ڈگریوں کا قبرستان

آپ کبھی غور کریں، ہم نے اس ملک میں بڑے بڑے ہسپتال بنائے، ہم نے موٹر ویز کے جال بچھائے، ہم نے ایٹم بم بنایا اور ہم نے دنیا کی بہترین فوج بھی تیار کر لی، لیکن ہم نے انسان نہیں بنائے! اور انسان بنتے ہیں تعلیمی اداروں میں، ان کلاس رومز میں جہاں آج یا تو سناٹا ہے یا پھر جہالت کا شور۔

میں پچھلے دنوں ایک نوجوان سے ملا۔ اس نے ملک کی ایک بڑی یونیورسٹی سے ایم اے کر رکھا تھا، ہاتھ میں ڈگری پکڑی تھی اور آنکھوں میں مایوسی کا ایک پورا سمندر تھا۔ میں نے اس سے پوچھا: ”بیٹا! تم نے ان سولہ سالوں میں کیا سیکھا؟” اس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا اور بولا: ”تبسم صاحب! میں نے صرف امتحان پاس کرنا سیکھا ہے، زندگی جینا نہیں سیکھا۔” یہ صرف اس ایک نوجوان کی کہانی نہیں ہے، یہ اس ملک کے ڈھائی کروڑ ان بچوں کا نوحہ ہے جو اسکولوں سے باہر ہیں اور ان لاکھوں نوجوانوں کا ماتم ہے جو ڈگریاں بغل میں دبا کر نوکریوں کی قطار میں ذلیل ہو رہے ہیں۔پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ معیشت نہیں، تعلیم ہے۔

لیکن کیسی تعلیم؟ وہ تعلیم جو ہمیں لکیر کا فقیر بنا رہی ہے۔ ہمارے ہاں تین قسم کا پاکستان بستا ہے۔ ایک وہ جو ایچی سن اور گرامر اسکولوں میں پڑھتا ہے، جو خواب بھی انگریزی میں دیکھتا ہے اور جس کا مستقبل لندن اور نیویارک میں ہے۔ دوسرا وہ جو ٹاٹ کے اسکولوں میں بیٹھتا ہے، جہاں نہ چھت ہے، نہ پینے کا پانی اور نہ ہی استاد۔ اور تیسرا وہ جو مدرسے میں جاتا ہے، جسے دنیا کے جدید علوم کی ہوا تک نہیں لگی۔ ہم نے ایک ہی ملک میں تین مختلف ذہنیتیں پیدا کر دیں، تو پھر ہم قومی یکجہتی کا گلہ کس سے کریں؟ ہم نے خود اپنے ہاتھوں سے معاشرے میں نفرت کی دیواریں کھڑی کر دیں۔

آپ دنیا کے نقشے پر ابھرنے والی کامیاب قوموں کو دیکھ لیں۔ جاپان کو دیکھ لیں، جرمنی کو دیکھ لیں یا سنگاپور کو دیکھ لیں۔ ان ملکوں کے پاس ایٹم بم نہیں تھا، ان کے پاس معدنیات کے ذخائر نہیں تھے، ان کے پاس صرف ”انسان” تھے اور انہوں نے اپنی تعلیم پر انویسٹ کیا۔ انہوں نے اپنے اساتذہ کو ججوں سے زیادہ پروٹوکول دیا اور آج وہ دنیا پر راج کر رہے ہیں۔ سنگاپور کے لی کوان یو سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟

اس نے مسکرا کر جواب دیا: ”میں نے صرف استاد کو وہ عزت دی جو ایک بادشاہ کو دی جاتی ہے۔” اور ہم؟ ہمارے ہاں استاد کو سب سے کم تنخواہ دی جاتی ہے اور سب سے زیادہ بوجھ اسی پر ڈالا جاتا ہے۔ہماری یونیورسٹیوں کا حال یہ ہے کہ وہاں سے نکلنے والا گریجویٹ ایک ڈھنگ کی درخواست نہیں لکھ سکتا۔ ہم نے رٹے کو علم سمجھ لیا اور ڈگری کو عقل کا پیمانہ بنا دیا۔ ہم کمپیوٹر سائنس پڑھا رہے ہیں لیکن لیبارٹری میں کمپیوٹر بیس سال پرانے ہیں۔ ہم بزنس پڑھا رہے ہیں لیکن وہ استاد پڑھا رہا ہے جس نے زندگی میں کبھی ایک روپے کی دکان نہیں چلائی۔ یہ مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ ہم وہ نسل تیار کر رہے ہیں جو آئی ٹی کے دور میں لکڑی کے تختے پر بیٹھ کر پرانے فارمولے یاد کر رہی ہے۔

آج دنیا مصنوعی ذہانت (AI)، کوانٹم کمپیوٹنگ اور ڈیٹا سائنس کی بات کر رہی ہے، جبکہ ہمارے ہاں ابھی تک اس بات پر جھگڑے ہو رہے ہیں کہ نصاب میں کتنا حصہ مذہب کا ہوگا اور کتنا سائنس کا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سائنس اور مذہب میں کوئی تضاد نہیں، تضاد ہماری سوچ میں ہے۔ اگر ہم نے وقت کے تقاضوں کو نہ سمجھا تو ہم تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیے جائیں گے۔خدارا! ہوش کے ناخن لیں۔ یہ ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک ہم ”ایجوکیشن ایمرجنسی” نافذ نہیں کرتے۔ ہمیں سڑکوں سے زیادہ اسکولوں کی ضرورت ہے، ہمیں دانشوروں سے زیادہ ہنرمندوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک ایسا تعلیمی نظام چاہیے جو بچے کو سوال کرنا سکھائے، جو اسے تخلیق کار بنائے، جو اسے یہ بتائے کہ ایمانداری صرف کتابوں میں پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی میں اپنانے کے لیے ہوتی ہے۔

ہمیں اپنے بجٹ کا بڑا حصہ دفاع اور قرضوں کی ادائیگی کے بجائے تعلیم پر خرچ کرنا ہوگا۔ ہمیں اساتذہ کی تربیت کے لیے عالمی معیار کے ادارے بنانے ہوں گے۔ ہمیں فنی تعلیم (Vocational Training) کو لازمی قرار دینا ہوگا تاکہ ہر نوجوان جب یونیورسٹی سے نکلے تو اس کے ہاتھ میں ایک ہنر ہو، وہ نوکری مانگنے والا نہیں بلکہ نوکری دینے والا بنے۔اب وقت آ گیا ہے کہ ہم فیصلہ کریں، کیا ہم نے ڈگریوں کا قبرستان بننا ہے یا علم کی روشنی سے دنیا کو منور کرنا ہے؟ کیا ہم نے یونہیں بھکاری بن کر دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلائے رکھنا ہے یا تعلیم کے زور پر اپنا مقام پیدا کرنا ہے؟ یاد رکھیے، قومیں سڑکوں سے نہیں، سوچ سے بنتی ہیں۔ اور سوچ صرف تعلیم سے بدلتی ہے۔اگر ہم نے آج اپنے تعلیمی نظام کے اس کینسر کا علاج نہ کیا، تو کل کی نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے، اور وقت ریت کی طرح ہاتھ سے پھسل رہا ہے!

*مصنف سیاسی و سماجی امور پر لکھتے ہیں اور کالمسٹ کونسل آف پاکستان (سی سی پی) کے مرکزی صدرکے طورپرذمہ داریاں نبھا رہے ہیں *

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے