اب کرنا کیا ہے؟

ایرانی سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنائی کی شہادت کے بعد سے مسلم دنیا ایک بار پھر دوراہے پر کھڑی ہے۔ مسلم دنیا میں ایرانی نظام کے حامی ہوں یا اس نظام کے شدید مخالف، سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ کیا مسلم دنیا، ایران کی طرح ڈٹ کر مزاحمت کرے،غزہ کی طرح اتنی قربانیاں دے کہ اسرائیل اور امریکہ کا ظلم اخلاقی طور پر شکست کھا جائے یا پھر مغرب سے باعزت اشتراک کا کوئی راستہ تلاش کیا جائے؟ تہذیبوں کے تصادم سے مسلم دنیا بار بار واپس اسی سوال پر آجاتی ہے جس پر جنگ عظیم اول و دوئم کے زمانے سے مباحث جاری ہیں جب سے مسلم دنیا کو نو آبادیاتی نظام سے آزادی ملی ہے اور 50سے زیادہ مسلم ممالک وجود میں آئے ہیں بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ کیا مسلم دنیا اصلی اسلام اور اصلی مشرقیت سے مغربی دنیا کی ترقی تہذیب اور ٹیکنالوجی کا مقابلہ کرے یا پھر مغربی تہذیب کی اقدار اپنا لے مذہب کو یورپ کی طرح ذاتی معاملہ قرار دیکر مشرقی سماج کو جدید سمت میں تبدیل کرے۔ مغرب اور مشرق کا بنیادی تضاد یہی ہے کبھی اسکو اسلام اور اس کے مخالفوں، کبھی جمہوریت اور اسکے مخالف نظریات اور کبھی اس کو ایک دوسرے پر غلبہ کا نام دیا جاتا ہے۔

غزہ کی تباہی، عراق کی بربادی، لیبیا کی ٹکڑوں میں تقسیم، شام میں غیرمعمولی تبدیلیوں اور ایران میں علی خامنائی کی شہادت.. سو سال سے موجود وہی سوال کوبرا سانپ کی طرح مسلم دنیا کے سامنے آکھڑا ہوا ہے کہ مسلم دنیا اپنی شناخت، سلامتی اور خوشحالی کیلئے کونسا راستہ اختیار کرے کہ وُہ بھی باقی دنیا کی طرح کے خطرات سے بے پروا ہو کر امن اور ترقی کی شاہراہ پر چلے۔ انبیائے کرامؑ کی آمد کا سلسلہ تو بند ہو چکا۔ اب مذہبی، سیاسی اور سماجی قائدین کا فرض ہے کہ وُہ مسلمانوں کیلئے کسی راہ کا انتخاب کریں۔

گزشتہ سو سال میں غازی مصطفیٰ کمال پاشا ، قائداعظم محمد علی جناح اور دیگر کئی زعماء نے یکسر مغربی تہذیب و ترقی کو رد نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ کمالسٹ تو خیر حد سے آگے بڑھ گئے اور انہوں نے اپنے ترکی رسم الخط کو بھی عربی سے رومن بنا لیا- لباس تراش خراش اور سماجی زندگی میں بھی مغربی انداز اپنا لیا شاید ان کا خیال تھا کہ مغرب کی ترقی کی وجہ یہی اسباب ہیں دوسری طرف قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال نے سائنس اور مغربی ترقی کو تو سراہا لیکن وُہ مغرب کی اندھی تقلید کیخلاف تھے۔ جناح اور اقبال جمہوریت اور اسلام میں کوئی تضاد نہیں دیکھتے تھے اسلئے قائداعظم نے پاکستان میں پارلیمانی جمہوریت کے نظام کو اپنایا علامہ اقبال کو پارلیمنٹ کے ذریعے اجتہاد کے قائل بھی تھے 1973ء کا آئین بھی دنیا کا پہلا ایسا دستور تھا جس میں اسلام اور جمہوریت کے ملاپ سے ریاست کا نظم و نسق چلانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

دوسری طرف مسلم دنیا میں مغرب کو مکمل طور پر رد کرنے، اس کا مقابلہ کرنے اور اصل اسلام کی طرف لوٹنے کو بہترین راستہ سمجھنے کی روایت بھی بڑی مضبوط رہی ہے۔ مذہبی مدارس نے کئی سالوں تک انگریزی پڑھنے اور پڑھانے سے گریز کیا۔مصر کی اخوان المسلمین، ہندو پاکستان کی جماعت اسلامی اور کئی دوسری اسلامی جماعتوں نے اسلام کو مکمل ضابطہ حیات کے طور پر پیش کر کے جمہوریت کے متبادل سیاسی اور معاشی نظام کا ماڈل اپنانے کی پالیسی اپنائی ۔ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد فقہ جعفریہ کے مطابق حکومت کا ماڈل بنا جس میں سپریم لیڈر اعلیٰ ترین مذہبی شخصیت کو بنایا گیا۔ باقی ادارے اس کے زیر سرپرستی کام کرتے ہیں سعودی عرب، اردن اور کئی دوسرے خلیجی ملکوںمیں بادشاہی نظام کو برقرار رکھا گیا۔ الجزائر اور بعض اسلامی ممالک میں اسلامی جماعتیں مقبول ہوئیں مصر اور الجزائر میں انہیں اقتدار بھی مل گیا لیکن مغربی دنیا سے شدید اختلافات کی وجہ سے انہیں اقتدار سے ہاتھ دھو کر جیلیں دیکھنی پڑیں۔ ایران کی مذہبی حکومت اور افغانستان کی طالبان حکومت کو بھی پورے مغرب کی مخالفت حاصل ہے۔

بظاہر تو یہ ہر ملک کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ وہاں کونسا نظام لاتا ہے یا چلاتا ہے لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے آپ مغربی دنیا سے بیر رکھ کر اپناملک نہیں چلا سکتے ملائیشیا کے مہاتیر محمد، لیبیا کے معمر قذافی اور عراق کے صدر صدام نے مغرب کو للکار کر یا انکا مقابلہ کرنے کا سوچا لیکن انہیں بھی دیرپا کامیابی نہ مل سکی۔ ایران کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے ایک زمانے میں ایسا لگتا تھا کہ ایرانی انقلاب سعودی عرب کے دروازے پر بھی دستک دے رہا ہے لبنان، فلسطین، عراق، شام اور یمن کے ساتھ مل کر ایک مضبوط اتحاد بن گیا تھا مگر حالیہ سالوں میں یہ سارا بلاک ٹوٹ پھوٹ گیا ہے نہ کسی بھی ملک کی تباہی کوروس روک سکا اور نہ چین مسلم دنیا کے مغرب سے جھگڑوں میں کھل کر سامنے آیا۔ ایرانی لیڈر خامنائی کی شہادت کے بعد ایک بار پھر مسلم دنیا کے سامنے یہ سوال پھر سے پھن پھیلائے کھڑا ہے ’’اب کرنا کیا ہے‘‘۔

کیا تہذیبوں کا تصادم جاری رہے گا۔ کیا مشرق اور مغرب کی اقدار میں کوئی اشتراک عمل نہیں بن سکتا؟ کیا اسلام واقعی مغرب کیلئے خطرہ ہے؟ کیا مسلم ممالک موجودہ صورتحال میں مغرب سے لڑ کر ترقی کر سکتے ہیں یا کوئی مصالحتی راستہ اختیار کرکے ترقی کر سکتے ہیں؟ اسامہ بن لادن کے نائن الیون سے مسلم دنیا کو فائدہ زیادہ ہوا یا نقصان؟ طالبان کی تعلیم اور خواتین کے خلاف پالیسیاں دنیا کے سامنے اسلام کا اچھا تاثر پیش کر رہی ہیں یا انکا منفی اثر ہو رہا ہے۔دوسری طرف پوری مسلم دنیا کا عالم یہ ہے کہ علم سائنس اور ٹیکنالوجی میں ہم مغربی دنیا سے سو سال پیچھے ہیں جدید دنیا کی ایجادات میں مسلم دنیا کا کوئی قابل قدر حصّہ نہیں ہے۔ غزہ اور لبنان میں اسرائیل کے یونٹ 2800 نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے اسماعیل ہانیہ سمیت ہر نامور لیڈر کو چن چن کر مارا۔

ایران میں اسرائیل اور امریکہ جس کو بھی نشانہ بنانا چاہتے ہیں آسانی سے بنا لیتے ہیں غداروں کی موجودگی اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے اسرائیل اور امریکہ نے گرائونڈ پر ایک بھی فوجی اتارے بغیر مسلم دنیا کی شدت پسند لیڈرشپ کا صفایا کر دیا ہے اور بڑے بڑے دعوے کرنیوالے مسلم دنیا کے لیڈر کوئی ایسا پناہ گاہ بھی نہ بناسکے جہاں یہ محفوظ رہ سکیں۔ طالبان اور القاعدہ کی ساری لیڈر شپ بھی امریکہ میں بیٹھے آپریٹروں نے ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے ختم کر دی تھی۔ مسلم دنیا، مغربی ممالک سے علم سائنس اور ٹیکنالوجی میں اس قدر پیچھے ہے کہ دونوں کا تقابل ہی کوئی نہیں۔

کاش مسلم دنیا کا بھی کوئی سوجھوان لیڈر ہو، کوئی غزالی یا ابن عربی اٹھے یا نور الدین زنگی یا صلاح الدین ایوبی پیدا ہو جو مسلم دنیا کو سائنس، علم اور ٹیکنالوجی سکھائے فی الحال لڑائیوں اور آویزشوں سے ہٹ کر خوشحالی، امن اور ترقی کی طرف توجہ دے۔

مرزا اسد اللہ خان غالب چاہے خود کو آدھا مسلمان کہتے تھے مگر وُہ ویژنری تھے اسی لئے انہوں نے سر سید احمد خان کو یہ نصیحت کی تھی کہ اب آئین اکبری کی طرف دیکھنے کی بجائے مغربی دنیا کے دستور پر نظر ڈالو۔ انہوں نے کلکتہ میں مغربی دنیا کی سائنس ترقی کا خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا تھا ۔ سر سید احمد خان نے اپنے ذاتی تجربات یا پھر اسی نصیحت سے متاثر ہو کر مسلمانوں کی مغربی تعلیم کیلئے عمر بھرجدوجہدکی، علامہ اقبال کے استاد مولوی میرحسن، سرسید احمد خان کے خیالات کے خوشہ چین تھے اور انہوں نے سر سید کے ہی نظریات علامہ اقبال کے ذہن میں ڈالے اور پھر علامہ اقبال نے ہی تصور پاکستان دیا۔ گویا ذہنی آزادی اور فکر کا سلسلہ غالب سے سرسید، سرسید سے مولوی میر حسن، مولوی میر حسن سے علامہ اقبال اور علامہ اقبال سے آئین پاکستان تک پہنچتا ہے۔ اسلامی دنیا میں یہ واحد دستاویز ہے جو اسلام اور جمہوریت دونوں کو ساتھ رکھنے اور قدیم و جدید کو ساتھ ملا کر چلنے کا راستہ دکھاتی ہے۔ افسوس کہ پاکستان میں اس مقدس دستاویز کی کوئی قدر نہیں اور باقی مسلم دنیا تو اب بھی دوراہے پر کھڑی ہے ہم نے تو راستے پر چل کر راستہ کھوٹا کیا لائحۂ عمل موجود ہے بس عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
بشکریہ جنگ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے