دنیاوی زندگی میں انسان کے ساتھ چند ایسی ضروریات لگی ہوئیں ہیں جو اگر پورے نہ ہو جائیں تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا،جیسے بھوک،پیاس اور سانس وغیرہ۔اس لیے انسان ان ضروریات کو پورا کرنے کے لیے فکرمند اور متحرک رہتا ہے ۔انسان ہر اس چیز کے تلاش میں رہتا ہے جو ان ضروریات کے پورا کرنے کا ذریعہ ہو۔یہ ضروریات اگرچہ محدود ہیں مگر لابدی ہونے کی بنیاد پر ان کے حصول میں اکثر اعتدال سے لوگ ہٹ کر انہیں ضرورت سے اٹھا کر مقصدیت کے گوشے میں ڈال دیتے ہیں۔زندگی کے یہ بنیادی ضروریات چونکہ تمام انسانوں کے مشترکہ ہیں اس لیے ہر کوئی ان کے تحصیل کے لیے دوڑ دھوپ کرتا ہے اس دوڑ دھوپ کے دوران ایسا بھی ہوتا ہے کہ ضروریات پورا کرنے کے ذرائع پر طاقتور قابض ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں کمزور طبقہ محروم ہو کر طاقتوروں کے رحم و کرم پر رہ جاتا ہے ۔اب یہ طاقتور کی مرضی ہوتی ہے کہ کسی کو کچھ دیں یا نہ دیں۔
بہرحال اگر طاقتور کسی محروم کو بنیادی ضروریات پورا کرنے کے ذرائع میں سے کچھ دیتے بھی ہیں تو اس کے ذریعے محروموں سے ایسے ایسے قیمت وصول کرتے ہیں جنہیں بحیثیت انسان ادا کرنا تقریبا نا ممکن ہوتا ہے۔مگر چونکہ ان ذرائع کی اہمیت ہی زندگی میں ایسی ہے کہ ان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔اس لیے کمزور طبقہ ان استحصالی قیمتوں کو نہ چاہتے ہوۓ قبول کرتا ہے ۔مگر ظاہری رضامندی کے باوجود کمزور طبقے کے باطن میں طاقتور کے خلاف اشتعالی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ایسے صورت حال میں محروم طبقہ نظام اور طاقتور سے متنفر ہو جاتا ہے ۔اسے جب جب موقع ملتا ہے وہ نظام اور طاقتور کے خلاف اپنے من میں چھپے ہوۓ غصے کا اظہار کرتا ہے ۔اس مخالفانہ اظہار میں اس وقت شدت آتی ہے جب محروم طبقہ یہ دیکھتا ہے کہ ہمارے ہی اثاثوں پر ناجائز طور پر قابض لوگ پر تعش زندگی بسر کرتے ہیں جبکہ ہمارے اور ہمارے متعلقین یعنی اہل و عیال وغیرہ کے لیے بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں ۔
ایک ہی ریاست میں رہتے ہوۓ ہم محروموں کے بنیادی ضروریات ذلالت کے باوجود پورے نہیں ہوتے جبکہ دوسری طرف ہمارے ہی طرح کے لوگوں کے لیے عیاشی کا سارا سامان بلا روک ٹھوک دستیاب ہے ۔اس قسم کے حالات کی وجہ سےبھوکے لوگوں میں غیر محسوس طور پر ایسے رویے پیدا ہوتے ہیں جو پورے سماج کے لیے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔بھوک سے پروان چڑھنے والے یہ رویے محض بھوک کے خاتمے تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ پورے شدت اور انتہا پسندی کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں۔یہ شدت اور انتہاپسندی بنیادی طور پر ان استحصالی طبقات کے ردعمل میں پیدا ہوتے ہیں جو طبقات اس سے پہلے محروموں کو معاشی،اقتصادی اور معاشرتی طور پر کچل دیتے ہیں ۔
بھوک چونکہ انجام کار باعث موت بنتی ہے اس لیے یہ انسان کو درندگی پر مجبور کرتا ہے اور انسان اس درندگی پر کوئی عار بھی محسوس نہیں کرتا کیونکہ اس کے پاس اس رویے کا ایسا جواز ہوتا ہے جس سے رد نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی قانون اس کا گرفت کرسکتا ہے ۔بھوک کی وجہ سے جو درندگی وجود میں آتی ہے وہ پھر محض بھوک مٹانے تک محدود نہیں رہتی بلکہ یہ اپنے ساتھ باقاعدہ ایک پوری تہذیب لے کر آتی ہے جس میں بے حیائی،حق تلفی،جھوٹ،فریب،دھوکہ ،ڈاکہ زنی،چوری وغیرہ سب کچھ جائز سمجھا جاتا ہے ۔بھوکے لوگوں کے معاشرے میں اس قسم کے تہذیب کا برپا ہونا کوئی انوکھی بات نہیں کیونکہ جب طاقتور طبقات بھوکوں کے ساتھ درندوں جیسا رویہ رکھتے ہیں تو ان کے اندرونی احساسات بھی آخرکار ماحول کے زد میں آکر درندگی پر انسان کو آمادہ کرتے ہیں ۔
اب وہ انسان جو کبھی درندگی کو نفسیاتی طور پر برا سمجھتا تھا خود اپنے اندر سے نفسیاتی طور پر درندہ بن جاتا ہے ۔اگرچہ یہ رویہ فطرتی طور پر انسان کے مزاج کے ساتھ جوڑ نہیں کھاتا مگر بھوک ایک ایسی ظالم شے ہے جو انسانی فطرت کو بھی مسخ کر کے رکھ دیتی ہے ۔اور جب ایک مرتبہ انسان کے ظاہری رویے کے ساتھ اس کے نفسیات میل کھا جاتے ہیں تو عملی رویے مزید Resonate ہو جاتے ہیں ۔اور انسانی فطرت کے خلاف رویوں میں یہ Resonance انجام کار پورے انسانیت کو اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے۔اب جہاں تک انسان کی رسائی ہوتی ہے وہاں تک یہ پورے آب و تاب کے ساتھ انسانیت کو متاثر کرتی ہے ۔بھوک کا یہ احساس اتنا شدید ہوتا ہے کہ انسان اپنے معقول اور مدلل نظریات کو بھی اس کی وجہ سے قربان کر دیتا ہے ۔معقول اور مدلل عقائد و نظریات کے چھوڑنے کا یہ عمل اگرچہ اپنی ذات کے لحاظ سے بڑا شنیع ہے مگر بہرحال بھوک کی وجہ سے یہ عمل کے دنیا میں اپنا وجود رکھتا ہے ۔
اس قسم کے صورت حال سے چونکہ انسان براہ راست متاثر ہوتا ہے اس لیے انسانوں میں سے ذہین لوگ متفکر ہو کر ان حالات سے انسانوں کو نکالنے کے لیے سوچتے ہیں اور ہر مفکر اور فلسفی اپنی دانست اور فہم کے مطابق حل کے تلاش میں لگ جاتا ہے ۔ان ذہین لوگوں میں سے بعض افراد کے ہاتھوں میں ان کے خیال میں کچھ معقول حل لگ جاتے ہیں ۔پھر اس حل کے تلاش کنندہ اور اس کے ہم خیال لوگ پورے قوت کے ساتھ اس حل کو انسانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے تلاش کردہ حل کو نافذ کرنے کے لیے عملی جد وجہد بھی کرتے ہیں ۔
اس قسم کے حل چونکہ رد عمل کے طور پر اختیار کی جاتے ہیں اس لیے ان میں حالات،ماحول،ذاتی اور طبقاتی اثرات نمایاں ہوتے ہیں ۔ان بیرونی اثرات کی وجہ سے ان میں اعتدال کی بجاۓ شدت اور انتہا پسندی ہوتی ہے ۔ان تمام تر کمزوریوں کے باوجود ان کو معاشرے سے خاطر خواہ تعداد میں مؤیدین اور مبلغین مل جاتے ہیں ۔بھوک کے مسئلہ کے حل کے لیے بناۓ گئے یہ نظام عوامی سطح پر اس لیے مقبول نہیں ہوتے کہ ان میں کوئی معقولیت ہوتی ہے بلکہ ان کی مقبولیت کی وجہ وہ بھوک ہوتی ہے جو انسان کو اندھا کر دیتا ہے ۔جیسے کہ کمیونزم اور سوشلزم وغیرہ کو حمایتی اور مبلغین مل گئے تھے۔
ان نظاموں میں اگرچہ ناقابل عمل باتیں تھیں اور ان کے عملی تنفیذ کے لیے وحشت ناک قسم کے ہتھکنڈے استعمال کی گئے مگر بھوک سے نڈھال انسان سے اس کے یہ ساری خرابیاں اوجھل رہی اور اس نے اسے بغیر کسی علمی تنقید کے محض اپنی بھوک کو مٹانے کے لیے جلد بازی میں قبول کیا۔انسانی بھوک سے جو طبقاتی،استحصالی اور اشتعالی رویے پیدا ہوۓ تھے۔ٹھیک وہی رویے انسانی بھوک مٹانے والوں کے نظریات سے بھی پیدا ہوۓ۔ان میں اگر کوئی فرق آیا تو وہ یہ تھا کہ پہلے معاشرے میں استحصال ایک طبقے کی طرف سے ہوتا تھا اب صرف یہ میراث دوسرے طبقے کو منتقل ہوئی۔
یعنی پہلے مغرب کی طرف سے انسانی معاشرہ انتشار کا شکار تھا اب اس انتشار کی صرف سمت مشرق سے مغرب کی طرف ہوئی۔نتیجتا معاشرہ بدستور طاقتور کے زیر دست رہا۔یعنی بھوک کے خاتمے کے لیے نئے نظریات نے جہاں سے سفر شروع کیا تھا انہوں نے انسان کو دوبارہ دائرے کے اسی نقطے پر کھڑا کیا۔زیادہ سے زیادہ اس عمل کے دوران یہ ہوا کہ انسانوں کےمختلف طبقات کے مابین تصادم میں شدت آگئی اور انسان نے تشدد کے ایسے وحشت ناک واقعات کا مشاہدہ کیا جن کا وجود کائنات میں پہلے معدوم تھا۔
ان تجربات کی وجہ سے انسان کی بھوک کا مسئلہ تو حل نہ ہوسکا البتہ بہت سے انسان اور ان کے توانائیاں مفت میں ضائع ہوگئی۔
اس کے مقابلے میں اسلام ایک ایسا معاشی اور معاشرتی نظام پیش کرتا ہے جس میں پہلے تو سرے سے ایسی بھوک پیدا ہی نہیں ہوتی جو انسان کو درندگی پر مجبور کریں لیکن بالفرض اگر کئی بھوک پیدا بھی ہوجاۓ تو اسلامی نظام معیشت اور معاشرت ابتدائی مراحل میں ہی اس کا سدباب کر دیتے ہیں ۔اسلام انسانوں کو بھوک سے بچانے کے لیے سب سے پہلے ہر ذی استطاعت پر کسب معاش کو لازم قرار دیتا ہے۔سوال کرنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے ۔حلال کمائی کرنے والے کو خدا نے اپنا دوست قرار دیا ہے ۔ اسلام نے ہر شخص کو معاشی لحاظ سے اتنا ذمہدار بنا دیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے زیر کفالت افراد کے لیے عزت کے ساتھ حلال روزی کا بندوبست کرسکے۔اسلام میں معاشی استحصال کی سختی سے ممانعت کی گئ۔کسی کو یہ حق نہیں کہ کسی دوسرے کا مال اس کے مرضی کے بغیر استعمال میں لاۓ یا اس پر قبضہ کرے۔اسلام ریاست کو مال و دولت کے عادلانہ تقیسم کا پابند بناتا ہے ۔اسلامی تعلیمات کے مطابق ریاست کی یہ ذمہداری بنتی ہے کہ وہ اپنے باشندوں کے لیے بلاتفریق کسب معاش کے یکساں مواقع فراہم کرے۔
اسلام نے دولت کمانے کے تمام ناجائز ذرائع کو ممنوع قرار دیا ہے جیسے سود،جوا،چوری، ڈھاکہ زنی،قبضہ گیری،وغیرہ ذرائع سے مال کمانا ناجائز ہے ۔اسلام پہلے اپنے معاشی تعلیمات پر عمل کرانے کے لیے انسانوں کی فکری اور اخلاقی تربیت کرتا ہے اور اس تربیت کے لیے ایسے عقلی اور عملی ذرائع کا انتخاب کرتا ہے کہ انسانی نفسیات میں غیر محسوس طریقے سے اسلامی نظام معیشت کی فکری اور عملی پیروی کی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے۔اور جو لوگ تربیت کو قبول نہ کریں اور بدستور غیر انسانی اور استحصالی معاشی رویوں کو اپناۓ رکھیں ان کے روک تام کے لیے اسلام میں انتظامی طور پر ایسی صلاحیت موجود ہے جو معاشی استحصال کرنے والے طبقات کا علاج بھی کرتا ہے اور رد عمل میں پیدا ہونے والے نئے طبقات کے روکنے کا بندوبست بھی کرتا ہے ۔
یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ اسلام کا معاشی نظام کسی نظام کے رد عمل میں پیدا نہیں ہوا ہے بلکہ یہ مستقل طور پر اپنا ایک جوہری وجود رکھتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسلام کا معاشی نظام ان تمام خامیوں اور خرابیوں سے پاک ہے جو کسی ردعمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نظام میں ہوتی ہیں ۔اسلامی نظام معیشت بھوک کی بنیاد پر بننے والے تہذیبوں کا قلع قمع کرتا ہے ۔اس نظام میں انسانی اخلاقیات کے لیے اتنی مضبوط بنیادیں ہیں کہ اس کے ہوتے ہوۓ کسی اور تہذیب ک معاشرے میں پنپنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔
بھوک کے خاتمے اور روک تھام کے لیے اسلامی نظام معیشت انفرادی کردار کو بھی متحرک رکھتا ہے ۔اس ضمن میں اسلام ہر صاحب استطاعت بندے پر زکات کو لازم کرتا ہے اور زکات کے قبولیت کے لیے یہ شرط رکھتا ہے کہ اس میں ریاکاری اور احسان جتلانے سے گریز کیا جاۓ۔اسلام زکات دینے والے کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ زکات لینے والے شخص کے ساتھ کسی قسم کا استحصالی رویہ اختیار نہ کریں۔فرض زکات کے علاوہ اسلام اپنے پیروکاروں کو نفلی صدقات کی ترغیب بھی دیتا ہے ۔اسلام صرف غرباء کے امداد پر زور نہیں دیتا بلکہ اس سلسلے میں ان کے عزت نفس کا بھی اپنے نظام میں بھرپور خیال رکھنے کا اہتمام کرتا ہے ۔
الغرض اسلام بھوک کے روک تام،خاتمے،بھوک کی بنیاد پر بننے والے تہذیبوں کے سدباب،بھوکوں کے استحصال، بھوک کی بنیاد پر بننے والے طبقات، اور بھوکوں کے عزت نفس وغیرہ جیسے مسائل کے حل کے لیے ایک منظم،قابل عمل ،معقول اور مدلل نظام پیش کرتا ہے ۔
ان دلائل کی روشنی میں یہ بات پوری دعوے اور یقین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ بھوک کے خاتمے کے لیے اور بھوک کی بنیاد پر جنم لینے والے معاشرتی مسائل کے حل کے لیے انسانوں کے پاس واحد راستہ اسلامی نظام معیشت ہے ۔جب تک انسان اس نظام کو بالفعل follow نہیں کرتا اس وقت تک بھوک سے متعلقہ مسائل کا حل ممکن نہیں ۔