محبت: دل کا میلان یا روح کی منزل؟

محبت انسان کی زندگی کا ایک ایسا احساس ہے جس کے بغیر زندگی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔ انسان کی تاریخ، ادب، فلسفہ اور مذہب سب محبت کے ذکر سے بھرے پڑے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ محبت حقیقت میں کیا ہے؟ کیا یہ صرف ایک جذباتی کیفیت ہے یا اس سے کہیں زیادہ گہری اور ذمہ دارانہ حقیقت؟

عربی زبان میں محبت کا لفظ “حَبَّ يُحِبُّ مُحَبَّةً” سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں چاہنا، پسند کرنا اور دل کا کسی طرف جھک جانا۔ جس سے محبت کی جائے اسے محبوب کہا جاتا ہے۔ یہ تعریف بظاہر سادہ ہے مگر جب انسان محبت کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ محبت صرف ایک احساس نہیں بلکہ ایک ایسا تعلق ہے جو انسان کے پورے وجود کو متاثر کرتا ہے۔

معروف ماہرِ نفسیات ایرک فرام (Erich Fromm) نے محبت کو صرف جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ایک باقاعدہ انسانی صلاحیت قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق حقیقی محبت کے چار بنیادی اجزاء ہوتے ہیں: پرواہ، توجہ، احترام اور معرفت۔

محبت کا پہلا جز پرواہ (Care) ہے۔ جس چیز سے انسان محبت کرتا ہے اس کی حفاظت اور نشوونما کی فکر بھی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی خاتون کو پودوں اور پھولوں سے محبت ہو تو وہ انہیں باقاعدگی سے پانی دیتی ہے، ان کی دیکھ بھال کرتی ہے، مٹی کی گوڈی کرتی ہے اور ان کی تراش خراش کرتی ہے۔ یہ سب عمل اس بات کا ثبوت ہوتے ہیں کہ اس کا دعویٰ محض لفظی نہیں بلکہ عملی ہے۔ اگر وہ پودوں کو پانی دینا بھول جائے یا ان کا خیال نہ رکھے تو اس کا دعویٰ محبت محض ایک دعویٰ ہی رہ جاتا ہے۔ محبت ہمیشہ محبوب کی ترقی اور بقا کی فکر کے ساتھ جڑی ہوتی ہے۔

محبت کا دوسرا جز توجہ (Attention) ہے۔ محبت کرنے والا شخص اپنے محبوب کی ضروریات سے غافل نہیں رہتا۔ یہ ضروریات جسمانی بھی ہو سکتی ہیں اور نفسیاتی بھی۔ محبت کرنے والا صرف تماشائی بن کر نہیں دیکھتا بلکہ پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے محبوب کی بھلائی کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ والدین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہ اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں تو ان کی پرورش کرتے ہیں، ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور ان کی تربیت میں اپنا وقت اور توانائی صرف کرتے ہیں۔ اسی طرح اگر بچوں کے دل میں والدین کے لیے محبت ہو تو وہ بڑھاپے میں ان کی خدمت اور دیکھ بھال کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

محبت کا تیسرا جز احترام (Respect) ہے۔ حقیقی محبت میں خوف، دباؤ یا جبر نہیں ہوتا بلکہ دل سے عزت ہوتی ہے۔ محبوب کی شخصیت اور اس کی صلاحیتوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کی رائے کو سنا جاتا ہے اور اس کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے محبوب کو کمتر نہ سمجھے بلکہ اس کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اس کا ساتھ دے۔

چوتھا اور نہایت اہم جز معرفت (Knowledge) ہے۔ کسی شخص کو صحیح معنوں میں احترام اس وقت تک نہیں دیا جا سکتا جب تک اسے سمجھا نہ جائے۔ محبوب کو جاننے کا مطلب صرف اس کی ظاہری عادات کو جاننا نہیں بلکہ اس کی شخصیت کی گہرائیوں تک پہنچنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی پسند و ناپسند، اس کے جذبات، اس کے خواب اور اس کے درد کو سمجھنا بھی محبت کا حصہ ہے۔

یہ چاروں عناصر آپس میں اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی غائب ہو تو محبت ادھوری رہ جاتی ہے۔ اسی لیے حقیقی محبت کو ایک تخلیقی قوت کہا جاتا ہے جو انسان کے کردار کو سنوارتی ہے اور اس کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہے۔

محبت کا اصل مرکز دل ہے۔ جس طرح ایک بیج زمین کے اندر پوشیدہ رہتا ہے اور مناسب ماحول ملنے پر آہستہ آہستہ ایک تناور درخت بن جاتا ہے، اسی طرح محبت کا بیج بھی دل میں نشوونما پاتا ہے۔ ابتدا میں اس کی موجودگی کا احساس صرف انسان کو ہوتا ہے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شاخیں انسان کے کردار، اس کی سوچ اور اس کے اعمال میں ظاہر ہونے لگتی ہیں۔

دل کو انسانی وجود کا مرکز کہا جاتا ہے۔ جسم کی بے شمار رگیں دل سے نکل کر پورے بدن میں پھیل جاتی ہیں۔ اسی طرح جب کسی شخص، چیز یا ہستی کی محبت دل میں جگہ بنا لیتی ہے تو اس کا اثر انسان کی پوری زندگی پر چھا جاتا ہے۔ اس کے خیالات، اس کی ترجیحات اور اس کے اعمال سب اسی محبت کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ انسان جس سے محبت کرتا ہے وہی محبت اس کے عمل کو تحریک دیتی ہے اور اسے متحرک رکھتی ہے۔

اسی لیے انسان کا دل جس طرف مائل ہوتا ہے، اس طرف جانے کی خواہش بھی بڑھتی جاتی ہے۔ محبوب سے ملنے کی چاہت انسان کو مسلسل حرکت میں رکھتی ہے۔ یہی محبت کبھی انسان کو عظیم کارناموں تک پہنچا دیتی ہے اور کبھی اسے آزمائشوں میں ڈال دیتی ہے۔

دنیا میں محبت کی بہت سی صورتیں موجود ہیں۔ کچھ محبتیں وقتی ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ختم ہو جاتی ہیں۔ کچھ محبتیں مفاد یا ضرورت کی بنیاد پر قائم ہوتی ہیں۔ کچھ محبتیں مجبوری کا نتیجہ ہوتی ہیں اور کچھ صرف جذبات یا ذہنی فریب کی پیداوار ہوتی ہیں۔ اس کے برعکس کچھ محبتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو خالص، سچی اور پائیدار ہوتی ہیں۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض اوقات محبت صرف الفاظ تک محدود رہ جاتی ہے۔ کچھ لوگ محبت کا اظہار اس لیے کرتے ہیں کہ دوسرا شخص ان کے جال میں پھنس جائے۔ جب مقصد پورا ہو جاتا ہے تو یہی محبت ریاکاری اور دکھاوے میں بدل جاتی ہے۔ ایسے حالات میں لوگ اپنے مفاد کی خاطر محبوب کو ہی موردِ الزام ٹھہرانے لگتے ہیں اور خود کو بے قصور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

صوفیاء کرام نے محبت کے اس پورے تصور کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھا ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سے منسوب ایک قول میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ انسان جس چیز سے حد سے زیادہ محبت کرنے لگتا ہے، اکثر وہی چیز اس سے چھن جاتی ہے۔ کبھی بیماری کے ذریعے، کبھی فاصلے کے ذریعے اور کبھی موت کے ذریعے۔ صوفیاء اس کیفیت کو غیرتِ الٰہی سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندے کا دل سب سے بڑھ کر اسی کے ساتھ جڑا رہے۔

اس تعلیم کا مقصد یہ نہیں کہ انسان دنیا کے رشتوں اور تعلقات سے بے نیاز ہو جائے، بلکہ اصل پیغام یہ ہے کہ محبت کا مرکز اللہ ہو۔ جب انسان کی محبت کا مرکز درست ہو جاتا ہے تو باقی تمام محبتیں بھی اپنی درست جگہ پر آ جاتی ہیں۔ پھر رشتے بھی رہتے ہیں، تعلقات بھی قائم رہتے ہیں اور محبت بھی باقی رہتی ہے مگر انسان ان کا غلام نہیں بنتا۔

درحقیقت محبت ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو یا تو بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے یا اسے کمزوریوں کا شکار بنا دیتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان محبت کے معنی کو صرف جذباتی سطح پر نہ سمجھے بلکہ اسے شعور، ذمہ داری اور اخلاقی اقدار کے ساتھ جوڑے۔

جب محبت میں پرواہ، توجہ، احترام اور معرفت شامل ہو جائیں اور اس کا مرکز سچائی اور خلوص ہو تو یہی محبت انسان کے دل کو وسعت دیتی ہے، اس کے کردار کو نکھارتی ہے اور اس کی زندگی کو معنی عطا کرتی ہے۔ ورنہ محض الفاظ میں کی جانے والی محبت اکثر انسان کو مایوسی اور تکلیف کے سوا کچھ نہیں دیتی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے