رمضان: خود سازی، عبادت اور زندگی کی اصلاح کا مہینہ

رمضان محض بھوک اور پیاس کا نام نہیں۔ یہ مہینہ دراصل انسان کو اس کی اصل کی طرف لوٹانے آتا ہے۔ یہ ایک ایسا وقفہ ہے جو سال کے ہنگاموں میں ہمیں روک کر یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کون ہیں، کہاں کھڑے ہیں اور کس سمت جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ رمضان زندگی میں ہر سال ایک نئے آغاز کا موقع بن کر آتا ہے۔

اس مہینے کی سب سے پہلی دعوت نیت کی درستگی ہے۔ نیت صرف روزے رکھنے کی نہیں بلکہ اپنی پوری زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی ہوتی ہے۔ جب نیت صاف ہو جائے تو عبادت بوجھ نہیں رہتی، بلکہ دل کا سکون بن جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے رب سے سچا تعلق جوڑتا ہے اور دل میں یہ خواہش جاگتی ہے کہ یہ مہینہ محض رسم نہ رہے بلکہ تبدیلی کا ذریعہ بنے۔

رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ عبادت صرف نماز اور روزے تک محدود نہیں۔ اپنے اخلاق، زبان، نگاہ اور رویے کو قابو میں رکھنا بھی عبادت ہے۔ اس مہینے میں انسان کو اپنے رویوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیا ہم دوسروں کو اذیت تو نہیں دیتے؟ کیا ہماری زبان کسی کا دل تو نہیں توڑتی؟ کیا ہماری نگاہیں پاکیزہ ہیں؟ اگر ان سوالوں کے جواب میں کمی نظر آئے تو رمضان بہترین موقع ہے خود کو درست کرنے کا۔

یہ مہینہ ہمیں اپنے تعلقات پر بھی غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ گھر کے افراد، والدین، بہن بھائی، دوست اور پڑوسی۔ کہیں کوئی رشتہ ٹوٹا ہوا ہے، کہیں کوئی دل آزردہ ہے، کہیں کوئی غلط فہمی دیوار بنی کھڑی ہے۔ رمضان کا پیغام یہ ہے کہ دل صاف کیے جائیں، معاف کیا جائے، اور محبت کو دوبارہ زندہ کیا جائے۔ کیونکہ اللہ کے قریب ہونے کا ایک راستہ اس کی مخلوق کے دلوں کو جوڑنا بھی ہے۔

رمضان کا ایک بڑا سبق وقت کی قدر ہے۔ سحری، افطار، نماز، تلاوت، دعا۔ یہ سب ہمیں نظم و ضبط سکھاتے ہیں۔ اگر ہم اس مہینے میں اپنے وقت کو سنبھالنا سیکھ لیں تو سال کے باقی دن بھی سنور سکتے ہیں۔ فضول مشاغل، بے مقصد گفتگو اور لاحاصل مصروفیات سے بچ کر اگر ہم اپنے دن کا کچھ حصہ اللہ سے بات کرنے کے لیے مخصوص کر لیں تو یہی لمحے ہماری زندگی کا سرمایہ بن جاتے ہیں۔

یہ مہینہ ہمیں اپنی خواہشات کو قابو میں رکھنے کی تربیت دیتا ہے۔ کھانے پینے سے رک جانا دراصل نفس کو یہ سکھانا ہے کہ ہر خواہش پوری کرنا ضروری نہیں۔ جب انسان اپنے نفس پر قابو پا لیتا ہے تو وہ گناہوں سے بچنا بھی سیکھ جاتا ہے۔ یہی ضبط، یہی صبر، رمضان کی اصل روح ہے۔

رمضان کے اندر دعا کو خاص مقام حاصل ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں ٹوٹے دلوں کی صدائیں آسمان تک پہنچتی ہیں۔ انسان اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا کر صرف اپنی ضروریات نہیں بلکہ اپنی اصلاح، اپنے کردار، اپنی آخرت اور پوری امت کے لیے مانگتا ہے۔ خاص طور پر وہ راتیں جو سکون اور خاموشی لے کر آتی ہیں، انسان کو اپنے رب کے قریب کر دیتی ہیں۔ ان لمحوں میں مانگی گئی دعائیں زندگی کا رخ بدل سکتی ہیں۔

یہ مہینہ ہمیں کھڑے ہونے، جھکنے اور رونے کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔ قیام، سجدہ، تلاوت۔ یہ سب صرف عبادت نہیں بلکہ انسان کی روح کی غذا ہیں۔ جو شخص اس مہینے میں اللہ کے سامنے عاجزی سیکھ لیتا ہے، وہ زندگی کے مسائل کے سامنے بھی مضبوط کھڑا ہو جاتا ہے۔

رمضان کا آخری حصہ ہمیں ایک اور اہم سبق دیتا ہے۔ استقامت۔ یہ کہ نیکی کو صرف چند دنوں کا مہمان نہ بنایا جائے بلکہ اسے عادت بنایا جائے۔ یہ وقت ہے خود سے وعدہ کرنے کا کہ جو کچھ اس مہینے میں سیکھا، اسے باقی زندگی میں بھی جاری رکھا جائے۔ نماز، اخلاق، صبر، خدمت، سب کو رمضان کے بعد بھی زندہ رکھا جائے۔

اور پھر آتی ہے چاند رات۔

چاند رات صرف خوشی اور تیاری کا نام نہیں۔ یہ ایک لمحہ ہے رک کر سوچنے کا۔ کیا ہم اس مہینے سے وہ حاصل کر پائے جو حاصل کرنا تھا؟ کیا ہم نے اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کی؟ کیا ہم نے خود کو پہلے سے بہتر بنایا؟ چاند رات دراصل حساب کا لمحہ ہے، شکر کا لمحہ ہے، اور دعا کا لمحہ ہے۔ شکر اس بات کا کہ اللہ نے رمضان تک پہنچایا، اور دعا اس بات کی کہ جو کمی رہ گئی، اللہ اسے اپنی رحمت سے پورا فرما دے۔

عید خوشی کا دن ہے، لیکن وہ خوشی اسی کے لیے مکمل ہوتی ہے جس نے رمضان کو سنجیدگی سے گزارا ہو۔ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ خوشی بانٹی جائے، ناراضگیاں ختم کی جائیں، اور اللہ کے بندوں کے ساتھ نرمی اور محبت کا رویہ اختیار کیا جائے۔

رمضان آتا ہے، ٹھہرتا ہے، اور چلا جاتا ہے۔ مگر اصل کامیابی یہ ہے کہ رمضان کے بعد بھی اس کی روشنی ہمارے دل میں باقی رہے۔ اگر ہمارا کردار، ہماری عبادت اور ہمارے تعلقات بہتر ہو جائیں، تو سمجھ لیجیے کہ رمضان نے اپنا کام کر دیا۔

یہ مہینہ ہمیں بدلنے آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم بدلنے کے لیے تیار ہیں؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے