آپ کبھی فرصت نکال کر حساب لگائیے، زندگی کے 44 سال کتنے ہوتے ہیں؟ یہ 528 مہینے، 2295 ہفتے اور 16 ہزار سے زیادہ دن بنتے ہیں۔ انسان اگر ان سولہ ہزار دنوں میں صرف اپنے لیے جیے تو دولت کے انبار لگا سکتا ہے، اقتدار کی کرسی حاصل کر سکتا ہے اور شہرت کی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔ لیکن دنیا میں کچھ ”دیوانے” ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کی یہ قیمتی پونجی، اپنی جوانی کی توانائیاں اور اپنے بڑھاپے کا سکون دوسروں کے نام کر دیتے ہیں۔ کھڈیاں خاص کے سید عبدالرحمٰن شاہ کاظمی ایک ایسی ہی درویش صفت شخصیت کا نام ہے، جن کی زندگی کے 44 سال انسانیت کی خدمت کی ایک لازوال داستان ہیں۔
یہ کہانی آج سے چار دہائیاں قبل شروع ہوئی تھی۔ ایک نوجوان تھا جس کے سینے میں تڑپ تھی اور آنکھوں میں اپنے شہر کے لیے کچھ کر گزرنے کا خواب۔ اس نے اپنے سفر کا آغاز کسی عالیشان دفتر یا سیاسی پلیٹ فارم سے نہیں بلکہ ”سپورٹس گراؤنڈ” کی مٹی سے کیا۔ شاہ صاحب جانتے تھے کہ جس معاشرے کے کھیل کے میدان آباد ہوتے ہیں، وہاں کے ہسپتال اور جیلیں ویران ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے مٹی سے جڑ کر نوجوانوں کی تربیت کی، انہیں منشیات اور بے راہ روی کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی سمت موڑا۔ وہ کھلاڑیوں کے سرپرست بھی تھے اور ان کے مربی بھی۔ یہی وہ بنیاد تھی جس نے آگے چل کر ایک ایسی تحریک کی شکل اختیار کر لی جسے آج ہم ”عوامی خدمت کمیٹی کھڈیاں خاص” کے نام سے جانتے ہیں۔
لیکن جناب! خدمت کا یہ راستہ کبھی ہموار نہیں ہوتا۔ اس راستے میں قدم قدم پر آزمائشیں آتی ہیں، وسائل کی کمی ہوتی ہے اور مخالفین کی تنقید کے پتھر بھی۔ مگر سید عبدالرحمٰن شاہ کاظمی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے کبھی ہار نہیں مانی۔ ان کے اخلاص کا نتیجہ ہے کہ آج ان کے ساتھ 113 ایسے دیوانے کھڑے ہیں جو کسی تنخواہ، کسی صلے اور کسی عہدے کی لالچ کے بغیر، دن ہو یا رات، اپنے شہر کی خدمت میں جتے ہوئے ہیں۔ یہ 113 افراد وہ مخلص سپاہی ہیں جنہوں نے شاہ صاحب کی قیادت میں ”خدمتِ خلق” کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ آپ انہیں شہر کی صفائی مہم میں دیکھیں گے، غریب کی میت کو کندھا دیتے پائیں گے اور کسی مستحق بیوہ کے گھر راشن پہنچاتے ہوئے بھی۔
کھڈیاں خاص کی مٹی سے محبت اور انسانیت کے درد سے سرشار عوامی خدمت کمیٹی آج علاقے میں فلاح و بہبود کی ایک توانا علامت بن چکی ہے۔ اس ادارے نے خدمتِ خلق کے ہر شعبے میں اپنی مثال آپ قائم کی ہے۔ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں سینکڑوں مستحق خاندانوں میں راشن کی تقسیم ہو یا غریب و یتیم بچیوں کو ہنر مند بنا کر انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنانے کے لیے سلائی سینٹر کا قیام، کمیٹی ہر محاذ پر سرگرمِ عمل ہے۔
عوامی خدمت کمیٹی نے سماجی تعاون کی ایک منفرد روایت برقرار رکھی ہے؛ کسی بھی گھرانے میں فوتگی کے موقع پر اہل خانہ کے غم میں شریک ہوتے ہوئے مفت برتن، ٹینٹ اور قناتوں کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے تاکہ مشکل گھڑی میں ان پر بوجھ نہ پڑے۔ اس کے ساتھ ساتھ، عوام کو بیماریوں سے بچانے کے لیے مختلف علاقوں میں صاف پانی کے فلٹر پلانٹس نصب کیے گئے ہیں، جو کہ صدقہ جاریہ کی بہترین صورت ہے۔
روحانی بالیدگی کے لیے ماہانہ بنیادوں پر درسِ قرآن کا باقاعدہ اہتمام کیا جاتا ہے، جو لوگوں کی اخلاقی تربیت کا ذریعہ بن رہا ہے۔ ادارہ صرف مقامی سطح تک محدود نہیں، بلکہ جب بھی ملک پر سیلاب جیسی قدرتی آفات آئی ہیں، عوامی خدمت کمیٹی کے رضاکاروں نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر متاثرین کی امداد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔
سید عبدالرحمٰن شاہ کاظمی کے اس 44 سالہ طویل سفر کو جب سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان اور وفاقی وزیر ملک رشید احمد خان جیسی قد آور اور وژنری قیادت کا ساتھ ملا، تو کھڈیاں خاص میں خدمت کا یہ مشن ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا۔ یہ وہ سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے سیاست کو صرف اقتدار کا کھیل نہیں سمجھا بلکہ شاہ صاحب کے کندھے سے کندھا ملا کر عوامی مسائل کے حل کو اپنی ترجیح بنایا۔ جب عوامی جذبے کو ایسی مضبوط سیاسی پشت پناہی مل جائے تو پھر ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔
اس مشترکہ وژن اور بے لوث محنت کی ایک زندہ جاوید مثال کھڈیاں خاص کا وہ ”کلمہ چوک” ہے، جس کی عظیم الشان یادگار آج پورے شہر کے ماتھے کا جھومر بنی ہوئی ہے۔ یہ یادگار محض اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس عقیدت، اس ایمان اور اس محبت کا نشان ہے جو شاہ صاحب اور ان کے 113 ساتھیوں کے دلوں میں بستی ہے۔ یہ چوک آج کھڈیاں خاص کی پہچان بن چکا ہے.ایک ایسا سنگِ میل جو آتے جاتے مسافروں کو یاد دلاتا ہے کہ اس بستی میں خدمت کرنے والے ابھی تھکے نہیں ہیں۔
اسی جذبے کی ایک تازہ جھلک گزشتہ دنوں منعقد ہونے والے عظیم الشان افطار ڈنر میں بھی نظر آئی۔ جہاں دسترخوان پر صرف کھانا نہیں بلکہ محبتیں بانٹی جا رہی تھیں۔ جہاں شہر کے معززین، سیاسی قائدین اور عام شہری ایک ہی صف میں بیٹھے اس اتحاد کا پیغام دے رہے تھے جو سید عبدالرحمٰن شاہ کاظمی نے گذشتہ 44 سالوں میں اپنی محنت سے سینچا ہے۔ وہ افطار ڈنر دراصل اس اعترافِ خدمت کی ایک تقریب تھی کہ
کھڈیاں خاص کے عوام اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتے۔
میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہمارے ملک کو آج بڑے بڑے وعدوں اور دعووں کی نہیں، بلکہ ایسے ہی چھوٹے چھوٹے گروہوں کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے شہروں میں ”عوامی خدمت کمیٹی” بنا لیں۔ ہمیں ایسے ہی 113 لوگوں کے قافلے چاہئیں جو سیاست اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت کا پرچم تھام لیں۔ سید عبدالرحمٰن شاہ کاظمی نے ثابت کر دیا کہ اگر لیڈر کے پاس وژن ہو، ٹیم کے پاس اخلاص ہو اور ملک محمد احمد خان اور ملک رشید احمد خان جیسے مخلص ساتھ موجود ہوں، تو کلمہ چوک جیسی یادگاریں بھی بنتی ہیں اور 44 سالہ جدوجہد تاریخ کا روشن باب بھی بن جاتی ہے۔
آج جب ہم شاہ صاحب کے اس طویل سفر پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہمیں ایک ایسا شخص نظر آتا ہے جس نے اپنی زندگی کی تمام بہاریں دوسروں کے آنسو پونچھنے میں گزار دیں۔ انہوں نے اپنا حق ادا کر دیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے حصے کی شمع جلانے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم بھی اپنے شہروں میں ایسے ہی قافلے بنانے کا عزم رکھتے ہیں؟ یاد رکھیے، تاریخ عہدوں کو نہیں، کام کو یاد رکھتی ہیاور سید عبدالرحمٰن شاہ کاظمی کا کام تاریخ کے سینے پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو چکا ہے۔