گوہرآباد……گلگت بلتستان کی وہ زرخیز اور باوقار دھرتی جہاں علم و دانش کی خوشبو رچی بسی ہے۔ یہ سرزمین اہل قلم، اہل فکر اور باصلاحیت نوجوانوں کی دھرتی ماں ہے۔ مگر عجیب المیہ ہے کہ اجتماعی اور سیاسی معاملات میں ہم اکثر اپنی ہی طاقت کو پہچاننے سے قاصر رہے ہیں۔ شاید اسی کم ظرفی اور بے حسی کا نتیجہ تھا کہ درجنوں بڑے مسائل سمیت پچاس برس پرانا معلق پل دو دہائیوں سے "موت کا کنواں” بنا کھڑا تھا، خستہ، لرزاں اور خطرناک۔ گزشتہ پندرہ سال سے یہی خوف دامن گیر رہتا کہ کہیں کوئی بڑا حادثہ نہ ہو۔
دو ہزار دس سے لے کر 2025 تک میں نے اس پل کی زبوں حالی، حکومتی عدم توجہی اور محکمانہ سستی پر کئی کالم اور سوشل میڈیا پوسٹس لکھیں۔ مقتدر حلقوں کو پکارا۔آواز بلند کی، دل جلایا، مگر جواب میں خاموشی کی دھند ہی ملی۔ پچاس سال پہلے اس پل کی بنیاد رکھنے کا ابتدائی کریڈٹ گوہرآباد کے ہی ایک دردمند سپوت، انجنئیر جمعہ سید مرحوم کو جاتا ہے، بہرحال یہ پل وقت کے تھپیڑوں سے تھک چکا تھا۔ اس کی لکڑی کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں اور ہم سب اس کے لرزتے وجود پر روزانہ قدم رکھتے تھے۔ اور خوف کے سائے میں پار کرتے تھے۔
آج علی الصبح، جب پڑی بنگلہ سے چلاس کالج کے لیے نکلنا تھا، کے کے ایچ پر چلاس کی سمت جاتے ہوئے ایک گاڑی رکی۔ وہ ہمارے نوجوان دوست اور متحرک آفیسر انجینئر اسامہ صاحب تھے۔ وہ ہمارےفین ہیں، ہماری تحریروں کے پرانے قاری ہیں۔ پہلے بھی ان کے ساتھ گلگت سے چلاس کے اسفار ہو چکے تھے، مگر آج کی منزل کچھ اور تھی۔ ڈرنگ کے قریب پہنچ کر انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"اگر دیر نہیں ہو رہی ہو تو پل کا تعمیراتی کام دیکھتے چلیں۔”
یہ جملہ میرے لیے خوشخبری تھا۔ ہم پل پر پہنچے، اور منظر بدل چکا تھا۔ جہاں کبھی لکڑی کی تھکی ہوئی باہیں تھیں، وہاں اب فولاد کی مضبوطی جنم لے رہی تھی۔ معلوم ہوا کہ یہ کام انجینئر اسامہ (ایس ڈی او) کی براہِ راست نگرانی میں جاری ہے۔
انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ "گلگت بلتستان میں پہلی مرتبہ مکمل اسٹیل سسپنشن برج ماڈل متعارف کرایا جا رہا ہے۔تقریباً چونتیس ملین کی لاگت سے کام مکمل ہوگا، لفٹ سائڈ پر آر سی سی ٹاور بھی بنا ہے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ "گلگت بلتستان میں ماضی میں 1900ء سے 2000ء کی دہائی تک زیادہ تر دریا عبور کرنے کے لیے لکڑی کے معلق پل تعمیر کیے گئے۔ اُس وقت یہ ضرورت کے مطابق موثر تھے، مگر وقت کے ساتھ بڑھتی ٹریفک، بھاری گاڑیوں اور موسمی اثرات نے ان کی ساختی کمزوریاں عیاں کر دیں۔دڑنگ گوہرآباد کا تقریباً 280 فٹ طویل پل بھی اسی فرسودگی کا شکار تھا۔ لکڑی کا فرش، عرضی شہتیر اور محدود برداشت، یہ سب اب جدید تقاضوں کے سامنے ناکافی ہو چکے تھے۔ بار بار کی مرمت گویا زخم پر عارضی مرہم تھی، مستقل علاج نہیں۔”
مگر میں خود دیکھ بھی رہا تھا اور مشاہدہ بھی ہورہا تھا کہ اب منظر مختلف ہے۔ مکمل فولادی ڈیک سسٹم، اسٹیل کراس گرڈرز، مضبوط فولادی شیٹس، یہ سب محض مٹیریل کی تبدیلی نہیں بلکہ سوچ کی تبدیلی ہے۔ عارضی مرمت سے مستقل اور پائیدار حل کی طرف ایک جرات مندانہ قدم۔
