مشرقِ وسطیٰ کا بحران: عالمی ‘مقدس جنگ’ کا بیانیہ

للہ کے بابرکت نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت عظیم رتبے والا ہے اور کائناتِ عظیم کی ہر شے سے باخبر ہے، بہت حکمت والا، بزرگ و مہربان ہے۔

جب بھی مذہب کو سیاسی اور ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، انتہا پسندی نے جنم لیا۔

جب بھی مذہب کو سیاسی غلبے اور مادی مفادات کے لیے استعمال کیا گیا، "انتہا پسندی” نے جنم لیا۔ تاریخی طور پر اس کا آغاز پہلی صدی عیسوی کے یہودی گروہ ‘زیلٹس’ (Zealots) سے ملتا ہے جنہوں نے رومیوں کے خلاف تشدد کا راستہ اپنایا (حوالہ: Josephus, The Jewish War)۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ "بنیاد پرستی” (Fundamentalism) کی اصطلاح خود عیسائیوں نے 1910 میں اپنے دفاعی عقائد کے لیے استعمال کی، جبکہ "انتہا پسندی” (Extremism) کا لفظ سرد جنگ کے دوران سیاسی جبر کے لیے وضع کیا گیا۔ عیسائیت میں صلیبی جنگیں اور انکوائری ٹریبونلز، جبکہ ہندومت میں 1923 کے ساورکر کے ‘ہندوتوا’ نظریے نے متشدد قوم پرستی کو جنم دیا (حوالہ: V.D. Savarkar, Hindutva: Who is a Hindu?)۔

مسلمانوں میں اس کے اولین بیج ‘خوارج’ نے بوئے، مگر جدید دور میں اسے 1979 کی افغان جنگ اور سرد جنگ کے تناظر میں عالمی قوتوں نے اپنے عسکری و سیاسی مقاصد کے لیے منظم کیا۔

نائن الیون (2001) کے بعد عالمی طاقتوں اور دفاعی ٹھیکیداروں (Military Contractors) نے اپنے جنگی بجٹ اور اسلحے کی فروخت کو جواز فراہم کرنے کے لیے دانستہ طور پر "اسلامی دہشت گردی” کی اصطلاحات گھڑیں (حوالہ: Edward Said, Covering Islam)۔

اللہ پاک کریم نے مجھے ملازمت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ اصول الدین سے ایم ایس (MS) کا موقع بھی دیا اور انٹرنیشنل ریلیشنز (IR) کی تعلیم کے بعد ‘تقابلِ ادیان’ (Comparative Religion) میں ریسرچ ڈگری سے بھی مستفید فرمایا۔ چونکہ قارئین مجھے اکثر ‘جہاں دیدائی’ کرتے پاتے ہیں، اس لیے حالیہ ایران اسرائیل جنگ کے تناظر میں یہ میرا قومی، دینی، تعلیمی اور اخلاقی فرض بنتا ہے کہ کتابوں میں جو پڑھنے کی کوشش کی ہے، اسے ایک طالب علم کی حیثیت سے بطور تجزیہ اور کارِ خیر بروئے کار لاؤں۔ اس مضمون کا مقصد حالیہ جنگی حالات کا بین المذاہب ہم آہنگی اور انتشار و اختلاف کے علمی زاویے سے جائزہ لینا ہے۔

امتِ مسلمہ کے لیے بہت ہی مشکل وقت آن پڑا ہے۔ ہر جگہ آگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں۔ یہ سب حالات مشاہدہ کرتے ہوئے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یقین نہیں آتا کہ آدھی دنیا پہ حکومت کرنے والے اور آج دو بلین سے زیادہ مسلمان ایسی بے حسی اور بے بسی کے عالم میں کیوں ہیں۔ بنیادی طور پہ اتحاد و اتفاق کا فقدان اور اندرونی خلفشار ایسی دو وجوہات ہیں جن کی وجہ سے مسلمان کبھی حقیقی ترقی کی جانب گامزن نہیں ہوئے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے:

وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ ۖ (سورۃ الانفال: 46)
ترجمہ: اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑا نہ کرو، ورنہ تم بزدل ہو جاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔

بالخصوص ویسٹ فیلیا (Westphalia 1648) کے نئے ریاستی نظام میں یہ امت کسی قدر اپنے آپ کو ایک مضبوط جانب گامزن کرنے سے قاصر رہی۔ 1648 سے پہلے چرچ یا مذہبی حکومتوں کا رجحان تھا اور مسلمان ایک فردِ واحد کی طرح کردار ادا کرتے تھے۔ جب سے یہ امتِ واحدہ کے وجود سے باہر نکلے ہیں، منتشر ہوئے پڑے ہیں۔ برِصغیر میں مغل حکمران پورے ہند کو کھو بیٹھے اور اسی طرح عرب، سلطنتِ عثمانیہ سے لے کر افریقہ و یورپ تک تقریباً سب کچھ ہار بیٹھے۔ ہم نے بدلتے ہوئے حالات کو بھانپا نہیں۔ نئے نظام کے تحت خود کو بروقت تیار نہیں رکھا۔ ہم اپنی ناکامی کا رونا تو روتے ہیں مگر اپنا احتساب کرنے سے قاصر ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ جنگ میں ہماری بہت کمزوریاں افشاں ہوئی ہیں۔ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند مسجدِ اقصیٰ کی حفاظت پر مامور ہوتا، مگر حالات یکسر مختلف اور تکلیف دہ ہیں۔ آگ کے شعلے مسلمان ممالک میں ہی بھڑک اٹھے ہیں۔ اسی بے حسی اور انتشار کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قوتیں اب ایک نیا اور خطرناک کھیل کھیل رہی ہیں۔

جیت ہیر (Jeet Heer) ایک پیشہ ور اور معتبر صحافی ہیں، ان کا کام واضح طور پر ترقی پسند (Liberal) سیاسی نقطہ نظر کی نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے اپنے مقالے میں نقطہ نظر پیش کیا کہ:
"ڈونلڈ ٹرمپ نے اکثر اپنے ایک پیشرو صدر ولیم میک کنلے کی تعریف کی ہے، جنہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ 1898 میں ہسپانوی امریکی جنگ کے نتیجے میں فلپائن کے امریکی الحاق کے لیے انہیں خدائی منظوری حاصل تھی۔ ٹرمپ ایک ایسے سیاسی اتحاد کے سربراہ ہیں جس کا سب سے بڑا عنصر ایونجلیکل عیسائی ہیں۔”

ایران کے خلاف موجودہ جنگ کو ‘نیویارکر’ نے تلخی سے مشاہدہ کیا کہ یہ ایک ‘بغیر وضاحت والی جنگ’ ہے۔ وائٹ ہاؤس نے متضاد جوازوں کی کثرت (حکومت کی تبدیلی، اسرائیلی حکومت کا دباؤ، ایٹمی ہتھیاروں کا خوف وغیرہ) سے مذہبی دائیں بازو کے لیے یہ موقع پیدا کر دیا ہے کہ وہ جنگ کو اپنے عکس میں ڈھال لیں۔ پینٹی کوسٹل پادری جیسے کہ جان ہیگی مشرقِ وسطیٰ کے کسی بھی ہنگامے کو اس بات کے ثبوت کے طور پر استعمال کرنے میں جلدی کرتے ہیں کہ طویل وعدہ شدہ قیامت (Apocalypse) قریب ہے۔

کرس لیمن (دی نیشن کے ڈی سی بیورو چیف) نے اشارہ کیا کہ سینیٹر لنڈسے گراہم کے مطابق: "یہ ایک مذہبی جنگ ہے، اور ہم ایک ہزار سال کے لیے مشرقِ وسطیٰ کے راستے کا تعین کریں گے”۔ ہاؤس سپیکر مائیک جانسن اور سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو بھی اسی قسم کی مذہبی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ بنیامین نیتن یاہو نے ایران کا موازنہ ‘عمالقہ’ (Amalekites) سے کیا ہے، جنہیں بائبل کے مطابق مکمل طور پر نیست و نابود کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ولی نصر (ایرانی نژاد امریکی ماہرِ تعلیم) دلیل دیتے ہیں کہ جتنا زیادہ امریکہ اسے ایک ‘مقدس جنگ’ یا ‘صلیبی جنگ’ قرار دے گا، اتنا ہی یہ مسلمانوں کو مشتعل کر کے ایک عالمی جدوجہد میں بدل جائے گا۔

کامن ڈریمز (Common Dreams) کی خبروں کے مطابق، اس مذہبی بیان بازی کے پیچھے اصل محرک دفاعی ٹھیکیداروں (Military Contractors) کے مفادات ہیں۔ لاک ہیڈ مارٹن اور ریتھیون جیسی اسلحہ ساز کمپنیوں کے حصص میں تیزی اس کا ثبوت ہے۔ یہ "ایک ہزار سال” والا بیان سامراجی عزائم کی عکاسی کرتا ہے، جس میں مسلمان ممالک کے وسائل پر قبضہ شامل ہے۔

اللہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتے ہیں کہ:
"مومنین، یہودی، عیسائی، مجوسی اور مشرکین، ان سب کا فیصلہ میں قیامت کے روز کروں گا۔”

اس لیے اللہ کا کام اور اختیار ہمیں اپنے ہاتھ میں نہیں لینا چاہیے کہ کسی کو کفر اور کسی کو مسلمان کے فتوے بانٹتے پھریں اور دوزخ و جنت کی ‘پراپرٹی ڈیلنگ’ کریں۔ ہاں، مذہب کے نام پر انتہا پسندی کے رواج پر علمی نقطہ نظر پیش کرنا لازمی ہے۔ یہ مسئلہ تمام مذاہب میں موجود شرپسند عناصر اور ان کے مفادات سے جڑا ہے، جن میں اسلحہ فروش اور مذہب فروش سرِ فہرست ہیں۔

امتِ مسلمہ تقسیم ہے۔ کوئی ایران کا ساتھ دے رہا ہے تو کوئی عربوں کا۔ ان حالات میں شاباش ہے پاکستان کو جو خود کو متوازن انداز میں چلا رہا ہے۔ جب سے مودی اسرائیل کے دورے سے واپس آیا ہے، ہندوتوا سامراجی ذہنیت حالات کو خراب کرنے پہ تلی ہے۔ البتہ ایک بات یقینی ہے کہ فتح حق ہی کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهوقًا (سورۃ الاسراء: 81)
ترجمہ: اور کہہ دیجیے کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا تھا۔

جس قدر انسانی خون کا زیاں ہو رہا ہے اس پہ زمین و آسمان کی مخلوق پناہ مانگتی ہے۔ یہ ترقی پسند دنیا اسکولوں پہ بمباری کرتی ہے اور پھر مصنوعی ٹانگیں لگا کر سہارا دینے کا ڈھونگ رچاتی ہے۔ یہ دوغلا پن اب افشاں ہو رہا ہے۔ اللہ بخشے ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کو، جنہوں نے ان حالات کی پیشگوئی کی تھی۔ انہوں نے ایک روایت سنائی تھی کہ خونریزی اتنی ہوگی کہ پرندے کئی میل سفر کریں گے مگر نیچے لاشوں کا سلسلہ ختم نہیں ہوگا۔

اے مسلمانوں! خود کو پہچانو۔ اس شیعہ، سنی، مالکی، حنفی، وہابی کے تذکروں سے نکلو۔ ایسا نہ ہو کوئی اور چنگیز مکتب کے مکتب جلا ڈالے۔ ہمارے علماء نے اختلاف امت کی آسانی کے لیے کیا تھا، نہ کہ ایک دوسرے پہ فتوے لگانے کے لیے۔ فلسطین کے معاملے پہ میں اکثر باچا خان کے سفر کو دیکھتا ہوں جنہوں نے فلسطینیوں کو اپنی زمینیں یہودیوں کو بیچنے سے منع کیا تھا، مگر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔

اس اتحاد کی اہمیت پر نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا»
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "ایک مومن دوسرے مومن کے لیے ایک دیوار کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو مضبوط کرتا ہے۔”

OIC کا کردار صرف تقریروں تک محدود ہے۔ پاکستان ہر طرف تگ و دو کر رہا ہے، ۔ ہمیں بس ڈرنا نہیں ہے، اس واحد ذات پہ توکل ہمارا سب سے بڑا سہارا ہے۔ حکیم الامت علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا:

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر.

آج امت کو اس "طرحِ نو” کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے اپنے فکری تضادات کو نہ گرایا تو تاریخ ہمیں معاف نہیں کرے گی۔ ہماری بقا صرف اس کلمہ واحد پر اکٹھے ہونے میں ہے۔

درحقیقت، تقابلِ ادیان کا مطالعہ ثابت کرتا ہے کہ یہ کوئی مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ وسائل اور سیاسی بالادستی کی جنگ ہے جس پر مذہب کا لبادہ اوڑھ کر رائے عامہ کو گمراہ کیا جاتا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم "مذہب فروشوں” اور "اسلحہ فروشوں” کے اس گٹھ جوڑ کو علمی مکالمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے ذریعے بے نقاب کریں، کیونکہ انسانیت کی بقا جنگوں کے بیانیے میں نہیں بلکہ باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔

وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے