کینیڈا ڈائری: قسط نمبر 4

کینیڈا میں بہت سارے پاکستانی رہتے ہیں، جو مختلف قسم کے کرداروں میں رہتے ہوئے پاکستان اور کینیڈا کی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ ان میں سیاسی لوگ بھی شامل ہیں، کاروباری بھی اور بہت سارے اور شعبے بھی ایسے ہیں جہاں وہ اپنی محنت اور تسلسل کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق کینیڈا میں پاکستانی نژاد افراد کی تعداد 5 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جو کہ ٹورنٹو، مسیساگا اور ملٹن جیسے بڑے شہروں میں کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ یہ کمیونٹی کینیڈا کی معیشت اور سیاست میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور وہاں کی کل آبادی کا ایک اہم اور فعال حصہ بن چکی ہے۔ ان کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اثر و رسوخ کی بدولت کینیڈا کے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اب پاکستانی شناخت واضح طور پر نمایاں نظر آتی ہے۔ ان میں چند ایک کا تذکرہ میرے لیے فرض ہے یہاں پہ۔

ایک ان میں سے ہیں پاکستانی ایبٹ آباد و مری سے منسلک علاقوں کے انعام عباسی۔ انعام عباسی واقعی عباسیوں کی شاہی سوچ اور اخلاق کے حامل انسان ہیں۔ ان سے مرتضیٰ جاوید عباسی صاحب نے کہا تھا کہ رحیم شاہ سرکاری کام کے سلسلے میں آئیں گے اور چند دن ٹھہریں گے جہاں وہ مختلف ملاقاتیں کریں گے۔ انعام بھائی چونکہ ٹورنٹو ایئرپورٹ پہ ہی ٹیکنیکل شعبے سے وابستہ ہیں اس لیے ان سے ملاقات ایئرپورٹ پر ہی ہوئی۔ ایک توانا اور پُر عزم انسان جو مہمان نوازی کے تمام تر اصولوں سے وابستہ ہے۔

حالانکہ پوری کوشش کے باوجود مجھے پشتون شنواری نے آتے ہی اپنا مہمان بنایا مگر انعام عباسی بھائی شب و روز میرے ساتھ رابطے میں تھے، ہیں اور رہیں گے ان شاء اللہ۔ میرا ہر وقت حال احوال پوچھتے، اپنے آپ کو باخبر رکھتے اور اپنے گھنٹوں لمبی ڈیوٹی کے باوجود ہشاش باشاش رہنے کا ہنر رکھتے۔ اللہ اپنی رحمتیں انعام بھائی اور ان کے خاندان پہ رکھے۔ پرسوں بات ہوئی تو کہنے لگے والدہ صاحبہ بیمار ہیں، ان کی خدمت پہ مامور ہوں۔ اور کوشش کرتے کہ مجھے کسی قسم کی پریشانی یا دقت محسوس نہ ہو۔

سفر کی تھکاوٹ سے اور بیماری سے ایک دو دن کے آرام کے بعد انعام بھائی آئے اور میں ان کے ساتھ آنریبل سینیٹر سلمیٰ عطا اللہ جان کے پاس چلا گیا جن سے ملاقات کے سلسلے میں جناب مرتضیٰ جاوید عباسی صاحب نے درخواست کی تھی۔ انعام عباسی بھائی کے ساتھ کینیڈا میں بیتے وقت میں مجھے ان کی دو باتوں نے بہت متاثر کیا۔ ایک دین سے لگاؤ جو ان کی باتوں اور عمل میں خوب نظر آتا تھا اور دوسرا اور اہم پہلو پاکستان سے بے پناہ محبت۔ ان کی کہانیاں سن کر فلمی سا احساس ہوتا تھا کہ کوئی شخص پاکستان سے اتنی بھی محبت رکھ سکتا ہے۔ وہ کرکٹ کے بھی دلدادہ ہیں اور مختلف مواقع پہ ٹیم پاکستان کے سینئر و جونیئر کرکٹرز کو لے کر ٹورنامنٹس کرانے کا بھی تجربہ رکھتے تھے۔ آسان الفاظ میں وہ ایک ‘Gem of a person’ تھے۔

محترمہ سلمیٰ عطا اللہ جان کا تعلق پاکستان کے شہر مردان سے ہے اور وہ کینیڈا میں سینیٹر کے عہدے پر فائز ہیں جو پاکستان کے لیے بہت ہی فخر اور خوشی کی بات ہے۔ یہی نہیں اور بھی دنیا بھر میں بہت سارے ایسے پاکستانی ہیں جو مختلف سیاسی جماعتوں میں کافی اثر و رسوخ کے مالک ہیں اور سیاسی پوزیشن رکھتے ہوئے سینیٹر، منسٹر، ایم این اے اور دیگر سرکاری عہدوں پر فائز ہیں۔ سینیٹر سلمیٰ عطا اللہ جان کے والد محترم جناب سرانجام خان صاحب پاکستان میں مسلم لیگ کے سینئر رہنما رہے ہیں اور فعال کردار ادا کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کو بروقت کینیڈا میں پڑھا لکھا کر اس قابل بنایا کہ اب وہ کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بطور سینیٹر خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔

سینیٹر سلمیٰ عطا اللہ جان کی کامیابی محض ایک اتفاق نہیں بلکہ دہائیوں کی سماجی خدمت اور سیاسی جدوجہد کا ثمر ہے۔ کینیڈا کی پارلیمنٹ میں وہ پہلی پاکستانی نژاد سینیٹر ہیں جنہوں نے نسلی تنوع، انسانی حقوق اور تارکین وطن کے مسائل پر ہمیشہ توانا آواز بلند کی۔ وہ خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کی فلاح و بہبود کے لیے سینیٹ کی مختلف کمیٹیوں میں سرگرم عمل رہتی ہیں اور کینیڈا کی خارجہ پالیسی میں انسانی ہمدردی کے پہلوؤں کو اجاگر کرنے میں ان کا کلیدی کردار ہے۔ ان کی انتھک محنت کا اعتراف کینیڈا کے اعلیٰ ترین حلقوں میں کیا جاتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر سینیٹر صاحبہ نے ہمیشہ پاکستان کا مثبت چہرہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف کینیڈا میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو سیاسی دھارے میں شامل کرنے کے لیے راہ ہموار کی بلکہ کینیڈا اور پاکستان کے مابین سفارتی و تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی شخصیت ایک ایسی شمع کی مانند ہے جو سمندر پار بسنے والے ہر پاکستانی کے لیے حوصلہ اور فخر کا باعث ہے۔

باوجود ایک سینیٹر کے وہ ایک انتہائی سادہ اور روایتی پشتون خاتون ہیں۔ ان سے مل کر کسی گاؤں کی رشتہ دار جیسا احساس ہوا۔ نہ لہجے میں بناوٹ، نہ سینیٹر شپ کی کوئی ریا، نہ کوئی پروٹوکول۔ بس سادہ انداز میں ‘پخیر راغلے’ کہا۔ اپنی تعلیمی اور سیاسی جدوجہد پہ بات کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر پاکستان میں زمین مل جائے تو اپنے حلال کی کمائی سے اور پاکستانی و کینیڈا میں موجود جان پہچان والے لوگوں کی مدد سے برن ہسپتال بنانا چاہتی ہیں۔ واپسی پہ ان کی اس خواہش کا میں نے جناب مرتضیٰ جاوید صاحب کو بتایا اور انہوں نے کوشش کی مگر ابھی تک منصوبہ کوئی حقیقی صورت اختیار نہ کر سکا۔

میں ہمیشہ اس بات پہ زور دیتا ہوں کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ باوجود اس کے کہ ہمارے ملک میں ایک منظم طریقہ کار موجود ہے مگر ان کی صلاحیتوں سے استفادہ کرنے میں ہم قدرے ناکام رہے ہیں۔ مجھے بسا اوقات پاکستانیوں کی ایسی تجاویز اور صلاحیتیں دیکھنے اور سننے کو ملی ہیں جن سے میں حد درجہ متاثر ہوا ہوں۔

ڈلاس میں اسی طرح ایک اور پاکستانی جو متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور وہاں کی بزنس کمیونٹی میں اپنا نام رکھتے تھے، ایک ملاقات پہ بتایا کہ انہوں نے 3D ہاؤسز پراجیکٹ پہ 2 ہزار گھنٹے کام کیا ہے اور اگر پاکستان موقع دے تو وہ 3D پرنٹ مشین کی مدد سے پاکستان میں لاکھوں رہائش گاہیں قائم کر سکتے ہیں وہ بھی محض 6 سے 8 لاکھ پاکستانی روپوں کے عوض۔ 3D مشین کی مدد سے ایک تیار گھر کا ڈھانچہ جس میں سیمنٹ، بجری اور دیگر گھر کا سامان خود بخود تیار اور خشک حالت میں ترتیب پاتا ہے، 12 گھنٹوں کے اندر گھر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس سلسلے میں جرمنی، امریکہ یہاں تک کہ سعودیہ میں بھی بہت سارے پراجیکٹس پایہ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔ مستقبل قریب میں یہ گھر بنانے والی پرنٹ مشین جگہ جگہ ٹھیکیداروں کی دسترس میں ہوگی، البتہ ایسے حالات میں جہاں ہم لوگ بے شبہ پیسے پانی کی طرح گھر کی بناوٹ پہ لگا دیتے ہیں، 3D پرنٹ مشین سے پاکستانیوں کا بہت سارا پیسہ بچایا جا سکتا ہے۔ ایسے اور بہت سارے پاکستانی ہیں جو اپنے شعبوں میں حد سے زیادہ جینیئس ہوتے ہیں اور کچھ کر گزرنے کی آس لیے پاکستان سے حکومتی سرپرستی کے انتظار میں فقط کڑھتے ہی رہتے ہیں۔ ہمیں بنیادی طور پر ان اوورسیز پاکستانیوں سے اور ان کی قابلیت سے استفادہ کرنے کے لیے کوئی ‘آؤٹ آف دی باکس’ طریقہ کار اپنانا ہو گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے