بیٹی کی عزت

انسان دوڑتا ہوا ماؤنٹ ایورسٹ پر بھی چڑھ جائے، تب بھی ماضی پیچھا کرتا ہوا وہاں پہنچ جاتا ہے۔ باکو کے آتش کدہ میں کالی دیوی کا بت دیکھ کر ایک ہندوستانی ہندو بڑی عقیدت کا اظہار کر رہا تھا۔ مجھے تعجب ہوا تو اس نے کہا: "یہ تاریخ کا حصہ ہے، آپ قبول نہ کریں لیکن اسے تاریخ سے ختم نہیں کر سکتے۔” تاریخ جب کوئی واقعہ بیان کرتی ہے تو اسے ویسا ہی لکھنا چاہیے۔ بدقسمتی سے اسے مذہبی یا سماجی روایات کا تڑکا لگا دیا جاتا ہے۔ ناصر ادیب نے ایک پوڈ کاسٹ میں اداکارہ ریما کا تعلق ہیرا منڈی سے بیان کیا تو ہنگامہ کھڑا ہو گیا کہ وہ غربا کی مالی مدد کرتی ہے۔ ناصر ادیب کو عوامی دباؤ پر معافی مانگنی پڑی، حالانکہ معافی مانگنے سے اداکارہ ریما کا ماضی بدل نہیں سکتا۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ تاریخ کو مسخ نہیں کرنا چاہیے۔

میری جنم بھومی حافظ آباد، پنجاب کا ایک مردم خیز خطہ ہے۔ یہاں مثالی شہرت کی حامل شخصیات نے جنم لیا، جن کے نام سے موجودہ نسل بالکل واقف نہیں۔ حافظ آباد کی تاریخ میں جرنیل ہرسُکھ رائے کپور، سِکھ سپاہ کا جرنیل اور بڑا آدمی تھا۔ مذکورہ واقعہ ہمارے محترم، "تاریخِ حافظ آباد” کے مصنف عزیز علی شیخ کی زبانی سنا۔ کہا جاتا ہے کہ جب جرنیل ہرسُکھ رائے شیخوپورہ کا کاردار تھا اور وہاں سے اپنی پسندیدہ گھوڑی پر سوار حافظ آباد آ رہا تھا، راستے میں اس نے ایک نوجوان شادی شدہ جوڑے کو حافظ آباد سے شیخوپورہ کی طرف گامزن دیکھا۔ لڑکی گدھے پر سوار تھی جبکہ لڑکا پیدل ساتھ چل رہا تھا۔ اس وقت گرمی کا موسم عروج پر تھا، جنگل بیابان اور ہو کا عالم تھا۔ ہرسُکھ رائے کی نگاہ ان پر پڑی تو اس نے اپنے ایک سپاہی کو حکم دیا کہ انہیں روک کر میرے پاس لاؤ۔

اُن سے پوچھا کہ وہ کون ہیں؟ کہاں سے آ رہے ہیں؟ اور ان کی منزل کہاں ہے؟ نوجوان لڑکے نے جواب دیا کہ میرا گاؤں شیخوپورہ کے قریب ہے، تعلق اچھوت ذات سے ہے۔ یہ لڑکی میری بیوی ہے، چند دن قبل شادی ہوئی ہے اور بیوی کا تعلق حافظ آباد سے ہے۔ حافظ آباد کا نام سنتے ہی ہرسُکھ رائے چونکا، گھوڑی سے نیچے اترا اور اپنے سپاہیوں کو کہا کہ میری یہ گھوڑی اِن میاں بیوی کو دے دو اور انہیں کچھ معقول رقم بھی دو، کیونکہ یہ لڑکی میرے شہر کی ہے۔

جرنیل ہرسُکھ رائے مالی اور انتظامی معاملات میں بہت سخت اور غیر معمولی حد تک سِکھ دربار کا وفادار تھا۔ ایک مرتبہ اس نے محصولات کی وصولی کے لیے بھٹیوں کے ایک گاؤں گجیانہ کا گھیراؤ کیا ہوا تھا اور اعلان کیا تھا کہ اگر مقررہ مدت کے دوران گاؤں والوں نے سرکاری رقم ادا نہ کی تو وہ گاؤں کو آگ لگا دے گا۔ گاؤں میں افراتفری کا عالم تھا اور ہر کوئی اپنی جان بچانے کے چکر میں تھا۔ گاؤں کے چودھری کے پاس رقم کا انتظام نہیں ہو پایا تھا اور ادائیگی کا وقت بھی ختم ہو رہا تھا۔ ایسے میں ایک عورت گاؤں کے نمبردار کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ مجھے کسی طرح جرنیل کے پاس لے جاؤ، میں کوشش کروں گی کہ یہ بلا ہم سے ٹل جائے۔ نمبردار نے بڑی حیرت سے اس عورت کی طرف دیکھا اور ہاری ہوئی آواز میں کہا: بھلا تم کیا کر لو گی؟ کچھ نہیں ہو گا، جرنیل ہرسُکھ رائے بہت ظالم اور سفاک ہے۔ وہ جلد اس گاؤں کو جلا کر راکھ کر دے گا، ہمارے مال مویشی چھین کر لے جائے گا اور ہم میں سے جو بھی اس کے ہاتھ لگا، وہ مارا جائے گا۔

کہا جاتا ہے کہ وہ عورت کسی طریقے سے سِکھ فوج تک پہنچ گئی۔ سپاہیوں نے اسے ہرسُکھ رائے کے حضور پیش کر دیا۔ وہ اس عورت کو دیکھتے ہی پہچان گیا اور کہنے لگا: "تم اس گاؤں میں بیاہی ہوئی ہو۔” یاد رہے اس عورت کا تعلق حافظ آباد کے ایک قدیم خاندان سے تھا، جو جرنیل کی جاگیر کے کاشت کار تھے۔ عورت نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔ جرنیل نے اس کے سر پر پیار دیا اور کہا: "تم میری بیٹی ہو، میری عزت ہو، میرے وطن حافظ آباد کی بیٹی ہو۔” کہا جاتا ہے کہ جرنیل ہرسُکھ رائے نے محاصرہ ختم کر دیا اور گاؤں کی واجب الادا رقم اپنی گرہ سے سِکھ دربار میں جمع کرا دی۔ یاد رہے وہ عورت حافظ آباد کے مشہور تاریخی کردار جامو تیلی کی پڑپھوپھی تھی۔

زیر نظر کہانی وزیرستان کے ایک دور افتادہ گاؤں کی کچی گلیوں سے شروع ہوتی ہے۔ آئینہ وزیر، بمشکل نو سالہ بچی، جس کے گاؤں میں لڑکیوں کے لیے باقاعدہ اسکول موجود نہیں۔ کتاب ہاتھ میں نہ سہی، مگر گیند ہاتھ میں ہے؛ نصاب نہ سہی، مگر لائن اور لینتھ کی سمجھ ایسی کہ بڑے بڑے کوچ حیران رہ جائیں۔ وہ جب دوڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے مٹی کی پگڈنڈی پر کوئی امید رفتار پکڑ رہی ہو۔ بازو گھومتا ہے، گیند سیدھی آف اسٹمپ کی جڑوں کی طرف جاتی ہے اور دیکھنے والے دم بخود رہ جاتے ہیں۔

ڈیل اسٹین کے انداز میں باؤلنگ کرتی یہ بچی دراصل اس سوچ کو چیلنج ہے جو سمجھتی ہے کہ صلاحیت صرف سہولیات کی محتاج ہوتی ہے۔ نہیں! ٹیلنٹ کبھی کبھی ننگے پاؤں بھی جنم لے لیتا ہے۔ آئینہ وزیر کی باؤلنگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگی تو اس کی گونج پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی تک پہنچی۔ انہوں نے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کو اپنا فرض سمجھا۔

مگر تصویر کا دوسرا رخ دل دکھا دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی خبروں کے مطابق آئینہ وزیر کی ویڈیو بنانے والے صحافی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں نے اس معصوم بچی کو ایسے الفاظ سے یاد کیا جو قلم پر لانا بھی مشکل ہے۔ کیا ایک بچی کا کھیلنا جرم ہے؟ کیا گیند پھینکنے سے غیرت کو ٹھیس پہنچتی ہے؟ اُس معاشرے میں بغل میں بچہ رکھنا شان سمجھا جاتا ہے، جبکہ بیٹی کو تعلیم دلوانا باعثِ حقارت۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عورت صرف ایک کردار نہیں، ایک مکمل انسان ہے۔ اس کی عزت کسی رشتے کی محتاج نہیں۔ وہ صرف کسی کی ماں، بہن یا بیوی ہونے کی وجہ سے قابلِ احترام نہیں، بلکہ وہ اپنی ذات میں محترم ہے۔ اس کی شناخت اس کے وجود سے ہے۔

دعا یہ ہونی چاہیے کہ ہر گھر، ہر قوم اور ہر معاشرے میں بیٹی کو عزت، محبت اور مواقع ملیں، کیونکہ بیٹی صرف ایک خاندان نہیں سنوارتی، وہ پوری نسل کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ جب ایک بچی گیند پھینکتی ہے تو وہ صرف وکٹ نہیں گراتی بلکہ دقیانوسی سوچ کی ایک اینٹ بھی ہلا دیتی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے