بین الاقوامی سطح پر خواتین کا عالمی دن دنیا کے مختلف ممالک میں منفرد انداز میں منایا جاتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب خواتین اپنی کامیابیوں، محنت اور جدوجہد کا جشن مناتی ہیں۔ درحقیقت یہ دن صرف خوشی منانے کا نہیں بلکہ اپنی شناخت اور حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا دن بھی ہے۔ اس موقع پر دنیا بھر میں خواتین اپنے مسائل، مشکلات اور کامیابیوں کو اجاگر کرتی ہیں تاکہ معاشرے میں برابری اور انصاف کو فروغ دیا جا سکے۔
خواتین صدیوں سے معاشرتی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں مختلف قسم کے امتیازی سلوک اور ظلم و ستم کا سامنا کرتی رہی ہیں۔ رنگ، نسل، زبان اور قومیت کی بنیاد پر بھی ان کے ساتھ ناانصافیاں ہوتی رہی ہیں۔ بیسویں صدی کے آغاز میں مزدوروں کے حقوق کے لیے اٹھنے والی تحریکوں نے خواتین کے حقوق کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ اسی جدوجہد کے نتیجے میں خواتین کے عالمی دن کا تصور سامنے آیا۔
28 فروری 1909ء کو نیویارک میں پہلی مرتبہ خواتین کا دن منایا گیا۔ اس کے اگلے سال 1910ء میں انٹرنیشنل ویمنز کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہر سال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن منایا جائے گا۔ بعد ازاں 1917ء میں سوویت روس میں خواتین کو حقِ رائے دہی حاصل ہوا تو وہاں یہ دن قومی سطح پر منایا جانے لگا۔
1975ء میں اقوام متحدہ نے بھی اس دن کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک میں 8 مارچ کو خواتین کے حقوق، مساوات اور ان کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے مختلف تقریبات اور سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں بھی خواتین کا عالمی دن جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ سیمینارز، واکس اور مختلف تقریبات کے ذریعے خواتین کے مسائل پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔
اگرچہ پاکستان میں خواتین کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع موجود ہیں، لیکن ان مواقع تک پہنچنے کا راستہ اکثر دشوار اور چیلنجز سے بھرپور ہوتا ہے۔ جب کوئی خاتون تعلیم، ملازمت یا سماجی میدان میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتی ہے تو اسے صرف عام مشکلات ہی نہیں بلکہ معاشرتی، ثقافتی اور روایتی رکاوٹوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
موجودہ دور میں بھی خواتین کو مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ گھریلو تشدد، ہراسانی، کم عمری کی شادیاں، تعلیم سے محرومی اور کام کی جگہ پر امتیازی سلوک جیسے مسائل اب بھی بہت سے معاشروں میں موجود ہیں۔ سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ایک نیا مسئلہ آن لائن ہراسانی اور کردارکشی کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے۔ بہت سی خواتین اپنی رائے دینے یا معاشرتی معاملات پر بات کرنے سے اس لیے گریز کرتی ہیں کہ انہیں تنقید یا تضحیک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
دیہی علاقوں میں خواتین کو تعلیم اور صحت کی سہولیات تک رسائی بھی محدود ہوتی ہے۔ کئی لڑکیاں صرف اس لیے تعلیم مکمل نہیں کر پاتیں کیونکہ معاشی حالات کمزور ہوتے ہیں یا معاشرتی سوچ انہیں گھر کی چار دیواری تک محدود رکھنے کو ترجیح دیتی ہے۔ اسی طرح کام کرنے والی خواتین کو اکثر تنخواہوں میں عدم مساوات، ملازمت کے مواقع کی کمی اور پیشہ ورانہ ترقی میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان تمام مشکلات کے باوجود پاکستانی خواتین نے ہمت اور حوصلے کی بے مثال مثالیں قائم کی ہیں۔ تعلیم، طب، سیاست، کھیل، سائنس اور کاروبار سمیت تقریباً ہر شعبے میں خواتین اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر خواتین کو مناسب مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ پورے معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
آج خواتین کے عالمی دن کا سب سے اہم پیغام یہی ہے کہ خواتین کے حقوق کو صرف ایک دن تک محدود نہ رکھا جائے۔ حقیقی تبدیلی اس وقت آئے گی جب معاشرے میں شعور پیدا ہوگا اور خواتین کو تعلیم، عزت، تحفظ اور برابر مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اسلام نے بھی خواتین کو عزت، احترام اور بہت سے بنیادی حقوق عطا کیے ہیں، جن پر عمل کرنا ہر معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ ہم صرف 8 مارچ کو تقاریر اور تقاریب تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی طور پر خواتین کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کریں۔ اگر معاشرے میں انصاف، مساوات اور احترام کی فضا قائم کی جائے تو خواتین نہ صرف اپنے خواب پورے کر سکیں گی بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں بھی بھرپور کردار ادا کریں گی۔ یہی ایک روشن اور متوازن معاشرے کی بنیاد ہے۔