برادرم اسامہ نے بتایا کہ "کشمیر میں اس طرز کو اپنایا گیا ہے، گلگت بلتستان میں لوہے کا معلق پل کا پہلا تجربہ ہے، ان شا اللہ یہ ماڈل کامیاب ہوگا”۔ ہم نے کہا کہ ان شا اللہ کامیاب بھی ہوگا اور آئندہ تمام معلق پل اسی نہج پر بنیں گی۔ میرے ایک سوال پر انہوں نے یہ بھی کہا کہ "لفٹ سائڈ کے آر سی سی ٹاور کے ساتھ جو دراڑیں سوشل میڈیا میں گردش کررہی ہیں وہ خطرے سے باہر ہیں۔ ان شا اللہ کچھ نہیں ہوگا۔”
میں سمجھتا ہو کہ گوہرآباد کا یہ لوہے والا پل براہِ راست گوہرآباد کی تقریباً 20 ہزار آبادی کے لیے زندگی کی نئی شاہراہ بنے گا۔ طلبہ کی تعلیمی آمدورفت، کسانوں کی زرعی نقل و حمل، بالائی علاقوں کے مکینوں کی روزمرہ ضروریات، سب کے لیے ایک محفوظ اور قابلِ اعتماد راستہ ہوگا۔ تتا پانی میں بلاک کی صورت میں چھوٹی گاڑیوں کے لیے متبادل گزرگاہ بھی یہی ہوگی۔
یہ بات بھی واضح ہے کہ اسٹیل ماڈل کے فوائد بے شمار ہیں۔ زیادہ بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت، طویل المدتی پائیداری، مرمت کے اخراجات میں نمایاں کمی، عوامی تحفظ میں اضافہ، لکڑی کے کم استعمال سے جنگلات کا تحفظ اور کئی اہم فوائد شامل ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ گلگت بلتستان ماحولیاتی لحاظ سے نہایت حساس خطہ ہے۔ گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے (GLOF)، سیلابی کیفیت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پہلے ہی نمایاں ہو چکے ہیں اور کئی الرٹ بھی جاری ہوچکے ہیں۔ ایسے میں یہ ضروری ہے کہ محکمہ تعمیرات و مواصلات اور اعلیٰ ترقیاتی حکام آئندہ منصوبوں میں اسٹیل سسپنشن برج ماڈل کو ترجیح دیں، تاکہ ترقی اور تحفظ ایک ساتھ آگے بڑھ سکیں۔
درڑنگ گوہرآباد کا یہ زیرِ تعمیر پل محض ایک ڈھانچہ نہیں، یہ مستقبل کی سمت کا اعلان ہے۔ اگر اس ماڈل کو وسعت دی گئی تو یہ پورے گلگت بلتستان کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
پل پر کھڑے ہو کر میں نے ماضی کی لرزتی لکڑیوں اور حال کے مضبوط فولاد کو ایک ساتھ دیکھا۔ دل میں ایک خاموش مسرت اتر آئی۔ پندرہ برس کی تحریری جدوجہد کا ثمر آنکھوں کے سامنے تھا۔ ایک غیر مرئی خوشی تھی، ایک اطمینان کہ آواز رائیگاں نہیں گئی۔
انجینئر اسامہ جیسے نوجوان آفیسر کی سنجیدگی اور توجہ اس بات کی ضمانت ہے کہ ان شاء اللہ بہت جلد یہ پل مکمل ہوگا۔ اندازہ ہے کہ دس پندرہ رمضان تک پیدل آمدورفت کی سہولت فراہم کر دی جائے گی اور عید کے بعد مکمل ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔
گوہرآباد کا یہ نیا پل ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب فیلڈ مشاہدہ، تکنیکی بصیرت اور ماحولیاتی شعور یکجا ہو جائیں تو ترقی محض تعمیر نہیں رہتی، وہ ایک عہد بن جاتی ہے۔
اور آج، اس عہد کی بنیاد فولاد پر رکھی جا چکی ہے۔
گوہرآباد کے سوشل میڈیا کے متحرک احباب کو پل کی خستہ حالی کی طرح دیگر میجر ایشوز پر بھی مل کر آواز اٹھانی چاہیے تاکہ گوہرآباد پل کی طرح دیگر بگڑے کام بھی "فولادی” انداز میں آگے بڑھ سکیں۔