گلگت بلتستان کے تین قلمی لیجنڈ

زیرِ نظر تصویر گلگت بلتستان کی افق پر درخشاں ادبی و تحقیقی لیجنڈروں کی ہے۔ آج فیس بک میں وائرل ہوئی ہے۔ اس تصویر کو دیکھتے ہی یادوں کے دریچے کھل گئے۔ دائیں جانب جمشید خان دکھی مرحوم ، درمیان میں شیرباز علی برچہ اور بائیں طرف پروفیسر عثمان علی مرحوم جلوہ فرما ہیں۔

اللہ کی قدرت دیکھیے کہ زمانۂ طالب علمی سے ہی ان تینوں بزرگوں سے میرا تعلق قائم ہوگیا تھا۔ اُس وقت میں ایک جستجو کرنے والا طالب علم تھا اور یہ حضرات علم و ادب کے افق پر روشن ستارے۔ پھر جب دو ہزار گیارہ میں مستقل گلگت آیا تو یہ تعلق محض تعارف تک محدود نہ رہا بلکہ قربت، رہنمائی اور فکری ہم نشینی میں ڈھل گیا۔ ان کی محفلیں میرے لیے درسگاہ بھی تھیں اور تربیت گاہ بھی۔

مجھے گمان ہے کہ یہ تصویر پیلس ہوٹل کی چھت پر لی گئی تھی۔ اگر حافظہ خطا نہیں کر رہا تو اس یادگار لمحے کو محفوظ کرنے والا کیمرہ بھی میرا ہی تھا اور تصویر بھی میں نے کھینچی۔ اس روز پیلس ہوٹل میں ایک ادبی پروگرام منعقد ہوا تھا۔ فضا میں علم و فکر کی سنجیدگی بھی تھی اور گلگتی روایت کی شگفتگی بھی۔ یہ تینوں حضرات اپنی اپنی متانت، وقار اور علمی جاہ و جلال کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ گفتگو کے دوران جب تاریخ، تہذیب اور علم و ادب کے موضوعات چھیڑے گئے تو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے گلگت بلتستان کی صدیوں پرانی روح ان کے الفاظ میں سانس لے رہی ہو۔

برچہ صاحب الحمدللہ حیات ہیں۔ جب سے میں پڑی بنگلہ شفٹ ہوا ہوں، ان کی خدمت میں حاضری نصیب نہیں ہوسکی، مگر دل کا رشتہ قائم ہے۔ یار زندہ صحبت باقی، باقی جمشید دکھی صاحب اور پروفیسر عثمان علی صاحب اللہ کے حضور حاضر ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں بزرگوں کو غریقِ رحمت فرمائے اور ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔ آمین۔

جمشید خان دکھی صاحب کی تحریروں اور شاعری میں مقامی احساس کی سچائی اور تہذیبی درد کی گہرائی ملتی ہے ۔ وہ اپنے اشعار اور لفظوں سے تاریخ کا چہرہ تراشتے تھے۔ شیرباز علی برچہ صاحب تحقیق کے میدان کے مردِ مجاہد ہیں، دستاویزات کی خاک چھان کر وہ ماضی کی گم شدہ کڑیاں جوڑتے ہیں اور کمال جوڑتے ہیں۔ پروفیسر عثمان علی مرحوم کی شخصیت علم،تحقیق ،شائستگی اور وقار کا حسین امتزاج تھی۔ ان کی گفتگو میں دلیل کی پختگی اور لہجے میں معلمانہ شفقت ہوتی تھی۔ بلا شبہ وہ گلگت بلتستان کی تحقیقی دنیا کے شہسوار تھے۔

ان تینوں کی ادبی و تحقیقی خدمات گلگت بلتستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے اس خطے کی زبانوں، روایتوں اور تاریخی شعور کو محفوظ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آج جب میں اس تصویر کو دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض ایک فوٹوگراف نہیں، بلکہ ایک عہد کی نمائندہ دستاویز ہے،ایک ایسا عہد جس میں خلوص، مطالعہ اور فکری دیانت کو وقار حاصل تھا۔

وقت گزر جاتا ہے، چہرے بدل جاتے ہیں، محفلیں بکھر جاتی ہیں، مگر قلم کے سچے سپاہی اپنی تحریروں کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔ یہ تینوں بزرگ بھی اپنی علمی میراث کے ذریعے آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔

اللہ کرے کہ گلگت بلتستان کی سرزمین ایسے ہی قلمی چراغ پیدا کرتی رہے، جو اپنے علم کی روشنی سے اس دھرتی کے فکری آسمان کو منور کرتے رہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے