آپ نے کبھی سوچا؟ قدرت کا نظام کتنا باریک اور کتنا بے رحم ہے۔ ہم انسان سمجھتے ہیں کہ ہم نے کسی کا حق مارا، کسی کمزور کو دبا دیا، کسی کی فائل روک لی یا کسی کے رزق پر شب خون مارا اور ہم آگے نکل گئے، تو بس قصہ ختم ہو گیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وقت کی گرد اس واقعے کو دفن کر دے گی اور ہم اپنی زندگی کے اگلے سٹیشن پر جا کر سکون سے بیٹھ جائیں گے۔ لیکن صاحب! قدرت کا ایک رجسٹر ہے، ایک ایسا کمپیوٹر ہے جو کبھی ہینگ نہیں ہوتا اور جس میں "ڈیلیٹ” کا بٹن سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ آپ اسے قدرت کا انتقام کہہ لیں، کرما کا نام دے دیں یا ہم مسلمانوں کی اصطلاح میں اسے مکافاتِ عمل پکار لیں؛ یہ وہ ترازو ہے جس کا پلڑا کبھی غلط نہیں جھکتا۔
میں پچھلے دنوں ایک پرانے شناسا سے ملا۔ بیس سال پہلے جب وہ اقتدار کے ہما کے سائے میں تھا، اس کے دفتر کے باہر لوگوں کی لائنیں لگی ہوتی تھیں۔ وہ ایک ایسی کرسی پر بیٹھا تھا جہاں سے ایک جنبشِ قلم کسی کا گھر آباد کر دیتی تھی اور کسی کا اجاڑ دیتی تھی۔ وہ اس وقت اتنا مغرور تھا کہ اپنے ماتحتوں کو انسان نہیں سمجھتا تھا، سائلین کی فریادیں اس کے کانوں تک پہنچنے سے پہلے پہرے داروں کی سنگینوں سے ٹکرا کر واپس چلی جاتی تھیں۔ اس نے کتنوں کے جائز کام روکے، کتنوں کے بچوں کے منہ سے نوالہ چھینا اور کتنوں کی آہیں سمیٹیں، اسے خود بھی یاد نہیں ہوگا۔
آج وہ شخص ایک سرکاری ہسپتال کے میلے کچیلے کوریڈور میں ایک ٹوٹی ہوئی بنچ پر اکیلا بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں وہ پرانی چمک نہیں، بلکہ ایک عجیب سی وحشت اور لاچارگی تھی۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا، اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اس نے رو کر کہا، "تبسم صاحب! مجھے آج پتہ چلا ہے کہ دنیا گول ہے۔ میں نے جن لوگوں کو ذلیل کیا تھا، آج قدرت مجھے اسی ذلت کی بھٹی میں جھونک رہی ہے۔ میرا اپنا بیٹا میرا فون نہیں اٹھاتا، میری فائلیں آج اسی طرح رکتی ہیں جیسے میں دوسروں کی روکا کرتا تھا۔” یہ صرف ایک انسان کا نوحہ نہیں ہے، یہ اس کائنات کے اس قانون کا ثبوت ہے جو کہتا ہے کہ آپ جو بیجتے ہیں، وہی کاٹتے ہیں۔
آپ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھ لیں۔ آپ کو بڑے بڑے نامور، بڑے بڑے سورما اور بڑے بڑے فرعون مٹی میں رلتے نظر آئیں گے۔ وہ جو سمجھتے تھے کہ وہ قانون سے اوپر ہیں، وہ جنہیں یقین تھا کہ ان کی طاقت کبھی ختم نہیں ہوگی، وقت نے انہیں ایسی عبرت بنایا کہ آج ان کے نام لینے والا کوئی نہیں۔ آپ ہٹلر کو دیکھ لیں، اس نے لاکھوں انسانوں کا خون بہایا، اس کا انجام کیا ہوا؟ ایک بنکر میں خودکشی۔ آپ شاہِ ایران کو دیکھ لیں، جس کے اشارے پر تقدیریں بدلتی تھیں، اسے مرنے کے بعد دو گز زمین کے لیے در در بھٹکنا پڑا۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ مکافاتِ عمل ہے۔ قدرت کا وہ تھپڑ ہے جو دیر سے سہی، مگر لگتا ضرور ہے اور جب لگتا ہے تو اس کی گونج صدیوں تک سنائی دیتی ہے۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم دوسروں کی زندگیوں سے سبق نہیں سیکھتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ہم "سپیشل” ہیں، شاید ہمیں چھوٹ مل جائے گی۔ ہم لوگوں کا دل دکھاتے ہیں، ہم جھوٹی گواہیاں دیتے ہیں، ہم کرپشن کرتے ہیں، ہم دوسروں کی عزتیں اچھالتے ہیں اور پھر شام کو تسبیح ہاتھ میں پکڑ کر سمجھتے ہیں کہ حساب برابر ہو گیا۔ نہیں صاحب! حقوق العباد کا معاملہ بڑا ٹیڑھا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے ساتھ کی گئی کوتاہی تو معاف کر سکتا ہے، مگر بندوں کے حقوق تب تک معاف نہیں ہوتے جب تک وہ بندہ معاف نہ کر دے جس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ اور یاد رکھیے، مظلوم کی آہ عرشِ بریں تک جاتی ہے اور وہاں سے جو فیصلہ اترتا ہے، اسے دنیا کی کوئی طاقت روک نہیں سکتی۔
آپ نے دیوار میں ماری گئی گیند دیکھی ہے؟ وہ جتنی قوت سے ماری جاتی ہے، اتنی ہی رفتار سے واپس آتی ہے۔ آپ کی زندگی کے اعمال بھی بالکل اسی گیند کی طرح ہیں۔ اگر آپ نے کسی کے راستے میں کانٹے بچھائے ہیں، تو ناممکن ہے کہ آپ کی اپنی راہ میں مخمل بچھا دیا جائے۔ اگر آپ نے کسی کی بیٹی کی رخصتی میں رکاوٹ ڈالی ہے، تو آپ کی اپنی اولاد کے نصیب میں بھی کہیں نہ کہیں ٹھوکریں لکھی جا چکی ہیں۔ اگر آپ نے کسی یتیم کا مال کھایا ہے، تو وہ مال آپ کی بیماریوں اور مصیبتوں پر اس طرح خرچ ہوگا کہ آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔
آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، ہمیں لگتا ہے کہ ہم کیمروں اور انٹرنیٹ کے ذریعے سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے، اوپر والے کا کیمرہ ہر وقت آن ہے۔ وہ آپ کی نیتوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور آپ کے عمل کو بھی۔ وہ جو چیونٹیوں کا رزق اکٹھا کرنے والے چوہے ہوتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ بل کے باہر بلی بھی بیٹھی ہوتی ہے۔ ہم اپنی حرص اور ہوس میں اتنا آگے نکل جاتے ہیں کہ ہمیں واپسی کا راستہ بھی بھول جاتا ہے۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ ایک دن ہماری آنکھیں بند ہونی ہیں اور ہمارا سارا اکٹھا کیا ہوا مال، ہمارے عہدے اور ہماری طاقت یہیں دھری کی دھری رہ جائے گی، پیچھے رہ جائے گا تو صرف ہمارا "عمل”۔
آج وقت ہے، ابھی سانسیں چل رہی ہیں، ابھی آپ کے پاس مہلت ہے۔ اگر آپ نے کسی کا دل دکھایا ہے، تو معافی مانگ لیں۔ اگر کسی کا حق مارا ہے، تو اسے واپس کر دیں۔ اپنی "چارج شیٹ” کو صاف کر لیں، کیونکہ جب وقت کی رسی کھینچی جائے گی، تو پھر کوئی سفارش، کوئی دولت اور کوئی اثر و رسوخ کام نہیں آئے گا۔ قدرت کا حساب بڑا کڑا ہے اور وہ ایک ایک پائی کا حساب لیتی ہے۔
یاد رکھیے! اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے، مگر جب پڑتی ہے تو بڑے بڑے فرعونوں کی چیخیں بھی فضا میں گم ہو جاتی ہیں۔ آج اگر آپ سکون کی نیند سو رہے ہیں، تو ایک بار ضرور چیک کریں کہ کیا آپ کی وجہ سے کسی کی آنکھ میں آنسو تو نہیں؟ کہیں آپ کے کسی فیصلے نے کسی کا گھر تو نہیں اجاڑ دیا؟ کیونکہ حساب جاری ہے، اور حساب ہو کر رہے گا!
*مصنف سیاسی و سماجی امور پر لکھتے ہیں اور کالمسٹ کونسل آف پاکستان (سی سی پی) کے مرکزی صدرکے طورپرذمہ داریاں نبھا رہے ہیں *