ویل ڈن چھیپا صاحب

رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ گزر رہا ہے۔ لوگ عبادت میں مصروف ہیں۔ دوسری طرف ایران اور امریکہ کی جنگ نے دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ بڑی نازک صورتِ حال ہے اور نازک صورتِ حال سے مجھے ڈاکٹر عامر لیاقت صاحب کی یاد آ گئی۔ واقعی عامر لیاقت کے بغیر رمضان کی ٹرانسمیشن ادھوری ہے۔

ان ہی کی شروع کی گئی اس ٹرانسمیشن کے ذریعے آج بھی لوگوں کی روزی روٹی چل رہی ہے۔ ہر چینل پر وہی ٹرینڈ جو ہمارے عامر بھائی نے سیٹ کر کے دیا تھا، وہی جاری ہے۔ بچوں کا سیگمنٹ، بیت بازی، اسلامی واقعات، کوکنگ شو، انعامات کی تقسیم اور روزے کے بعد گیم شو، سب کچھ ویسا ہی ہے، بس عامر بھائی کی کمی ہے۔ لیکن امید ہے کہ وہ اچھی جگہ پر ہوں گے اور اپنی اس کاوش پر خوش ہو رہے ہوں گے۔ اللہ ان کو جنت میں جگہ دے، آمین۔

عامر بھائی کی یہ بھی خوبی تھی کہ وہ اپنی منفرد ٹیم رکھتے تھے اور ہر چینل پر وہ اور ان کی ٹیم ان کے ساتھ ہوتی۔ ان کے علما، ان کے نعت خواں، یہاں تک کہ ان کے حکیم، ڈاکٹر اور ان کے گلوکار بھی اپنے ہی ہوتے، اور ہاں ایک اور اہم شخصیت جو ان کے ساتھ ہمیشہ ہوتی، وہ تھے چھیپا صاحب، جو ان کے ہر پروگرام میں ہوتے اور خاموشی سے بیٹھے رہتے۔

ایک مرتبہ تو بڑا مزیدار قصہ ہوا۔ عامر بھائی نے اپنے شو میں کامیڈین ایاز خان کو بھی بلایا ہوا تھا۔ چھیپا صاحب حسبِ معمول پیچھے دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے کہ عامر بھائی نے چھیپا صاحب کو کسی بات پر مخاطب کیا۔ اس پر ایاز خان چونک اٹھے اور کہنے لگے:

"اچھا، چھیپا صاحب بھی آئے ہوئے ہیں؟ میں تو سمجھ رہا تھا کہ تصویر لگی ہوئی ہے۔”

یہ کہنا تھا کہ عامر لیاقت ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گئے، بلکہ انہیں لائیو پروگرام میں بریک لینا پڑا۔

کہا جاتا ہے کہ صحبت کا آدمی پر بڑا اثر ہوتا ہے۔ آج جب چھیپا صاحب کو ان کے یوٹیوب چینل پر باقاعدہ اداکاری کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ چھیپا صاحب کو بھی عامر لیاقت کا اثر ہو گیا ہے۔ اپنے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے کورونا کے دنوں میں عامر بھائی نے سینئر اداکار قوی خان کے ساتھ عید پر ایک ٹیلی فلم کی تھی اور اس میں عامر بھائی کی اداکاری دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔

بہرحال "ویل ڈن چھیپا صاحب”۔ ہمیں یہ جان کر خوشی بھی ہوئی اور حیرانی بھی کہ آپ کے اندر ایک اداکار چھپا ہوا تھا جو عامر بھائی کی وجہ سے باہر نکل آیا۔ لوگ چھیپا صاحب پر بہت باتیں بنا رہے ہیں کہ چھیپا صاحب کو آخر کیا ہو گیا ہے، وہ اداکاری کیوں کر رہے ہیں؟ جبکہ مجھے تو اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ ہمارا مسئلہ ہی یہی ہے کہ ہم ہر معاملے میں ٹانگ اڑاتے ہیں اور تنقید کرتے ہیں۔ بھائی، ہر آدمی کو اپنا شوق پورا کرنے کا حق ہے، تو پھر چھیپا صاحب کیوں نہ اپنا شوق پورا کریں؟

کسی نے درست کہا ہے کہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا، اور پھر ہمارے چھیپا صاحب تو انمول ہیں اور مجھے تو ان کی اداکاری بھی اچھی لگ رہی ہے۔ کم از کم کچھ نیا تو دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اب آخر ہم کب تک ہمایوں سعید، عدنان صدیقی، نعمان اعجاز اور فیصل قریشی کو دیکھتے رہیں گے؟ یہ قدرت کا قانون ہے کہ دنیا میں تبدیلی آتی ہے اور چھیپا صاحب اس تبدیلی کا دوسرا نام ہیں۔ ابھی تو شروعات ہے جناب۔ کہا جاتا ہے کہ:

پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آ جاتے ہیں۔

یعنی ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔ آنے والے دنوں میں چھیپا صاحب کی اس سے بہتر پرفارمنس دیکھنے کو ملے گی۔

بہت سے لوگوں نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ چھیپا صاحب اپنے کام کو ظاہر کر رہے ہیں، حالانکہ نیکی چھپ کر کرنی چاہیے۔ تو میں ان نادان لوگوں سے یہی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ بھائی اگر نیکی کو چھپاتے رہو گے تو نیکی کرے گا کون؟ آج کل مارکیٹنگ کا دور ہے اور پھر اس بہانے ہمیں چھیپا صاحب کی ایکٹنگ دیکھنے کا موقع بھی مل جاتا ہے، یعنی:

آم کے آم، گھٹلیوں کے دام۔

چھیپا صاحب کی جتنی بھی ویڈیوز میں نے دیکھی ہیں، ان میں ان کی اداکاری جاندار لگی۔ باقی تو پروفیشنل اداکار لیے جاتے ہیں مگر چھیپا صاحب نیچرل انداز میں مکالمے بولتے ہیں۔ ان کے چہرے پر کوئی گھبراہٹ نہیں ہوتی۔ ویڈیو میں ان کی انٹری بڑے کمال کی ہوتی ہے۔ اس انٹری پر تو میں انہیں پورے نمبر دوں گا۔ ان کی انٹری ہالی وڈ والوں سے کم نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی ہو گی۔

مثال کے طور پر ایک ویڈیو میں ایک بچہ اپنے ابا کے ساتھ بیکری میں اپنی سالگرہ کا کیک لینے آتا ہے۔ بچے کو مہنگا والا کیک پسند آتا ہے جبکہ پیسے ہوتے نہیں ہیں۔ اسی اثنا میں چھیپا صاحب کی انٹری ہوتی ہے۔ وہ اس صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے دکاندار کو آنکھ سے اشارہ کر دیتے ہیں تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو کہ چھیپا صاحب نے بڑا کیک بچے کے شاپر میں رکھوا دیا ہے۔ حالانکہ لطیفہ یہ بھی دیکھیے کہ کیک پر چھیپا صاحب کا نام بھی لکھا ہوا ہے۔

ایک ویڈیو میں دکھایا جاتا ہے کہ ایک بچے کے پاس کالج کی فیس بھرنے کے پیسے نہیں ہیں۔ وہ پریشان ہو جاتا ہے اور عین ممکن ہے کہ وہ اس پریشانی کے عالم میں کسی اونچی جگہ سے چھلانگ لگا دے کہ اچانک چھیپا صاحب انٹری مارتے ہیں اور اس بچے کی مالی امداد کرتے ہیں اور نصیحت کر کے چلے جاتے ہیں۔

چھیپا صاحب کی پرفارمنس سے لالی وڈ کا مستقبل خطرے میں نظر آتا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ لالی وڈ والوں کے خود لالے پڑے ہوئے ہیں۔

اب ذرا چھیپا اور رمضان چھیپا صاحب کی کارکردگی بھی دیکھ لیں۔ ایدھی کے بعد اگر کسی ادارے نے اچھا کام کیا ہے تو چھیپا ٹرسٹ ان میں سے ایک ہے۔ اس ادارے کے بانی رمضان چھیپا اسے بہترین انداز میں چلا رہے ہیں۔ ان کی پانچ سو سے زیادہ ایمبولینسیں ہیں، بے شمار شیلٹر ہاؤس اور دسترخوان موجود ہیں۔ حکومت کی طرف سے ستارۂ امتیاز حاصل کر چکے ہیں۔

کبھی کبھی تو ذہن میں آتا ہے کہ جس طرح چھیپا صاحب لوگوں کی مدد کرنے کے لیے ہر جگہ پہنچ جاتے ہیں، کاش ہمارے کرتا دھرتا بھی اسی طرح اپنے فرائض انجام دیں تو ہمارے مسائل چٹکی میں حل ہو جائیں۔

چھیپا ایک بااعتماد ادارہ ہے۔ اسے ہم سب کو مل کر چلانا ہے۔ میری طرح آپ بھی اپنی زکوٰۃ اور خیرات چھیپا کو دیجیے۔ یقین کیجیے اس تعریف کے بدلے میں نے چھیپا صاحب سے ایک پائی بھی نہیں لی ہے۔

ایک بار پھر چھیپا صاحب کی اداکاری کی طرف آتے ہیں کیونکہ ہم تو ان کے فین بن چکے ہیں۔ ان کی اداکاری کی پہلی جھلک ہمیں اس وقت نظر آئی جب وہ کچھ عرصے پہلے ایک امریکی سیاہ فام خاتون کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ جب چھیپا صاحب نے انگریزی میں زیادہ بولنا شروع کیا تو خاتون نے چھیپا صاحب کو ڈانٹا اور کہا:

"خاموش رہو، تم بہت بولتے ہو۔”

اور بیچارے صاحب خاموش ہو گئے مگر ان کی یہ ویڈیو وائرل ہو گئی اور اس کے بعد تو وہ میدان میں آ گئے بلکہ چھا گئے۔

جس طرح چھیپا صاحب سماجی کام کرنے کے لیے مشہور ہیں، اگر اسی طرح مستقل مزاجی سے اداکاری کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب وہ نامعلوم افراد، لو گرو اور آگ لگے بستی میں جیسی فلموں کا حصہ بن سکتے ہیں۔ یہ بھی تو کارِ خیر ہے۔

جب ہمیں سیاست اور اداکاری میں نئے چہرے نہیں ملیں گے تو چینج کیسے آئے گا؟ اور لوگ چینج ہی تو چاہتے ہیں۔ اب وہ چاہت فتح علی کی شکل میں ہو یا چھیپا صاحب کی صورت میں۔

ویسے اوپر عامر بھائی چھیپا صاحب کو اداکاری کرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوش ہوتے ہوں گے اور مجھے کامیڈین ایاز خان کی وہ بات یاد آ جاتی ہے کہ:

"یہاں چھیپا صاحب بھی بیٹھے ہوئے ہیں، میں تو سمجھ رہا تھا کہ ان کی تصویر لگی ہوئی ہے۔”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے