برطانوی ہائی کمشنر اور بین المذاہب ہم آہنگی

پاکستان میں برطانیہ کی ہائی کمشنر محترمہ جین میریٹ انتہائی فعالیت سے اپنی زمہ داریاں نبھا رہی ہیں۔ پاکستان اور برطانیہ کی آپسی تعلقات کے فروغ اور تمام تر شعبوں میں باہمی تعاون کے لیے ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں. عمر عزیز کی نصف سنچری گزار چکی ہیں۔ لیکن ان کی فعالیت دیکھ کر لگتا ہے کہ بیس پچیس سال کی رہی ہوں گی۔ یمن جہاں خاصی دیر خانہ جنگی رہی، وہاں پر بطور سفیر خدمات سر انجام دے کر خلیجی ممالک کی سیاست اور حالات و واقعات کو قریب سے دیکھ اور سمجھ چکی ہیں۔ کینیا میں ہائی کمشنر رہ چکی ہیں۔ امریکہ کے مشہور زمانہ سپیشل ایلچی برائے افغانستان رچرڈ ہال بروک کے ساتھ مشیر کے فرائض سر انجام دے کر ہمارے خطے کی صورت حال اور اس کی نزاکتوں کو اچھی طرح جانتی ہیں۔

جولائی 2023 ء سے پاکستان میں اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی سر انجام دے رہی ہیں۔

سردار محمد یوسف صاحب کے وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا چارج سنھبالنے کے کچھ وقت کے بعد ہی ملاقات کے لیے تشریف لائیں اور بھرپور تیاری کے ساتھ آئیں۔ کہا کہ ہمارے ہاں 20 لاکھ مسلمان اور 17 لاکھ ہندو مقیم ہیں۔ اور یوں پاکستان اور برطانیہ بین المذاہب ہم اپنی کے فروغ کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اسی طرح انھوں نے مدارس کے طلباء کو جدید تکنیکی تعلیم، ہنر کی فراہمی کے لیے معاونت کی بھی پیشکش کی۔ مدارس سے فارغ التحصیل طلباء کو برطانیہ ایکسچینج پروگرامز اور اسکالرشپ فراہم کرنے کی بھی پیشکش کی۔

پاکستان سے کثیر تعداد میں طلباء برطانیہ کی یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم کے لیے جاتے ہیں۔ اگر مدارس کے طلباء کو بھی یہ مواقع فراہم ہوں تو بہت بہتر ہو گا۔ اس موضوع پر انشاء اللہ اتحاد تنظیمات المدارس کے روح روان مولانا قاری حنیف جالندھری اور مفتی منیب الرحمن، ڈاکٹر یسین ظفر، حافظ ریاض حسین نجفی اور دیگر ذمہ داران سے بات کریں گے۔ اور ان سے مل کر برطانیہ کی اس پیشکش سے استفادہ کی راہیں تلاش کریں گے۔ اس سے جہاں اور بہت سارے فوائد ہوں گے وہاں ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ ان مراحل سے گزرنے والے طلباء برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک میں بہتر طور پر خدمات سر انجام دے سکیں گے۔

گزشتہ دنوں برطانوی سفارت خانے میں انھوں نے بین المذاہب افطار ڈنر کا اہتمام کیا۔ جس کے مہمان خصوصی وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف اور وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تھے۔وزیر مملکت مذہبی امور کھیل داس کوہستانی بھی رونق افروز تھے۔

ہمدم دیرینہ مولانا عبدالخبیر آزاد ،اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین علامہ راغب نعیمی، سیموئل پیارا، پنجاب کے اقلیتی امور کے وزیر رمیش سنگھ سمیت پاکستان میں بسنے والی تمام اقلیتوں کی بھرپور نمائیندگی موجود تھی۔

میزبان محترمہ جین میریٹ نے تمام مہمانوں کا سفارت خانے کے دروازے پر خود استقبال کیا۔

تقاریر انتہائی مختصر اور جامع رہیں۔ میزبان نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ ہماری روایت ہے، ہم ہر سال بین المذاہب افطار ڈنر کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس تقریب کا حسن یہ ہے کہ اس میں پاکستان کے تمام مذاہب کے نمائندے موجود ہیں۔اور یہ تنوع ہماری طاقت ہے۔

وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے میزبان کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اتنی اہم شخصیات کو ایک جگہ جمع کر کے ملاقات کا موقع فراہم کیا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی تمام اقوام کو برابر کے حقوق حاصل ہیں۔ وزارت مذہبی امور اس بات کا بھرپور اہتمام کرتی ہے کہ ہر مذہب کے ماننے والے کو مکمل آزادی حاصل ہو، اور اس کے لیے تمام سہولیات مہیا ہوں،پاکستان میں بسنے والے عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے پاکستانی ہمارے سماجی تانے بانے کا اٹوٹ حصہ ہیں۔

وزیر قانون اعظم نذیر موجود کابینہ کے ان چند لوگوں میں سے ہیں جو ہر کسی کو میسر رہتے ہیں۔ ہر کسی کی بات کو توجہ سے سنتے ہیں اور حل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ وکلاء کے بھی ہر دل عزیز رہنماء ہیں۔ ہمارے دوست اور بھائی ہارون رشید بھی ان ہی سے وابستہ ہیں اور حال ہی میں سپریم کورٹ بار کے صدر بھی بنے ہیں۔ وزیر قانون نے بین المذاہب ہم آہنگی پر مختصر اور جامع بات کی، بانی پاکستان کا حوالہ بھی دیا اور یہ یقین دہانی بھی کہ پاکستان میں سب کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔ مذاہب کا یہ تنوع معاشرے کا حسن ہے۔

کھانے کی میز پر سیموئل پیارا جسٹس اے آر کار نیلیس کانفرنس کے لیے وزیر قانون کو دعوت دی ، اسی طرح سردار محمد یوسف کے ساتھ فریڈم کانفرنس کا ذکر کیا، اس موضوع پر ان سے تفصیلی بات ہوئی، انشاءاللہ ایک بھرپور عالمی فریڈم کانفرنس سیموئل صاحب کے ساتھ مل کر اور محترمہ جین میریٹ کے تعاون سے اسلام آباد میں منعقد کریں گے۔

محترمہ جین میریٹ کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ اس وقت بین المذاہب مکالمہ کی اشد ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر شدید غلط فہمیاں موجود ہیں، جو زیادہ تر جان بوجھ کر پیدا کی جاتی ہیں۔ سیموئل پیارا جو حال ہی میں امریکہ سے ہو کر آئے ہیں، انھوں نے ایک رپورٹ کا تذکرہ کیا کہ پاکستان میں دس لاکھ عیسائی بھٹہ مزدوروں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ اعظم نذیر نے بے ساختہ کہا کہ دس لاکھ تو شاید کل بھٹہ مزدور نہ ہوں۔ یہ تو ایک بات ہے اس طرح کی بے شمار غلط فہمیاں موجود ہیں جن کو مل کر دور کرنے کی ضرورت ہے۔

محترمہ جین میریٹ اس سلسلے میں نہایت فعال کردار ادا کر سکتی ہیں۔ خصوصی طور پر اگر مدارس کے طلباء کو ایکسچینج پروگرام اور اسکالرشپ کے مواقع فراہم ہوں تو ایک نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔

پروفیسر سجاد قمر
Sajjadmediacentre@gmail.com

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے