پاکستان اور افغانستان رجيم: جنگ سرحدوں پر تو تمسخر سوشل میڈیا پر کيوں

کل اگر ایک طرف ایران اور امریکہ کی لڑائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ آی اور دیگر رہنماؤں کے جان بحق ہونے کی تصديق هوئی ہے اور پورا مشرقِ وسطیٰ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں ہے، تو دوسری طرف پاکستان اور افغانستان کے طالبان رجیم کے درمیان بھی کشیدگی اور جھڑپیں زور و شور سے جاری ہیں۔ایران کو گویا اپنے ہی گھر کے بھیدی سے آگ لگی اور اس کے اہم لیڈران نشانہ بنے جس پر ہم تفصیل سے بات کریں گے مگر فی الحال تندور ، افغان عوام اور پختون کی تذليل والی ویڈيو پر بات کرتے ہيں۔

تندور چلانا بے غیرتی نہیں بلکہ بھیک مانگنا بے غیرتی ہے۔ رزقِ حلال کمانا کبھی شرمندگی نہیں ہوتا چاہے وہ تندور پر ہو، مزدوری میں ہو یا کسی چھوٹے کاروبار میں۔ شرمندگی اُس سوچ پر ہونی چاہیے جو محنت کو تمسخر میں بدل دیتی ہے۔

سرحدوں پر گولیاں چلتی ہیں، سفارتی بیانات جاری ہوتے ہیں اور ریاستیں اپنی اپنی حکمتِ عملی ترتیب دیتی ہیں۔ مگر افسوس اس وقت ہوتا ہے جب جنگ سرحدوں تک محدود نہ رہے اور سوشل میڈیا پر تمسخر کی صورت میں عام لوگوں کی عزت کو نشانہ بنانے لگے۔ ریاستی تنازعات جب عوامی تذلیل میں بدل جائیں تو یہ صرف سیاسی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ ايک سماجی دراڑ بن جاتا ہے۔

حال ہی میں ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی جسے ایک نجی تعلیمی ادارے کے طلبہ نے تیار کی اور بعد ازاں اسے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی۔ اس ویڈیو نے ایک نئی بحث کو جنم دیا کیونکہ اس کے انداز اور مواد سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ ایک مخصوص قوم بالخصوص پشتونوں کو بالواسطہ طنز کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہی پہلو سب سے زیادہ قابلِ تشویش ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس وقت تعلقات کشیدہ ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے عناصر سرحد پار سے دہشت گردی میں ملوث ہیں انکو پاکستان کے حوالے کيا جائے جبکہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت اپنے بیانیے کو دفاعی موقف کے طور پر پیش کرتی ہے۔ یہ ایک ریاستی تنازع ہے جو سفارتی اور سیکیورٹی سطح پر حل طلب ہے۔ مگر یہ عوام کی جنگ نہیں ہے۔ یہ پاکستان کے عوام اور افغانستان کے عوام کے درمیان کوئی معرکہ نہیں۔

پاکستان میں آباد افغان شہری بڑی تعداد میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔ اسی طرح پاکستان کے پشتون شہری بھی وسیع پیمانے پر تندور، تعمیرات، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تندور کا کام کسی ایک قوم تک محدود نہیں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی یہ پیشہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ محنت کی دنیا ہے اور محنت کی کوئی قومیت نہیں ہوتی۔

پشتون قوم نے پاکستان کی تعمیر، دفاع اور ترقی میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا، بلوچستان اور قبائلی اضلاع کے عوام سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ایسے میں اگر کسی بیانیے میں انہیں تمسخر کا موضوع بنایا جائے تو ردعمل آنا فطری ہے۔

سوشل میڈیا پر جب یہ ویڈیو گردش میں آئی تو پشتون نوجوانوں اور طالبات نے اس کی مذمت کی۔ صرف پشتون ہی نہیں بلکہ دیگر قومیتوں سے تعلق رکھنے والے معروف افراد نے بھی واضح طور پر کہا کہ یہ جنگ دو حکومتوں کے درمیان ہے عوام کے درمیان نہیں۔ عوام کو بیچ میں لانا اور ایسی ویڈیوز کے ذریعے نسلوں کے درمیان بدگمانیاں پیدا کرنا خطرناک رجحان ہے۔ اگرچہ کچھ حلقوں نے ویڈیو کو سراہا مگر مجموعی طور پر نمایاں ردعمل تنقیدی تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرے میں ابھی شعور زندہ ہے۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے۔ پاکستان اور افغانستان جغرافیائی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ مذہب، ثقافت، رسم و رواج اور سماجی روایات میں بے شمار مماثلتیں موجود ہیں۔ جس طرح هندوستان کی تقسیم کے بعد آدها پنجاب ادھر اور آدھا اُدھر رہ گيا بلکل اسی طرح پشتون قبائل بھی تاریخی طور پر دونوں اطراف موجود ہیں۔

یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے باوجود قومیتی اور ثقافتی شناختیں ختم نہیں ہوئیں۔ بٹوارے کے بعد بھی ہندوستان اور پاکستان کے پنجابی اپنے مشترکہ تاریخی کرداروں کو یاد رکھتے ہیں۔ اسی طرح سندھ کے لوگ سرحد کے دونوں اطراف اپنی تہذیبی جڑوں سے جڑے ہوئے ہیں۔ بلوچ ایران، عمان، پاکستان اور افغانستان میں آباد ہونے کے باوجود خود کو ایک ہی نسلی و ثقافتی تسلسل کا حصہ سمجھتے ہیں۔

پختون بھی من حیث القوم ایک تاریخی شناخت رکھتے ہیں۔ وہ سرحد کے دونوں جانب دو الگ ملکوں کے شہری ضرور ہیں مگر اپنی تہذیبی روایت میں خود کو ایک مشترکہ نسب اور ثقافت کا وارث سمجھتے ہیں۔ اسی لیے احمد شاہ ابدالی کو احمد شاہ بابا کے نام سے اور میروائس ہوتک کو میروائس نیکہ یا دادا کہہ کر یاد کیا جاتا ہے۔ یہ القابات محض تاریخ نہیں بلکہ ایک اجتماعی شعور کی علامت ہیں۔

جب ایک قوم اپنے تاریخی کرداروں پر فخر کرتی ہے تو وہ دراصل اپنی اجتماعی یادداشت کو زندہ رکھتی ہے۔ پانی پت کے مرہٹوں کی شکست فاش اور ایرانی نادرافشار کے مقابل تاریخی فتوحات کا ذکر ہو یا آزادی کی جدوجہد یہ سب ایک تاریخی ورثہ ہے جسے نسل در نسل منتقل کیا جاتا ہے۔ اس ورثے پر فخر کرنا تعصب نہیں شناخت ہے۔

لیکن جب اسی شناخت کو تمسخر کا نشانہ بنایا جائے تو ردعمل فطری ہوتا ہے۔ جس طرح ہندوستان اور پاکستان کے پنجابی یا سندھی اپنی نسلی یا ثقافتی تذلیل پر یکساں ردعمل دیتے ہیں اسی طرح پاکستان اور افغانستان کے پختون بھی اپنے اپنے ملک سے وفاداری کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے ثقافت کو اپنا سمجھتے ہیں۔ یہ سیاسی سرحدوں سے بالاتر ایک ثقافتی اور سماجی حقیقت ہے۔

حکومتیں آنی جانی چیز ہیں۔ آج ایک حکومت ہے تو کل دوسری ہوگی۔ مگر عوام وہی رہیں گے۔ یہی لوگ ایک دوسرے سے کاروبار کریں گے، ملیں گے، سفر کریں گے، رشتے قائم کریں گے۔ اگر آج ہم نفرت کے بیج بوئیں گے تو کل انہی بیجوں سے بداعتمادی کی فصل اُگے گی۔

ریاستی سطح پر ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ ایسے مواد کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے جو سماجی تقسیم کو بڑھائے۔ بڑے منصب پر بیٹھے افراد کے الفاظ اور اقدامات عام لوگوں کے لیے پیغام بن جاتے ہیں۔ بڑے لوگ بڑے کاموں سے پہچانے جاتے ہیں وہ جوڑتے ہیں، توڑتے نہیں۔ چھوٹے کام انسان کو چھوٹا دکھاتے ہیں۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قومی سلامتی اور انسانی وقار ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہوتی ہے جو اپنے ہر شہری، ہر مسافر اور ہر محنت کش کے وقار کا تحفظ کرے۔ اگر ہم واقعی ایک باوقار اور مستحکم پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں اختلافات کو دلیل، سفارت اور انصاف کے ذریعے حل کرنا ہوگا تمسخر اور تذلیل کے ذریعے نہیں۔

میرا پیغام دونوں طرف کے عوام کے لیے یہی ہے: حکومتوں کے اختلافات کو اپنی نفرت نہ بنائیں۔ عوام ایک دوسرے کی تذلیل نہ کریں۔ کیونکہ کل کو حکومتیں بدل جائیں گی مگر ہمسایہ وہی رہے گا۔ تعلقات رہیں گے۔ راستے کھلیں گے۔ لین دین ہوگا۔ میل جول ہوگا۔

ہمسائے بدلے نہیں جا سکتے مگر دلوں کے فاصلے ضرور کم یا زیادہ کیے جا سکتے ہیں۔ دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم انہیں کم کریں بڑھائیں نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے