میں عبدالرزاق سحرؔ کو ایک شاعر کی حیثیت سے جانتا تھا جوکئی شعری مجموعوں کا خالق ہے مگر عبدالرزاق سحرؔکی تحقیقی کتاب”جنّات نگر“پڑھنے کے بعدمجھے اس کے اندر کا محقق،شاعرپر غالب نظر آیا۔ تحقیق ایک مشکل کام ہے جس میں کھرا اور کھوٹا الگ کرنا پڑتاہے اور تحقیقی اصولوں کی روشنی میں حقائق تک رسائی حاصل کرنا ہوتی ہے۔دشتِ تحقیق کے مسافروں کو اپنا مطلوبہ مواد حاصل کرنے کے لئے سخت محنت درکار ہوتی ہے۔کتابوں کی ناف سے کستوری برآمد کرنا ہر کس وناکس کا کام نہیں۔اس دشت کی سیّاحی میں آبلہ پائی کے باوجود نارسائی کے ایسے کٹھن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے کہ اچھے اچھوں کا پتّاپانی ہو جاتا ہے۔اور جب موضوع بھی اتنا پُراسراراور گُنجلک ہو تو تحقیقی کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔عبدالرزاق سحرؔ نے ایک پُر اسرار مخلوق کو اپنی تحقیق کا موضوع بناکر اپنے لئے ایک مشکل ہدف کا انتخاب کیا ہے مگر تحقیقی کام سے والہانہ محبت نے اس کے ہدف کو قابلِ حصول بنا دیا ہے۔
اس موضوع پر امام ابن جوزی ؒ، امام ابن قیّمؒ اور امام جلال الدین سیوطیؒ جیسے بزرگوں نے بھی بہت کچھ لکھا اور اس کے بعد بھی اس موضوع پر ہزاروں کتب تخلیق ہوئیں۔ عبدالرزاق سحرؔ نے بھی اپنے اکابرین کی طرح تحقیقی مواد کے حصول کے لئے قرآن و حدیث سے استفادہ کیا اور پھر لفظ ”جن“ کے لغوی اور مجازی معنوں سے شروع ہونے والی مباحث کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے تقابل ادیان میں جنّات کی حقیقت تک رسائی حاصل کی۔سائنس اور فلسفے کی روشنی میں جنّات کی حقیقت معلوم کرنا کارِ دشوار تھا مگر محقق نے اپنی شبانہ روز محنت سے اس مسئلے کی تہہ تک پہنچ کر ثابت کیا کہ ما بعد الحیات کی رُو سے سائنسی حقیقت یہ ہے کہ سلفر اور فلورین کے مرکبات سے ایسی آتشیں مخلوق جو آٹھ سو درجہ حرارت پر زندہ رہ سکے،پیدا ہو سکتی ہے۔فلورو کاربونز اور سلی کانز سے بنی یہ جاندار مخلوق بغیر غذائی ضرورت کے کسی بھی سانچے میں ڈھل سکتی ہے اور مشتری جیسے انتہائی گرم سیارے پر کئی سال تک زندہ رہ سکتی ہے۔
عبدالرزاق سحرؔ نے اس خشک مضمون میں قارئین کی دلچسبی قائم رکھنے کے لئے مدارجِ عشق اور عفان وبلقہ کی داستانِ عشق کو بھی نہایت لطیف پیرائے میں بیان کیا ہے۔زیبِ داستاں کے لئے جا بہ جا اشعار کا تڑکہ بھی لگایا گیا تاکہ نثر کے ساتھ ساتھ شعری فضا بھی قائم رہے۔تاریخی واقعات کو اختصار اور جامعیت کے ساتھ بیان کیا گیا تاکہ تاریخ سے دلچسبی رکھنے والے قارئین بھی اس تحریر سے حَظ اُٹھا سکیں۔جنّات کے جدِ امجدشمامہ کی تخلیق اورشہنشاہِ جنّات یکجون کی بادشاہت کا قصہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔
آثارِ قدیمہ سے شغف رکھنے والے افراد کے لئے مصنف نے اوگ کی بیٹھک سے لے کر زیرِ سمندر شہر،دیو ہیکل مجسّموں،بعلبک اور مالٹا کی قدیم عبادت گاہوں اور پیرو کے پُر اسرار گڑھوں کا تذکرہ بھی اپنی کتاب میں شامل کیا ہے۔مصنف نے اپنی زندگی میں پیش آنیوالی کچھ ذاتی واردات کو بھی قرطاس کی زینت بنایا ہے جو نہایت دلچسب ہیں۔ عبدالرزاق سحرؔدشتِ تحقیق میں نوید ِ سحرہے۔اگر اس نے اپنی جستجو کا سفراسی ذوق وشوق سے جاری رکھا تو زمانہ اسے یاد رکھے گا۔