ایک ریاست کی سنجیدگی کا اصل پیمانہ اس کے بلند و بانگ دعوے نہیں بلکہ عام شہری کا روزمرہ تجربہ ہوتا ہے۔ جب ایک صارف اپنے بنیادی موبائل نیٹ ورک کے مسئلے کے حل کے لیے دربدر پھرنے پر مجبور ہو، فرنچائز کے دروازے پر کھڑا ہو کر بے بسی محسوس کرے، اور اسے یہ تاثر دیا جائے کہ وہ کسی منظم ادارے کا صارف نہیں بلکہ ایک نجی دکان کے رحم و کرم پر ہے، تو یہ محض ایک سروس کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ نظامی بے حسی کی واضح علامت بن جاتا ہے۔
اسلام آباد، جو پاکستان کا دارالحکومت ہے اور جہاں نظم، معیار اور شہری سہولیات کی مثال دی جاتی ہے، وہاں اگر ایک بڑی موبائل نیٹ ورک کمپنی ٹیلی نار کا کوئی واضح، باقاعدہ اور فعال مرکزی دفتر عملی طور پر نظر نہ آئے، تو یہ صورتحال محض انتظامی کمزوری نہیں بلکہ اصولی سوال کو جنم دیتی ہے۔ کیا ایک قومی سطح پر خدمات فراہم کرنے والی کمپنی صرف فرنچائزوں کے ذریعے ایک بڑے شہر کے صارفین کو باوقار اور معیاری سہولت دے سکتی ہے؟ اور اگر ان فرنچائزوں کا معیار غیر تسلی بخش ہو، تو صارف اپنی شکایت آخر کس دروازے پر لے کر جائے؟
فرنچائز کا تصور سہولت اور رسائی بڑھانے کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ ادارہ جاتی ذمہ داری سے فاصلے پیدا کرنے کے لیے۔ جب کوئی فرنچائز تہ خانے میں قائم ہو، جہاں صفائی کا فقدان ہو، کوڑا کرکٹ کے ڈھیر موجود ہوں، بیٹھنے کی مناسب جگہ نہ ہو، اور دفتر کے اوقات کا کوئی واضح نظم نہ ہو، تو یہ ماحول سروس سینٹر کے بجائے ایک غیر سنجیدہ کاروباری مقام کا تاثر دیتا ہے۔ چار افراد کے اکٹھے ہونے سے جگہ تنگ ہو جائے، انتظار کرنے والوں کے لیے سہولت نہ ہو، اور عملہ بے پرواہ انداز میں بیٹھا ہو، تو صارف کے اندر اعتماد کے بجائے مایوسی پیدا ہوتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ صارف کے پاس ٹیلی نار تک براہ راست، مؤثر اور باعزت رسائی کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں ہوتا۔ نہ کوئی نمایاں ریجنل دفتر، نہ کوئی ایسا ذمہ دار افسر جس تک شکایت آسانی سے پہنچ سکے، اور نہ ہی ایسا عملی نظام جو شکایات کو فوری اور سنجیدگی سے نمٹانے کی ضمانت دے۔ نتیجتاً صارف ایک ایسے غیر شفاف دائرے میں پھنس جاتا ہے جہاں فرنچائز کا ملازم خود کو آخری اختیار سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ وہ محض ایک نمائندہ ہوتا ہے، فیصلہ ساز نہیں۔
جب نگرانی کمزور ہو اور احتساب کا کوئی مؤثر خوف موجود نہ ہو، تو نچلی سطح پر بیٹھے افراد کے رویے میں لاپروائی، تاخیر اور غیر ذمہ داری بڑھنے لگتی ہے۔ جھوٹ بولنا، گمراہ کن معلومات دینا، صارف کو ٹالنا، یا اسے ذہنی اذیت میں مبتلا کرنا محض اخلاقی خامی نہیں بلکہ صارف کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ موبائل نیٹ ورک آج کے دور میں صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بلکہ بینکاری، تعلیمی رسائی، ایمرجنسی رابطے، آن لائن شناخت اور روزمرہ زندگی کے متعدد اہم پہلوؤں کا بنیادی ستون بن چکا ہے۔ ایسے میں اگر ٹیلی نار کے نمائندے غیر پیشہ ورانہ رویہ اختیار کریں، تو اس کے اثرات ایک سادہ تکنیکی مسئلے سے کہیں زیادہ وسیع ہو جاتے ہیں۔
یہاں سب سے اہم سوال پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی ریگولیٹری ذمہ داری کا پیدا ہوتا ہے۔ اگر ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی دارالحکومت میں اپنے واضح اور جوابدہ دفاتر کے بغیر محض فرنچائزوں کے ذریعے خدمات فراہم کر رہی ہو، تو کیا اس ماڈل کی باقاعدہ جانچ کی گئی ہے؟ کیا پی ٹی اے اس بات کی نگرانی کر رہی ہے کہ فرنچائز کا ماحول، سروس کا معیار، شکایات کے حل کا طریقہ کار اور صارف کے ساتھ برتاؤ مقررہ قواعد کے مطابق ہے یا نہیں؟ اگر یہ نگرانی کمزور ہے، تو یہ صرف انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ صارفین کے حقوق سے عملی چشم پوشی ہے۔
اسی تناظر میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کی ذمہ داری بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ لائسنس دینا کافی نہیں ہوتا؛ اصل ذمہ داری یہ یقینی بنانا ہوتی ہے کہ لائسنس یافتہ ادارہ شہریوں کو معیاری، شفاف اور باوقار خدمات فراہم کرے۔ اگر ایک شہری کو اپنی جائز شکایت کے حل کے لیے غیر منظم، گندے اور غیر پیشہ ورانہ ماحول کا سامنا کرنا پڑے، تو یہ اس کی شہری حیثیت اور وقار کے خلاف ہے۔ ایک باقاعدہ اور قابل رسائی دفتر کا نہ ہونا، یا عملی طور پر رابطے کا واضح نظام موجود نہ ہونا، صارف کو ادارہ جاتی خلا میں دھکیل دیتا ہے۔
یہ دلیل دینا کہ فرنچائز کسی نجی فرد کی ملکیت ہے، ذمہ داری سے بری الذمہ ہونے کا جواز نہیں بن سکتا۔ جب کوئی فرنچائز ٹیلی نار کے نام، لوگو اور برانڈ کے تحت خدمات فراہم کر رہی ہے، تو اس کا ہر عمل براہ راست ٹیلی نار کی ساکھ سے منسلک ہوتا ہے۔ اگر فرنچائز کا ماحول غیر معیاری ہو، عملہ غیر تربیت یافتہ ہو، یا اوقاتِ کار میں سنجیدگی کا فقدان ہو، تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ نگرانی کا نظام کمزور ہے یا اسے سنجیدگی سے نافذ نہیں کیا جا رہا۔
ایک مہذب معاشرے میں سروس فراہم کرنے والے اداروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ صارف کے ساتھ احترام، شفافیت اور پیشہ ورانہ دیانت کا مظاہرہ کریں گے۔ اگر صارف کو بار بار مختلف بیانات دیے جائیں، اسے گمراہ کیا جائے، یا اس کے مسئلے کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کیا جائے، تو یہ اعتماد کے رشتے کو مجروح کرتا ہے۔ اور جب اعتماد کمزور ہو جائے، تو اس کے اثرات صرف ایک کمپنی تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے ٹیلی کام شعبے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
یہ صورتحال پی ٹی اے کے لیے سنجیدہ توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔ کیا کسی موبائل نیٹ ورک کمپنی کو یہ عملی اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ وفاقی دارالحکومت جیسے اہم شہر میں صارفین کے لیے کوئی واضح، مرکزی اور مکمل طور پر جوابدہ دفتر ہی نہ رکھے؟ کیا صارفین کا یہ بنیادی حق نہیں کہ انہیں ایسا ادارہ جاتی پلیٹ فارم فراہم کیا جائے جہاں وہ براہ راست اپنی شکایات اعلیٰ سطح تک پہنچا سکیں اور ان کا باضابطہ ریکارڈ رکھا جائے؟
مزید برآں، فرنچائزوں کی باقاعدہ انسپیکشن، سروس آڈٹ اور صارفین کے تجربات کا مستقل جائزہ ناگزیر ہونا چاہیے۔ اگر کسی فرنچائز میں صفائی کا فقدان ہو، جگہ تنگ ہو، نظم و ضبط نہ ہو، یا عملہ بدتمیزی اور گمراہ کن طرزِ عمل اختیار کرے، تو اس کے خلاف فوری اور عملی کارروائی ہونی چاہیے۔ صرف لائسنس جاری کر دینا اور بعد ازاں خاموش رہنا ایک ایسا خلا پیدا کرتا ہے جہاں صارف بے بس اور ادارہ بے فکر ہو جاتا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب ادارہ جاتی جوابدہی کمزور پڑ جائے، تو نچلی سطح پر بیٹھے افراد خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ صارف کے پاس مؤثر اور فوری شکایت کا راستہ محدود ہے، اس لیے وہ وقت کی پابندی، سروس کے معیار اور اخلاقی ذمہ داری کو ثانوی حیثیت دے دیتے ہیں۔ یہی طرزِ عمل سہولت کو اذیت میں اور اعتماد کو بے یقینی میں تبدیل کر دیتا ہے۔
ایک ذمہ دار ریاست میں یہ کسی طور قابل قبول نہیں کہ شہری کو بنیادی ٹیلی کام خدمات کے مسائل کے حل کے لیے غیر صحت مند، غیر منظم اور غیر سنجیدہ ماحول کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ محض ایک فرد کا تجربہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر نظامی کمزوری کی علامت ہے جہاں کارپوریٹ ذمہ داری اور ریگولیٹری نگرانی کے درمیان خطرناک خلا پیدا ہو چکا ہے۔
اب وقت آ چکا ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن فوری نوٹس لیں اور دارالحکومت میں کام کرنے والی موبائل نیٹ ورک کمپنیوں، خصوصاً ٹیلی نار، کے باقاعدہ، قابل رسائی اور معیاری دفاتر کی موجودگی کو لازمی قرار دیں۔ فرنچائز ماڈل کو مکمل متبادل کے بجائے معاون سروس پوائنٹ تک محدود کیا جائے، جبکہ اصل ذمہ داری براہ راست کمپنی کے پاس ہو۔
اگر آج اس مسئلے کو نظر انداز کیا گیا، تو کل یہی بے حسی ایک خطرناک روایت کی شکل اختیار کر لے گی، جہاں بڑی کمپنیاں براہ راست جوابدہی سے بچنے کے لیے فرنچائزوں کی آڑ لیں گی اور صارف ایک غیر واضح اور کمزور نظام میں بھٹکتا رہے گا۔ ریاست کی خاموشی اکثر غیر ارادی تائید سمجھی جاتی ہے، اور یہی تائید غیر ذمہ دارانہ رویوں کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
لہٰذا یہ معاملہ محض ایک فرنچائز یا ایک سروس پوائنٹ کا نہیں بلکہ صارف کے احترام، ریگولیٹری عملداری، ریاستی نگرانی اور کارپوریٹ جوابدہی کے بنیادی اصولوں کا امتحان ہے۔ اگر اس پر فوری، سنجیدہ اور عملی توجہ نہ دی گئی، تو یہ صرف ایک کمپنی کی ساکھ کا مسئلہ نہیں رہے گا بلکہ عوامی اعتماد کے ایک گہرے بحران میں تبدیل ہو جائے گا۔ اور جب عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے، تو اس کی گونج صرف دفاتر تک محدود نہیں رہتی بلکہ پورے نظام کی بنیادوں کو ہلا دیتی ہے۔