ہیں اور پس منظر میں سرخ جھنڈا لہرا رہا ہے۔ انہیں "Razakar prisoners” لکھا گیا لیکن 1971ء کی تاریخ جاننے والے جانتے ہیں کہ "رضاکار”، "مخبر” اور "بہاری” یہ تینوں الفاظ اکثر ایک ہی سزا کا پروانہ بن جاتے تھے۔ الزام کافی تھا، ثبوت کی ضرورت نہ تھی۔
کاش بی بی سی نے بھی اپنے مضمون میں ایسی کوئی تصویر شامل کی ہوتی یا کم از کم اسٹیڈیم قتلِ عام کا ایک جملہ ہی لکھا ہوتا۔ لیکن یک طرفہ بیانیے میں کچھ تصویریں دکھائی جاتی ہیں، کچھ چھپائی جاتی ہیں۔
جماعت اسلامی کی بنگلہ دیشی سیاست میں واپسی ایک اہم خبر ہے اس پر تجزیہ ہونا چاہیے۔ لیکن جب اس تجزیے میں بہاری کمیونٹی کا کوئی ذکر نہ ہو، تصویروں میں مسلح افراد بغیر شناخت کے دکھائے جائیں اور سیاق و سباق غائب ہو، تو یہ صحافت نہیں، بیانیہ سازی ہے۔
تاریخ کا انصاف یہ ہے کہ ہر فریق کی بات سنی جائے بشمول اُن بہاریوں کے جن کی آواز آج بھی پنجرہ نما نام نہاد کیمپوں کی دیواروں میں بند ہے۔
تاریخ کا انصاف کیا ہے؟
تاریخ کا انصاف یہ نہیں کہ ایک فریق کو مجرم اور دوسرے کو معصوم لکھ دیا جائے۔
تاریخ کا انصاف یہ ہے کہ ہر بے گناہ جان کو برابر اہمیت دی جائے چاہے وہ بنگالی ہو یا بہاری۔
اگر ہم واقعی ماضی سے سیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ ماننا ہوگا کہ 1971ء میں انسان ہارے تھے سیاست جیتی تھی۔
اور جب تک کیمپوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی شناخت واضح نہ ہو، جب تک تاریخ کی کتابوں میں سب کی آواز شامل نہ ہو، تب تک یہ باب مکمل نہیں ہوگا۔
پس نوشت:
کاش بی بی سی جیسے اہم پلیٹ فارم سے ایسے تجزیے کا فوری نوٹس پاکستانی اکیڈمیا اور صحافت کے بڑے ناموں کی جانب سے لیا جاتا اور ملک ٹوٹنے کے المیے کو دیانت داری سے پیش کیا جاتا۔
شاید مجھے ایک اور کالم لکھنا ہوگا اس جلتے ہوئے سوال پر کہ بنگلہ دیش کی جماعت اسلامی، جس نے "آزادی” کی مخالفت کی، آج 68 نشستیں جیت کر پارلیمان میں بیٹھ رہی ہے۔ بنگلہ دیش اس کا ملک ہے، اس کی سیاست ہے، اس کا مستقبل ہے۔ لیکن وہ بہاری، جنہوں نے بس اتنا کیا کہ اپنی ریاست کا ساتھ دیا جو ہر شہری کا حق ہے وہ آج نہ پاکستانی ہیں نہ بنگلہ دیشی۔ نہ کوئی جھنڈا ان کا، نہ کوئی آئین، نہ کوئی وکیل۔
پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی ناکامیوں اور خود غرضانہ فیصلوں کی قیمت آخر انہیں بے بس لوگوں نے کیوں ادا کی؟ اور ادا کرتے کرتے اب تھکے ہوئے، ٹوٹے ہوئے، بوڑھے ہو رہے ہیں "کیمپوں” میں جہاں پیدا ہوئے، جہاں جوان ہوئے، جہاں مر جائیں گے اور دنیا کو خبر بھی نہ ہوگی۔
اور ہاں اب جب کہ بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دوستی کی باتیں ہو رہی ہیں، تو کہیں کہیں کچھ وی لاگز آ رہے ہیں، کچھ آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ جو کہانی دہائیوں میں کسی اخبار نے نہیں چھاپی، وہ آج ایک موبائل کیمرے نے دنیا کو دکھا دی۔
غالب کا یہ شعر شاید برمحل ہو:
؎ کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
یا شاید یہ شعر قدرے بہتر لگے:
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے، لیکن
خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہوتے تک۔