تاریخ کا ایک عجب انداز ہے۔ وہ خود کو لفظ بہ لفظ نہیں دہراتی، مگر اپنے نقشِ قدم ضرور چھوڑ جاتی ہے۔ کبھی روم اور ایران آمنے سامنے تھے۔ ایک طرف قیصر، دوسری طرف کسریٰ۔ دونوں خود کو دنیا کی سب سے بڑی طاقت سمجھتے تھے۔ دونوں کو یقین تھا کہ تاریخ انہی کے نام لکھی جائے گی۔ مگر وقت گزرا، تخت الٹ گئے، پرچم بدل گئے، اور وہ عظیم سلطنتیں صرف کتابوں کے اوراق میں رہ گئیں۔
آج جب ہم مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی کو دیکھتے ہیں تو دل میں ایک سوال ابھرتا ہے: کیا یہ قیصر و کسریٰ کی ایک اور جنگ ہے؟ کیا نام بدل گئے ہیں مگر کشمکش وہی ہے؟ یا ہم محض تاریخ کی بازگشت کو حال کی آواز سمجھ بیٹھے ہیں؟
قدیم زمانے میں قیصر روم کا حکمران تھا۔ اس کی سلطنت یورپ، شام اور مصر تک پھیلی ہوئی تھی۔
دوسری جانب کسریٰ ساسانی ایران کا بادشاہ تھا، جس کی طاقت عراق، فارس اور وسطی ایشیا تک پھیلی تھی۔
دونوں کے درمیان جنگیں صرف سرحدوں کے لیے نہیں ہوتیں تھیں؛ یہ جنگیں وقار، اثر و رسوخ اور نظریاتی برتری کے لیے بھی تھیں۔ کبھی ایران شام تک جا پہنچتا، کبھی روم بغداد کے دروازے تک آ نکلتا۔ یہ ایک لمبی کھینچا تانی تھی، جس میں دونوں ایک دوسرے کو کمزور کرتے رہے۔
پھر تاریخ نے ایک نیا موڑ لیا۔ چند دہائیوں کے اندر وہ دونوں عظیم طاقتیں اندر سے کھوکھلی ہو چکی تھیں۔
معیشت کمزور، عوام تھکے ہوئے، اور قیادت غرور میں ڈوبی ہوئی۔ جب ایک نئی قوت ابھری تو دونوں سلطنتیں زیادہ مزاحمت نہ کر سکیں۔ یہ سبق تاریخ کے اوراق میں واضح درج ہے کہ مسلسل جنگیں طاقت کو مضبوط نہیں کرتیں بلکہ اکثر اسے اندر سے کھا جاتی ہیں۔
اب موجودہ دور پر نظر ڈالیں۔ آج ایران خطے میں ایک بڑی طاقت ہے۔ اس نے پچھلے بیس برسوں میں اپنی حکمتِ عملی بدل دی ہے۔ وہ براہِ راست ٹکراؤ کے بجائے کم خرچ اور مؤثر طریقوں پر زور دیتا ہے۔ ڈرون، میزائل اور علاقائی اثر و رسوخ اس کی پالیسی کا حصہ ہیں۔ اس کا مقصد فوری فتح نہیں بلکہ مخالف کو مسلسل دباؤ میں رکھنا ہے۔
دوسری طرف امریکہ ہے، جسے آج کا عالمی قیصر کہا جا سکتا ہے۔ اس کے پاس بے مثال فوجی طاقت، عالمی اتحاد، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط معیشت ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر دور کی طاقت ہمیشہ قائم رہتی ہے؟ کیا جدید ہتھیار ہر مسئلے کا حل ہیں؟ عراق اور افغانستان کے تجربات نے یہ دکھایا کہ جنگ جیتنا اور امن قائم کرنا دو مختلف باتیں ہیں۔
آبنائے ہرمز آج کی دنیا کا وہ مقام ہے جو کبھی قدیم شاہراہوں کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہاں سے گزرنے والا تیل صرف ایندھن نہیں بلکہ عالمی معیشت کی روانی ہے۔ اگر یہاں کشیدگی بڑھتی ہے تو اثر صرف خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ یورپ، ایشیا اور افریقہ تک پھیل جاتا ہے۔ تیل مہنگا ہو تو خوراک مہنگی ہو جاتی ہے، صنعت سست پڑ جاتی ہے، اور عام آدمی کی زندگی متاثر ہوتی ہے۔
خلیجی ممالک بھی اس تصویر کا اہم حصہ ہیں۔ ان کی خوشحالی توانائی پر کھڑی ہے۔ اگر خطہ عدم استحکام کا شکار ہو تو سرمایہ کاری رک سکتی ہے، ترقیاتی منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں، اور عالمی مالیاتی نظام میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ محض دو ملکوں کی لڑائی نہیں رہتی بلکہ ایک ایسا سلسلہ بن جاتا ہے جس کا ہر حلقہ دوسرے سے جڑا ہوتا ہے۔
پاکستان کے لیے یہ صورتِ حال خاص اہمیت رکھتی ہے۔ ایک طرف ایران ہمارا ہمسایہ ہے، دوسری طرف خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی کام کرتے ہیں۔ اگر خطے میں جنگ پھیلتی ہے تو تیل کی قیمتیں بڑھیں گی، مہنگائی میں اضافہ ہوگا، اور ہماری معیشت پر دباؤ بڑھے گا۔ ہمیں جذبات کے بجائے توازن اور دانش کی پالیسی اپنانی ہوگی۔ تاریخ نے ہمیں سکھایا ہے کہ بڑی طاقتوں کی کشمکش میں چھوٹے ملکوں کو احتیاط سے قدم رکھنا چاہیے۔
یہ بھی غور طلب بات ہے کہ جدید جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی۔ آج میڈیا، معیشت، سائبر دنیا اور سفارت کاری بھی جنگ کے ہتھیار ہیں۔ ایک بیان عالمی منڈیوں کو ہلا سکتا ہے، ایک پابندی کسی ملک کی معیشت کو جھکا سکتی ہے۔ اس لیے آج کی جنگ قیصر و کسریٰ کے زمانے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
لیکن ایک سوال پھر بھی باقی ہے: کیا ہم واقعی ایک اور قیصر و کسریٰ کی جنگ دیکھ رہے ہیں؟ یا یہ صرف طاقت کے توازن کی نئی شکل ہے؟ شاید اصل جواب یہ ہے کہ دنیا اب ایک قطبی نہیں رہی۔ نئی طاقتیں ابھر رہی ہیں۔ چین، روس، یورپ سب اپنے اپنے مفادات کے ساتھ موجود ہیں۔ اس لیے آج کی کشمکش صرف دو فریقوں تک محدود نہیں۔
تاریخ کا سبق صاف ہے۔ جو طاقتیں غرور میں مبتلا ہو جائیں، وہ کمزور پڑ جاتی ہیں۔ جو قومیں صرف جنگ پر بھروسہ کریں، وہ اندر سے تھک جاتی ہیں۔ اصل کامیابی طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ اسے قابو میں رکھنے میں ہے۔
قیصر اور کسریٰ دونوں کو یقین تھا کہ وہ ہمیشہ قائم رہیں گے۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ دوام صرف اصولوں اور انصاف کو ملتا ہے، طاقت کو نہیں۔ آج بھی اگر عقل اور تدبر غالب نہ آئے تو یہ کشمکش پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ اور اگر دانشمندی سے کام لیا جائے تو یہی بحران ایک نئے توازن کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔
شاید یہی تاریخ کی سب سے بڑی نصیحت ہے: جنگیں وقتی فتح دیتی ہیں، مگر امن دائمی طاقت دیتا ہے۔ اور جو قومیں اس فرق کو سمجھ لیں، وہی اصل معنوں میں تاریخ کا رخ موڑتی ہیں۔