درست انتخاب اور مطالعے کی اہمیت

ہر انسان کا ایک انتخاب ہوتا ہے لیکن درست انتخاب ہر انسان نہیں کر پاتا ۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتابیں پڑھنے کا شوق کم ہوتا جا رہا ہے اور اب بہت ہی کم لوگ رہ گئے ہیں جو دل سے کتب کا مطالعہ کرتے ہیں۔

درحقیقت مطالعہ کرنے والا انسان مرنے سے پہلے ہزار زندگیاں جی لیتا ہےجب کہ جو مطالعہ نہیں کرتا وہ صرف ایک ہی زندگی جیتاہے۔

جب ایک انسان کتب خانے میں داخل ہوتا ہے تو وہ دراصل علم کے ایسے شہر میں قدم رکھتا ہے جہاں تاریخ کے ہر دور کے عظیم لوگ اور اہلِ ادب اپنی فکر اور تجربے کے ساتھ اس کے منتظر ہوتے ہیں۔ وہ کم وقت میں بہت کچھ سیکھ لیتا ہے اس کی سوچ محدود نہیں رہتی اور وہ ہر بات کو تحقیق، غور و فکر اور عقل کے استعمال سے سمجھنے لگتا ہے۔

مطالعہ انسان کے ذہن کو وسعت دیتا ہے اسے شعور بخشتا ہے اور اسے ایک بہتر انسان بناتا ہے۔کتابیں انسان کو شعور کے سارے رنگ عطا کرتی ہیں۔ یہ ایک ایسا شوق ہے جو انسان کی شخصیت کو چار چاند لگا دیتا ہے۔

جو شخص کتابوں کے صفحات کی خوشبو سے آشنا نہیں ہوتا وہ دراصل ایک عظیم نعمت سے محروم رہتا ہے۔

کتابیں بولتی ہیں ہمیں آئینہ دکھاتی ہیں ۔یہ ہمارے اندر وہ بصیرت پیدا کرتی ہیں جو زندگی کے صحیح اور غلط کو پہچاننے کا سلیقہ سکھاتی ہے۔ انہیں کے ذریعے انسان میں برداشت، تحقیق، فہم، اور فکر کی گہرائی جیسی بے شمار خوبیاں جنم لیتی ہیں۔

لیکن کیا ہم نے کبھی اس بات پر غور کیا ہے کہ ہمارے مستقبل کے معمار جو کتابیں پڑھ رہے ہیں۔۔۔ ان میں کیا لکھا گیا ہے؟
ان کا مصنف کون ہے؟
اس کتاب کے پیچھے مقصد کیا ہے؟
وہ علم دے رہی ہے یا محض معلومات؟

وہ سوچ کو آزاد کر رہی ہے یا کسی خاص رخ پر موڑ رہی ہے؟

مطالعہ صرف کتاب پڑھ لینے کا نام نہیں، بلکہ یہ شعوری انتخاب کا تقاضا کرتا ہے۔ ہمیں نہ صرف خود اچھی کتابوں کا انتخاب کرنا ہوگا بلکہ نئی نسل کی رہنمائی بھی کرنی ہوگی تاکہ ان کا ذہن علم، تحقیق اور مثبت فکر کی روشنی سے منور ہو۔

ہم اس حقیقت سے غافل ہو چکے ہیں کیونکہ ہمارے ذہن میں یہ بات راسخ کر دی گئی ہے کہ کتاب پڑھنا بذاتِ خود ایک اچھی عادت ہےلہذا جو بھی پڑھ لیا جائے کم از کم کچھ نہ کچھ سیکھ ہی لیا جائے گا۔

مگر سوال یہ ہے کہ ہم اپنی سوچ کے معاملے میں اتنے بےفکر کیوں ہو گئے ہیں؟

کیا ہمیں معلوم نہیں کہ کتابیں پڑھنے والوں کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑتی ہیں؟ یہ نقوش مثبت بھی ہو سکتے ہیں اور منفی بھی۔

ہر تحریر اپنے ساتھ ایک فکر ایک نظریہ اور ایک مقصد رکھتی ہے۔ اگر ہم بغیر سوچے سمجھے ہر چیز کو قبول کر لیں تو ممکن ہے ہم انجانے میں ایسی باتوں کو بھی اپنا لیں جو ہماری فکری بنیادوں سے مطابقت نہ رکھتی ہوں۔

مطالعہ یقیناً ایک عظیم عادت ہے مگر اس کے ساتھ شعور، تنقیدی نظر اور صحیح انتخاب بھی ضروری ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے بچے کونسی کتاب پڑھ رہے ہیں؟ اسے کس نے اور کیوں لکھا ہے؟

بدقسمتی سے ہم نے اس پہلو پر کم توجہ دی ہےحالانکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہماری اجتماعی غفلت کی نشاندہی کرتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مطالعے کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ شعوری مطالعہ کو بھی فروغ دیں ۔ایسا مطالعہ جو سوال کرنا سکھائے، تحقیق پر آمادہ کرے اور انسان کو اندھی تقلید کے بجائے سمجھ بوجھ کے ساتھ آگے بڑھنے کا حوصلہ دے۔

طویل مشاہدے اور غور و فکر کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس حل طلب معاملے کی طرف توجہ دلاٶں تاکہ لوگوں کو اس کی نزاکت کا احساس ہو۔

بچوں کو بچپن ہی سے ایسی کتابیں دی جائیں جن میں مستند اور درست معلومات موجود ہوں اور بہتر یہ ہے کہ والدین یا اساتذہ خود بھی ان کتابوں کا مطالعہ کر چکے ہوں۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کتاب پڑھی جائے تاکہ ان کی فکری رہنمائی کی جا سکے۔

عدم توجہ کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم نادانستہ طور پر اپنے مستقبل کو فکری کمزوری کی راہ پر ڈال دیں۔ بچپن میں جو عادتیں اور رجحانات پیدا ہوتے ہیں وہی آگے چل کر انسان کے انتخاب کا معیار بن جاتے ہیں۔

اگر بچہ ابتدا ہی سے غیر معیاری یا گمراہ کن مواد کا عادی ہو جائے تو بعد میں اس کا رخ بدلنا مشکل ہو جاتا ہے اور بعض اوقات ناممکن بھی۔ ہماری آنے والی نسلیں کتب سے روشنی حاصل کریں نہ کہ الجھن۔

اگر ہم نے آج اپنے بچوں کے مطالعے کی سمت درست نہ کی تو کل وہ وہی سوچ اپنائیں گے جس کے بیج ہم نے انجانے میں خود بوئے ہوں گے
۔مطالعہ انسان کی فکر کو جِلا دیتا ہے، مگر جب کتابوں کا انتخاب شعور کے بغیر کیا جائے تو یہی مطالعہ فکری انتشار کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ بعض نوجوان مختلف اور متضاد خیالات سے متاثر ہو کر الجھن کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال یقیناً تشویش کا باعث ہے مگر اس کا حل الزام نہیں بلکہ رہنمائی ہے۔

اکثر والدین اس بات سے بےخبر رہتے ہیں کہ تعلیمی اداروں میں نصابی تعلیم کے علاوہ بچوں کو کون سی اضافی معلومات دی جا رہی ہیں یا انہیں کن کتابوں کے مطالعے کا مشورہ دیا جا رہا ہے ۔نوجوانی وہ عمر ہے جہاں انسان ہر نئی بات کو شدت سے قبول کرتا ہے اور اسی مرحلے پر درست رہنمائی نہ ملے تو ذہنی توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

موجودہ دور میں بہت سے نوجوان لادینیت کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور میرے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ایسی کتب کا مطالعہ کیا ہے جو ان کے ذہنوں پر منفی اثرات چھوڑ چکی ہیں۔ ان کتب کے مطالعے سے پیدا ہونے والے گمراہ کن سوالات کے جوابات نوجوانوں نے اہلِ علم سے دریافت کرنے کے بجائے مصنفین کے افکار کو بلا تنقید قبول کر لیا۔

یہی سبب ہے کہ صرف لادینیت ہی نہیں بلکہ ہماری نوجوان نسل اسلامی اصولوں سے بھی بتدریج انحراف کر رہی ہے۔

افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم نے اس نہایت سنجیدہ مسئلے پر وہ توجہ ہی نہیں دی جس کا یہ تقاضا کرتا ہے۔ اگر ہم نے اسی غفلت کو جاری رکھا تو آنے والے وقتوں میں ہماری نوجوان نسل مزید غیر اسلامی افکار اور نظریات کو اپناتی چلی جائے گی۔

اس صورتِ حال کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں بلکہ ہم سب پر عائد ہوگی کیونکہ نوجوانوں کی فکری و اخلاقی رہنمائی نہ کرنا اور انہیں بھٹکتے ہوئے دیکھ کر خاموش رہنا ہماری اپنی کوتاہی ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے