بھارت کے شہر لکھنؤ سے والد کے بہیمانہ قتل کے الزام میں 21 سالہ بیٹے کو گرفتار کر لیا گیا۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس کو لکھنؤ سے دواسازی اور شراب کا کاروبار کرنے والے ایک 49 سالہ مانویندر سنگھ کے جمعے سے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی تو اس کی تلاش شروع کی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اصل کہانی اس وقت سامنے آئی جب پولیس مانویندر سنگھ کے گھر پہنچی اور پولیس کو گھر کے اندر ایک بیرل میں لاش کے ٹکڑے ملے۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے گھر کے اندر سے لاش کے ٹکڑے ملنے پر مانویندر سنگھ کے بیٹے اکشت پرتاپ سنگھ سے تفتیش کی۔
پولیس نے بتایا کہ اکشت پرتاپ سنگھ نے سخت تفتیش کے دورران اپنے والد کو قتل کرنے کا اعتراف کر لیا۔
پولیس کے مطابق مانویندر سنگھ کی خواہش تھی کہ بیٹا میڈیکل میں کیریئر بنائے لیکن بیٹا اس فیصلے کے خلاف تھا اور اسی بات پر دونوں میں اکثر جھگڑا رہتا تھا۔
پولیس نے بتایا ہے کہ اکشت پرتاپ سنگھ والد کی ضد سے تنگ آ کر ایک بار گھر سے بھاگ بھی گیا تھا اور اس بار جمعے کی شام ساڑھے 4 بجے کے قریب جھگڑے کے بعد اس نے اپنے والد کو رائفل سے گولی مار دی۔
پولیس کے مطابق اکشت پرتاپ سنگھ والد کو قتل کرنے کے بعد لاش کو تیسری منزل سے گراؤنڈ فلور پر لایا اور ایک خالی کمرے میں اس کے ٹکڑے کرنے لگا جب یہ منظر بہن نے دیکھ لیا تو اس نے بہن کو ڈرا کر خاموش کروا دیا اور والد کی لاش کے ٹکڑے کر کے پلاسٹک میں پیک کر دیے اور دھڑ سمیت لاش کے کچھ حصے گھر کے اندر رکھے ہوئے نیلے ڈرم میں ڈال دیے اور کچھ گھر سے باہر لے جا کر ٹھکانے لگا آیا۔
پولیس نے اکشت پرتاپ سنگھ کے اعتراف کے بعد فرانزک ٹیم سے رابطہ کیا اور فی الحال لاش کے بقیہ حصوں کا پتہ لگانے کی کوششیں جاری ہیں۔