یہ ہم گناہ گار عورتیں ہیں
جو اہلِ جبّہ کی تمکنت سے نہ رعب کھائیں
نہ جان بیچیں، نہ سر جھکائیں
نہ جسم اپنے دریدہ کر کے، فسانے لکھیں
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں خواتین کا کردار ہمیشہ سے ہی فعال رہا ہے، لیکن حالیہ برسوں نے ایک ایسی نئی تاریخ رقم کی ہے جس کی مثال دہائیوں میں نہیں ملتی۔ آج کا یہ کالم ان خواتین کے نام ہے جنہیں وقت کے فرعونوں نے "گناہ گار” ٹھہرایا، جن کی آواز کو شور سمجھ کر دبانے کی کوشش کی گئی، اور جن کے قدموں میں زنجیریں ڈال کر یہ گمان کیا گیا کہ شاید وہ تھک کر بیٹھ جائیں گی۔ یہ کالم پاکستان تحریک انصاف کی ان جرات مند خواتین کے نام ہے جنہوں نے قید و بند کی صعوبتوں کو تمغہِ امتیاز بنا کر سینے پر سجایا اور ثابت کیا کہ جب عورت اپنے حق کے لیے کھڑی ہوتی ہے تو پھر تخت و تاج کی بنیادیں ہلنے لگتی ہیں۔
کشور ناہید نے جب "ہم گناہ گار عورتیں” لکھی تھی، تو شاید ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب پاکستان کی پڑھی لکھی، معزز اور گھریلو خواتین کو محض سیاسی وابستگی کی بنیاد پر جیلوں کی کال کوٹھڑیوں میں ڈال دیا جائے گا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، جو اپنی پوری زندگی انسانیت کی خدمت اور کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ میں گزار چکی ہیں، آج اس عمر میں سلاخوں کے پیچھے کھڑی ایک ایسی سچائی بن چکی ہیں جسے جھٹلانا ناممکن ہے۔ ان کی قید صرف ایک فرد کی قید نہیں، بلکہ اس بیانیے کی قید ہے جو کہتا ہے کہ عورت کو سیاست کے خارزار میں نہیں آنا چاہیے۔ لیکن ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے عزم سے ثابت کیا کہ جرات کا تعلق صنف سے نہیں، بلکہ مقصد کی سچائی سے ہوتا ہے۔ وہ جیل کی دیواروں کے پیچھے سے بھی اپنی قوم کو یہ پیغام دے رہی ہیں کہ حق پر ڈٹ جانا ہی اصل بندگی ہے۔
اسی طرح عالیہ حمزہ اور کنول شوزب جیسی متحرک سیاسی کارکنان نے جس طرح کے کٹھن حالات کا سامنا کیا، وہ سیاسی جدوجہد کا ایک نیا باب ہے۔ ان خواتین کو مہینوں تک اپنوں سے دور رکھا گیا، عدالتوں کے چکر لگوائے گئے اور شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار بنایا گیا، لیکن ان کے ماتھے پر شکن تک نہ آئی۔ کل سنائی جانے والی سزاؤں نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا کہ طاقت کے ایوانوں میں ان خواتین کی آواز کس قدر گونج رہی ہے۔ یہ سزائیں دراصل ان کی شکست نہیں بلکہ ان کی اس سیاسی فتح کا اعلان ہیں کہ انہوں نے نظام کو مجبور کر دیا کہ وہ انہیں نظر انداز کرنے کے بجائے ان کے خلاف طاقت کا بدترین استعمال کرے۔ عالیہ حمزہ کی استقامت اور کنول شوزب کی بے باکی نے یہ ثابت کیا کہ سیاسی نظریہ جب روح میں اتر جائے تو کوئی بھی زندان اسے قید نہیں کر سکتا۔
تحریک انصاف کی ان خواتین کی جدوجہد صرف لیڈرشپ تک محدود نہیں رہی۔ اس کے پیچھے وہ ہزاروں گمنام مائیں، بہنیں اور بیٹیاں ہیں جنہوں نے گھر کی دہلیز پار کر کے سڑکوں پر اپنے احتجاج کو ریکارڈ کروایا۔ جب سیاسی کارکنان کو اٹھایا جا رہا تھا، جب گھروں کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال ہو رہا تھا، تب ان خواتین نے ثابت کیا کہ وہ صرف ووٹ ڈالنے والی مشین نہیں ہیں، بلکہ وہ اس ملک کی نظریاتی سرحدوں کی اصل محافظ ہیں۔ صنم جاوید جیسی نوجوان سیاسی ورکرز نے جس طرح مسلسل گرفتاریوں اور رہائیوں کے چکر کو ایک کھیل سمجھ کر جھیلا، اس نے آمریت پسند سوچ کو اخلاقی طور پر شکست دے دی۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے اپنے لیڈر کے ساتھ وفاداری نبھائی اور ایک جمہوری خواب کی خاطر ہر سختی کو مسکرا کر قبول کیا۔
اس کلام میں ان آوازوں کا ذکر بھی ناگزیر ہے جو انسانی حقوق کی بحالی کے لیے مسلسل بلند ہو رہی ہیں۔ ایمان زینب مزاری نے جس طرح ایک وکیل کے طور پر سیاسی قیدیوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف عدالتوں میں سینہ تانی کی، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ انصاف کی تلاش میں نکلی ہوئی عورت کو ڈرایا نہیں جا سکتا۔ دوسری جانب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بلوچستان کے سنگلاخ راستوں سے جو تحریک اٹھائی، اس نے ثابت کیا کہ دکھ اور محرومی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ جب ایک عورت اپنے حقوق کے لیے سڑک پر بیٹھتی ہے تو وہ صرف اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے لڑ رہی ہوتی ہے۔ ماہ رنگ بلوچ کی آواز میں وہ سچائی ہے جو ایوانوں کی بنیادیں ہلا دیتی ہے اور ایمان مزاری کی قانون پر گرفت اس جبر کے خلاف سب سے بڑی ڈھال ہے۔
آج خواتین کے عالمی دن پر، جب دنیا رنگین تقریبات اور کھوکھلے نعروں میں مصروف ہے، پاکستان کی یہ "گناہ گار عورتیں” جیلوں کی تپتی سلاخوں کے پیچھے یا عدالتوں کے برآمدوں میں انصاف کی منتظر ہیں۔ ان کا گناہ کیا ہے؟ ان کا گناہ یہ ہے کہ انہوں نے سوال اٹھایا، انہوں نے ایک ایسے نظام کو چیلنج کیا جو صرف طاقتور کی زبان سمجھتا ہے، اور انہوں نے اپنے سیاسی نظریے پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ وہ خواتین ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ سیاست صرف مردوں کا کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ وہ میدان ہے جہاں عورت اپنی استقامت سے تاریخ کا دھارا موڑ سکتی ہے۔ ان خواتین نے ثابت کیا کہ قید کی راتیں چاہے کتنی ہی تاریک کیوں نہ ہوں، ان کی آنکھوں میں بسا ہوا خواب کبھی دھندلا نہیں سکتا۔
عام پاکستانی عورت کی جدوجہد بھی ان سیاسی خواتین سے الگ نہیں ہے۔ وہ عورت جو مہنگائی کے طوفان میں اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے تگ و دو کر رہی ہے، وہ بھی دراصل اسی نظام کے خلاف برسرِ پیکار ہے جس کے خلاف تحریک انصاف کی خواتین کھڑی ہیں۔ یہ تمام آوازیں مل کر ایک ایسا سمندر بن رہی ہیں جو جبر کی ہر فصیل کو بہا لے جائے گا۔ ان خواتین نے ہمیں سکھایا ہے کہ آزادی مانگی نہیں جاتی، بلکہ چھینی جاتی ہے اور اس کی قیمت اکثر قید و بند کی صورت میں ادا کرنی پڑتی ہے۔ آج کی پاکستانی عورت اب وہ نہیں رہی جسے بند کمروں میں ڈرا کر رکھا جا سکے، وہ اب میدانِ عمل میں ہے اور اپنے حقوق کا دفاع کرنا جانتی ہے۔
خواتین کا عالمی دن محض ایک تقویمی تاریخ نہیں، بلکہ ان تمام خواتین کے لیے اظہارِ یکجہتی کا دن ہے جنہوں نے ظلم کے سامنے "ناں” کہا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کی سفید چادر، عالیہ حمزہ اور کنول شوزب کی نعرہ بازی، ایمان مزاری کی قانونی جنگ اور ماہ رنگ بلوچ کا لانگ مارچ یہ سب اس نئی صبح کی نشانیاں ہیں جو پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ہے۔ ان خواتین نے اپنے عمل سے دکھایا ہے کہ قید صرف جسموں کی ہوتی ہے، ذہنوں اور ارادوں کو کوئی بیڑی نہیں پہنائی جا سکتی۔
آخر میں، یہ تحریر ان تمام خواتین کے نام جن کے حوصلوں نے زندان کی دیواروں کو چھوٹا کر دیا۔ آپ کی جدوجہد رائیگاں نہیں جائے گی۔ تاریخ جب بھی پاکستان میں جمہوریت اور عوامی حقوق کی بحالی کا تذکرہ کرے گی، آپ کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ آپ وہ "گناہ گار” ہیں جن کے سجدوں نے حق کی زمین کو منور کر دیا ہے اور جن کی پکار نے باطل کے ایوانوں میں لرزہ طاری کر رکھا ہے۔ ظلم کی یہ رات چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، سپیدہِ سحر آپ ہی کے قدموں کی چاپ سے پھوٹے گا۔ آپ کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے ایک آزاد اور خود مختار پاکستان کی بنیاد بنیں گی، جہاں کسی عورت کو اپنے حق کے لیے سلاخوں کے پیچھے نہیں جانا پڑے گا۔