انسانی معاشرہ محبت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ محبت وہ جذبہ ہے جو انسان کو دوسرے انسان سے جوڑتا ہے، تعلقات کو مضبوط بناتا ہے اور زندگی کو معنی دیتا ہے۔
لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر محبت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ محبت کے کئی رنگ اور کئی شکلیں ہیں۔ بعض محبتیں خالص اور بے لوث ہوتی ہیں جبکہ بعض محبتیں وقتی مفاد اور ضرورت کے تابع ہوتی ہیں۔
اسی سلسلے میں محبت کی مختلف اقسام میں سے آج ہم ایک اہم قسم پر گفتگو کرتے ہیں جسے مفاد پرستی کی محبت کہا جا سکتا ہے۔
مفاد پرستی کی محبت کیا ہے؟
مفاد پرستی کی محبت دراصل وہ محبت ہے جو کسی خالص جذبے کے بجائے کسی فائدے، مقصد یا ضرورت کے گرد گھومتی ہے۔ جب تک مفاد موجود رہتا ہے محبت بھی قائم رہتی ہے، اور جب مفاد ختم ہو جاتا ہے تو محبت بھی ختم ہو جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں اس محبت کی سب سے واضح مثال اکثر انتخابات کے دنوں میں نظر آتی ہے۔
الیکشن سے پہلے امیدواروں کا ووٹروں کے ساتھ رویہ دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ گلی گلی اور محلے محلے جا کر ملاقاتیں کی جاتی ہیں، دعوتوں کا اہتمام ہوتا ہے، انواع و اقسام کے کھانوں سے خاطر مدارت کی جاتی ہے، لوگوں کے مسائل انتہائی توجہ سے سنے جاتے ہیں اور ان کے حل کے بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔
اس دوران ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ رہنما اپنے ووٹروں سے بے حد محبت کرتے ہوں اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہوں۔ مگر جیسے ہی انتخابات ختم ہوتے ہیں اور مقصد حاصل ہو جاتا ہے تو یہی محبت اچانک غائب ہو جاتی ہے۔
وہی لیڈر جو ہر دروازے پر دستک دیتے تھے، اچانک مصروفیات کی طویل فہرست میں گم ہو جاتے ہیں۔ میٹنگز، سرکاری امور اور غیر ملکی دورے ان کی ترجیحات بن جاتے ہیں اور وہی ووٹر جو کبھی ان کے لیے اہم تھے، اب ان تک پہنچنے کے لیے مہینوں انتظار کرتے رہتے ہیں۔
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عام لوگ ان وعدوں اور دعووں کے جال میں الجھ کر اپنا قیمتی وقت اور توانائی ضائع کرتے رہتے ہیں اور برسوں تک ان رہنماؤں کے گھروں اور دفاتر کے چکر لگاتے رہتے ہیں۔
مفاد کے ساتھ بدلنے والی محبت
مفاد پرستی کی محبت صرف سیاست تک محدود نہیں۔ یہ رویہ معاشرے کے کئی دوسرے پہلوؤں میں بھی نظر آتا ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ جب کسی شخص کو بڑا عہدہ مل جاتا ہے تو اچانک اس کے گرد لوگوں کا ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔ لوگ اس کے مداح بن جاتے ہیں، اس کے اعزاز میں دعوتیں ہوتی ہیں، جلسے منعقد ہوتے ہیں، قیمتی تحائف پیش کیے جاتے ہیں اور ہر طرف تعریف و توصیف کے پل باندھے جاتے ہیں۔
لیکن یہ محبت بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتی۔
جونہی وہ شخص اپنے عہدے سے سبکدوش ہو جاتا ہے یا اس کی طاقت کم ہو جاتی ہے تو وہی لوگ جو کبھی اس کے قریب رہنے کے لیے بے تاب تھے، آہستہ آہستہ دور ہونے لگتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے محبت نہیں بلکہ صرف عہدے سے تعلق تھا۔
یہی وہ حقیقت ہے جسے ایک پرانا مقولہ بیان کرتا ہے:
چار دن کی چاندنی پھر اندھیری رات۔
قرآن کی روشنی میں محبت کی اصل سمت
اسلام ہمیں محبت کی اصل سمت بھی بتاتا ہے۔ ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کے دل میں سب سے بڑی محبت اللہ تعالیٰ کی ہو۔ کوئی بھی انسان، رہنما یا شخصیت اس مقام تک نہ پہنچے جہاں اس کی محبت اللہ کی محبت پر غالب آ جائے۔
قرآن مجید میں اس حقیقت کو یوں بیان کیا گیا ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِن دُونِ اللَّهِ أَندَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ
(البقرہ: 165)
ترجمہ:
"لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا شریک بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ سے ہونی چاہیے، حالانکہ ایمان والے اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔”
قرآن مزید بتاتا ہے کہ قیامت کے دن وہ رہنما اور ان کے پیروکار ایک دوسرے سے بیزاری اختیار کریں گے۔
إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا
(البقرہ: 166)
ترجمہ:
"جب وہ لوگ جن کی پیروی کی گئی تھی، اپنے پیروکاروں سے بیزاری اختیار کریں گے اور عذاب کو دیکھ لیں گے اور ان کے تمام تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔”
اور اس وقت پیروکار حسرت کے ساتھ کہیں گے:
لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ
(البقرہ: 167)
ترجمہ:
"کاش ہمیں دوبارہ دنیا میں جانے کا موقع ملتا تو ہم بھی ان سے اسی طرح بیزاری اختیار کر لیتے جس طرح آج یہ ہم سے بیزاری ظاہر کر رہے ہیں۔”
یہ آیات ہمیں خبردار کرتی ہیں کہ اندھی محبت اور شخصیت پرستی انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں نقصان پہنچا سکتی ہے۔
مفاد پرستی کی محبت کی ایک قرآنی مثال
قرآن مجید میں مفاد پرستی کی محبت کی ایک نمایاں مثال حضرت یوسف علیہ السلام اور زلیخا کے واقعے میں بھی ملتی ہے۔
سورۃ یوسف میں بیان ہوتا ہے کہ زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی اور دروازے بند کر کے انہیں دعوت دی۔ لیکن حضرت یوسف علیہ السلام نے اللہ کی پناہ مانگی اور اس گناہ سے بچ گئے۔
جب معاملہ کھلنے کا خطرہ پیدا ہوا تو وہی عورت جس نے خود دعوت دی تھی، الزام حضرت یوسف علیہ السلام پر ڈالنے لگی۔ اس واقعے نے ایک اہم حقیقت کو واضح کر دیا کہ جب محبت کسی نفسانی خواہش یا مفاد کے ساتھ جڑی ہو تو خطرہ محسوس ہوتے ہی وہ محبت الزام اور دشمنی میں بدل جاتی ہے۔
آخرکار سچ سامنے آیا اور ثابت ہوا کہ حضرت یوسف علیہ السلام بے قصور تھے۔
سچی محبت اور مفاد پرستی کا فرق
حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ سچی محبت اور نفسانی محبت میں بنیادی فرق کیا ہے۔
زلیخا کی محبت نفسانی خواہش پر مبنی تھی، اسی لیے اس کا انجام ذلت اور رسوائی کی صورت میں سامنے آیا۔ اس کے برعکس حضرت یوسف علیہ السلام کی محبت اللہ کے ساتھ تھی۔ انہوں نے اللہ کے حکم کو ترجیح دی اور اسی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت، اقتدار اور بلندی عطا کی۔
یہی وجہ ہے کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کو اقتدار اور اختیار ملا تو انہوں نے دنیاوی کامیابی کے بجائے اللہ کی قربت کی دعا کی:
فَاطِرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ
(یوسف: 101)
ترجمہ:
"اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، تو ہی دنیا اور آخرت میں میرا کارساز ہے۔ مجھے اسلام کی حالت میں وفات دینا اور مجھے صالحین میں شامل کرنا۔”
ہمیں اپنی محبتوں کا جائزہ لینا ہوگا
یہ تمام واقعات ہمیں ایک اہم سبق دیتے ہیں۔ ہمیں اپنی محبتوں کا جائزہ لینا چاہیے۔ کیا ہماری محبتیں وقتی مفادات کے تابع ہیں یا وہ کسی اعلیٰ مقصد کے لیے ہیں؟
اگر محبت صرف مفاد تک محدود ہو تو وہ جلد ختم ہو جاتی ہے اور اکثر انسان کو مایوسی، رنج اور پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں دیتی۔ لیکن اگر محبت اللہ کی رضا کے تابع ہو تو وہ انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی محبتوں کو اس محبت کے تابع کر دیں جو سب سے زیادہ پائیدار، مضبوط اور حقیقی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت۔
جب دل میں اللہ کی محبت غالب ہو جاتی ہے تو دنیا کی مشکلات چھوٹی محسوس ہونے لگتی ہیں، لوگوں کی زیادتیاں دل پر زیادہ اثر نہیں کرتیں اور انسان کو زندگی کا اصل مقصد سمجھ میں آ جاتا ہے۔
یہ تحریر محبت کی مختلف اقسام کے سلسلے کی پہلی قسط ہے جس میں مفاد پرستی کی محبت کا ذکر کیا گیا ہے۔
اگلی تحریر میں محبت کی ایک اور قسم پر گفتگو کی جائے گی تاکہ ہم محبت کے مختلف پہلوؤں کو بہتر طور پر سمجھ سکیں اور اپنی زندگی میں سچی اور پائیدار محبت کو اختیار کر سکیں۔