عشقِ ولایت اور شہادت کی روحانی منزلیں

جب سے آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای اس دنیائے فانی سے کوچ فرما گئے ہیں اور اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے ہیں، نہ میری آنکھوں سے وہ ایک لمحہ اس بابرکت مہینے میں اوجھل ہو رہے ہیں اور نہ دل کی اداسی میں کوئی کمی آتی ہے۔ میں جب پریشان ہوتا ہوں یا اداس رہتا ہوں تو سو تو جاتا ہوں، مگر آنکھ کھلتے ہی دل میں ایک عجیب سی خفگی والا احساس ہوتا ہے اور پلک جھپکتے ہی سب سے پہلے اپنی پریشانی یاد آتی ہے۔

اللہ درجات بلند فرمائے اس عظیم ہستی آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کے، جنہوں نے مجھے اپنا دیوانہ بنا دیا ہے۔ آج کل اکثر و بیشتر مختلف واٹس ایپ اسٹیٹس اور سوشل میڈیا پر ان کی ریلس (reels) سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس قدر خوش طبیعت، خوش اخلاق اور باکمال علم کے مالک ضعیف اور سید شاہ کو ہم نے کھو دیا ہے۔ ابھی ان کا ایک بیان سن رہا تھا، فرماتے ہیں: "اللہ سے دوستی کر لیں، اللہ سے دوستی کیسے ہوگی؟ جب آپ ایسی نماز پڑھیں گے کہ گویا اللہ پاک آپ کو دیکھ رہے ہوں۔” پھر فرماتے ہیں: "ان کاموں سے منع ہو جائیں جن سے اللہ پاک نے منع فرمایا ہے اور ان کاموں کو سرانجام دیں جن کا اللہ نے حکم اور تعمیل کا فرمایا ہے۔”

یہی اللہ سے دوستی کا راستہ ہے۔ اب بتائیے ایسی لذیذ اور شیریں باتیں کرنے والا اللہ پاک کا محبوب بندہ کیسے امریکہ یا یورپ کے کہنے پر دہشت گرد یا برا ہو سکتا ہے؟ ہمیں ذرا اپنی ترجیحات دیکھنے کی ضرورت ہے، لوگوں کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔

آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای ایک اور جگہ فرماتے ہیں کہ جناب سیدنا حسین علیہ السلام کا بابرکت فرمانِ مبارک ہے کہ جو شخص اللہ کی نافرمانی کے ذریعے کسی چیز کے حصول کی کوشش کرے، چاہے وہ دولت ہو یا نسب، اور وہ گناہ کے ذریعے اپنے مقصد تک پہنچنا چاہتا ہے، تو اسے جان لینا چاہیے کہ جس چیز کے لیے وہ گناہ کے ذریعے تلاش کر رہا ہے، وہ اس کو جلدی ہی کھو دے گا یعنی وہ چیز اس کے ہاتھ سے جلدی چلی جائے گی اور جس چیز سے وہ سب سے زیادہ ڈرتا ہے وہ بہت جلد اس کے سامنے آئے گی اور اس کے ہاتھ خالی رہ جائیں گے۔

درود و سلام اللہ کے نبیؐ اور ان کی آلؑ پر۔ یہ بات آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای اتنی محبت سے سمجھا رہے تھے کہ دل کو ایک ایک لفظ لگتا ہے اور جڑتا جاتا ہے۔ میں کسی ایک شخص کے اثر میں اتنا نہیں ڈوبا جتنا آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کے بارے میں۔ وہ دین کو ہر مقصد اور منزل سے بالاتر سمجھتے رہے۔ ایک جگہ فرمایا: "ایران اہم نہیں ہے، اسلام اہم ہے”۔

وہ جس کا نقشِ قدم آج بھی منور ہے
وہی تو رہبرِ دیں، وارثِ پیمبرؐ ہے
شہید مر کے بھی مرتا نہیں، وہ زندہ ہے
خدا کے پاس وہ رزقِ دوام پاتا ہے

یہاں سورہ الانفال کی آیات 59-60 کا ذکر ضروری ہے:

"اور کافر یہ نہ سمجھیں کہ وہ بھاگ کر نکل گئے ہیں، وہ (اللہ کو) ہرگز عاجز نہیں کر سکتے۔ (59) اور (اے مسلمانوں) جہاں تک ہو سکے ان کے مقابلے کے لیے قوت اور پلے ہوئے گھوڑوں کا سامان تیار رکھو، تاکہ اس کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے دشمنوں پر ہیبت طاری کر سکو۔۔۔ (60)”

یہ جو عالمِ پیری، فقیری اور روحانی دنیا کے اصول و ضوابط ہوتے ہیں، ان کی کسی کو سمجھ نہیں آتی، مگر سمجھ آنا شروع ہو جائے تو ایک قطرہ ادب پر انسان صدیوں کے علم و حکمت کو پیروں تلے روند کر گزر جاتا ہے۔ ہمارے سامنے جلال الدین رومی اور تبریز سے لے کر بیش بہا ایسے واقعات اور احوال ہیں کہ انسانی عقل، فلسفے اور منطق کے اصولوں سے کوسوں میل دور ان پر جہاں دیدہ ہوتے رہتے ہیں۔

پرسوں اپنے بڑے بھائی سید لائق شاہ، جن کو ہم احتراماً ‘بابو’ کے لقب سے پکارتے ہیں، اپنا درد بیان کر رہا تھا کہ میں آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کو شدت سے محسوس کرتا ہوں اور اب سے نہیں کافی وقت سے ان کے اسلامی بیانات، ریلز اور تقریریں سنتا ہوں۔ اور یقین جانو بابو! میرا دل تو بہت غمگین ہے ان کی شہادت پر۔ وہ مجھے مسلسل ان سنی کر رہے تھے مگر میں ان کی نیلی آنکھوں میں بغور دیکھ رہا تھا اس نیت سے کہ وہ کوئی روحانی بات ارشاد فرمائیں گے تاکہ میرے اندر کا اضطراب ختم ہو۔چوں مے بیں مے شوَم لرزندہ از بیم
کہ در چشمانِ او نُورِ یقیں است

(جب میں (کسی مردِ حق کو) دیکھتا ہوں تو لرز اٹھتا ہوں، کیونکہ اس کی آنکھوں میں یقین کا نور ہوتا ہے۔)(علامہ اقبالؒ)

وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میرا حضرتِ آقا حسینؑ سے بھی اسی طرح لگاؤ ہے۔ کہنے لگے، مختصراً اور بات سمیٹتے ہوئے، کہ "یہ تاریں اصل میں انہی سے جا ملتی ہیں جن سے روحانی تعلق اور وابستگی ہو، اور دنیا میں شہادت کا رتبہ اس عمر میں ملنا کیوں نہ ہو، درجات کی بلندی کیسے ہوگی؟” اور موضوع کسی اور طرف لے گئے۔

البتہ میں اپنے بھائی سید لائق شاہ کا اس حوالے سے بہت شکر گزار ہوں کہ جب میں پریشان ہوتا ہوں یا اپنی حیثیت سے بڑھ کر روحانی تاروں کو ہاتھ لگا کر ‘کرنٹ’ کھا کر حیران ہو جاتا ہوں، تو دوڑ کر ان کے پاس جاتا ہوں۔ وہ شفقت بھرے ہاتھ پھیرتے ہیں اور اپنی کچھ روحانی مسافتوں کا ذکر کرتے ہیں تو دل کو سکون مل جاتا ہے۔ اللہ کسی دشمن کے بڑوں کو بھی نقصان نہ پہنچائے۔

ویسے بھی قرآن شریف میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے بطورِ حضرت ہارون علیہ السلام کے مضبوط کیا تھا۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے، جب کچھ پریشانی ہو مسائل ہوں اور سمجھ نہ آئے تو اپنے بھائیوں کے پاس جاتا ہوں اور سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ابھی ہمارے گھر میں شب و روز آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کا تذکرہ ہوتا ہے، میں غمگین ہوتا ہوں مگر لائق شاہ بھائی کی باتوں سے سکون محسوس کیا ہے۔ سید لائق شاہ کے بارے میں ان سے اجازت لے کر ان کی روحانی زندگی اور احوال پر کبھی تبصرہ کروں گا مگر مشکل لگتا ہے۔ روحانی زندگی کے نشیب و فراز کا قلم احاطہ کر سکے یہ ناممکن سا لگتا ہے۔

اللہ پاک جن سے محبت کرتے ہیں ان کو تاحیات، تا عمر، تا وقت زندہ رکھتے ہیں جیسا کہ شہید، اور ان کو اپنے رزق سے سرفراز رکھتے ہیں، جو ہمیں نظر نہیں آتا۔
شہید کے بارے میں فرمانِ الہی ہے:

"اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں شعور نہیں۔” (سورہ البقرہ، آیت 154)

آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی ایک اور ایمان افروز بات یاد آتی ہے، آپ فرماتے تھے: "خالص بنو، کیونکہ پرکھنے والا (اللہ) بہت گہری نظر رکھتا ہے۔” آپ کا ایک اور فرمان ہے: "قرآن سے دور ہونا ہی مسلمانوں کی ذلت کا سبب ہے، قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی گزارنے کے لیے ہے۔”

آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای فرماتے ہیں کہ دنیا کی آرزوئیں انسان کو آخرت سے غافل کر دیتی ہیں، ہمارا مقصد آخرت ہونا چاہیے، جنت ہونی چاہیے۔ درود و سلام اللہ کے نبیؐ، ان کی آلؑ پر اور تمام مومنین پر، اور اللہ ہمیں رمضان کی برکات سے منور کرے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے