بدلتی ہوئی دنیا ؛ ایران و امریکہ بحران کے تناظر میں مستقبلِ بلوچستان

امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا کے سیاسی اور معاشی نظام کو ایک نئی سمت کی طرف دھکیل رہی ہے۔ اگر یہ کشیدگی کھلی جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تجارت، ریاستی طاقت اور علاقائی سیاست کی پوری ساخت متاثر ہو سکتی ہے۔ خلیج کے خطے میں جنگ کا مطلب صرف فوجی تصادم نہیں بلکہ عالمی توانائی اور تجارتی راستوں کا غیر محفوظ ہو جانا بھی ہے۔

قدیم زمانے میں رومی اور فارسی سلطنتوں کے درمیان طویل جنگیں جاری رہیں۔ ان جنگوں نے مشرق اور مغرب کے درمیان تجارت کو بری طرح متاثر کیا۔ جب بڑی طاقتیں مسلسل جنگوں میں الجھ جاتی ہیں تو تجارتی راستے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں اور دنیا کو نئے راستے تلاش کرنا پڑتے ہیں۔ ایسے حالات میں پرانی طاقتیں کمزور ہوتی ہیں اور نئے علاقے اور نئی قوتیں غیر متوقع طور پر اہمیت حاصل کر لیتی ہیں۔

ایک دور ایسا بھی آیا جب تجارت کا رخ بحیرۂ احمر سے بدل کر جزیرۂ عرب کے راستوں کی طرف منتقل ہوا۔ اس تبدیلی نے صحرائی بدو قبائل کی اہمیت بڑھا دی۔ یہی قبائل بعد میں اسلام کے پرچم تلے متحد ہوئے اور ایک نئی سیاسی اور فوجی قوت کے طور پر ابھرے۔ مسلسل جنگوں سے کمزور ہونے والی بڑی سلطنتیں اس نئی قوت کے سامنے زیادہ دیر قائم نہ رہ سکیں۔

آج اگر امریکہ اور ایران کے درمیان طویل جنگ ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں بھی عالمی تجارت کے راستوں میں بڑی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ خلیج فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر اس وقت عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے اہم مراکز ہیں۔ جنگ کی صورت میں یہ راستے غیر محفوظ ہو سکتے ہیں اور جہاز رانی کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں عالمی تجارت کو متبادل راستوں کی تلاش کرنا پڑے گی۔

میری رائے میں اس تبدیلی کے نتیجے میں تجارت کا ایک بڑا حصہ بحرِ ہند کی طرف منتقل ہو سکتا ہے۔ بمبئی سے کراچی اور پھر پسنی، اورماڑہ اور مکران کے ساحلی علاقوں تک پھیلی ہوئی پاکستانی بلوچستان کی ساحلی پٹی ایک ممکنہ متبادل بحری راستہ بن سکتی ہے۔ یہ علاقہ جغرافیائی لحاظ سے ایسے مقام پر واقع ہے جہاں سے عالمی جہاز رانی نسبتاً محفوظ سمندری راستوں کے ذریعے گزر سکتی ہے۔

اسی طرح خشکی کے راستوں میں بھی تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا اور افغانستان کے راستے طویل عرصے سے غیر یقینی صورتحال اور سکیورٹی مسائل کا شکار ہیں۔ اس وجہ سے مستقبل میں زمینی تجارت کے بعض راستے بلوچستان کے ذریعے گزر سکتے ہیں۔ پاکستان اور ایران کے بلوچستان پر مشتمل پورا خطہ ایک نئے ابھرتے ہوئے جغرافیائی اور تجارتی علاقے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

گوادر بندرگاہ اس تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، لیکن اس کے مکمل طور پر فعال ہونے کے امکانات اس وقت کم دکھائی دیتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک رقابت ہے۔ گوادر کو چین کے علاقائی منصوبوں کا حصہ سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے اسے صرف ایک تجارتی بندرگاہ نہیں بلکہ ایک جغرافیائی اور فوجی اہمیت کے مقام کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

دوسرا اہم عنصر بلوچستان میں جاری شورش ہے۔ جب تک اس خطے کے سیاسی مسائل کا کوئی قابل قبول حل سامنے نہیں آتا، گوادر کی مکمل فعالیت مشکل دکھائی دیتی ہے۔ تاہم اگر خلیج کے خطے میں جنگ کے باعث عالمی تجارت پر شدید دباؤ پیدا ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ بڑی طاقتیں بلوچستان کے سیاسی یا مزاحمتی حلقوں کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں مذاکرات کی طرف بڑھیں تاکہ گوادر اور مکران کے ساحلی علاقوں کو عالمی تجارت کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

اسی تناظر میں سندھ کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ کے پاس ایک طویل ساحلی پٹی موجود ہے جو عالمی تجارت کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ بدقسمتی سے کراچی کے علاوہ سندھ میں کوئی بڑا اور مکمل طور پر ترقی یافتہ سمندری بندرگاہ موجود نہیں ہے۔ اگر گزشتہ برسوں میں مزید بندرگاہیں تعمیر کی جاتیں تو آج سندھ عالمی تجارت میں کہیں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتا تھا۔

کراچی بندرگاہ کا مستقبل بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں سمجھا جا سکتا۔ جنگی حالات میں اسے نسبتاً آسانی سے بند یا محدود کیا جا سکتا ہے۔ گوادر بندرگاہ کی ترقی کا ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ اگر کسی جنگی صورتحال میں کراچی بندرگاہ متاثر ہو جائے تو پاکستان کے پاس ایک متبادل بندرگاہ موجود ہو اور ملک کو سمندری رسائی برقرار رکھنے کے لیے ایک اسٹریٹجک گہرائی حاصل ہو۔

کراچی شہر خود بھی سیاسی اور سماجی لحاظ سے ایک حساس شہر رہا ہے۔ کسی بھی وقت یہاں بدامنی یا خلل پیدا ہو سکتا ہے جس کے اثرات پورے ملک پر پڑتے ہیں۔ اگر ایسے حالات میں متبادل بندرگاہیں موجود نہ ہوں تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

ایک اور پہلو یہ ہے کہ سندھ میں اس نوعیت کی کوئی مضبوط سیاسی یا عوامی تحریک نظر نہیں آتی جو بدلتی ہوئی عالمی صورتحال سے فائدہ اٹھا سکے۔ اگر گزشتہ تقریباً اٹھارہ برسوں کے دوران سندھ کی حکومت نے مزید بندرگاہوں کی ترقی پر توجہ دی ہوتی تو آج سندھ کی عالمی سیاست اور تجارت میں اہمیت کہیں زیادہ مختلف اور نمایاں ہو سکتی تھی۔

دوسری طرف فوجی لحاظ سے امریکہ جدید ہتھیاروں اور فضائی طاقت میں برتری رکھتا ہے اور وہ فضائی حملوں کے ذریعے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتا ہے۔ لیکن جدید جنگوں نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے کسی بڑے اور پیچیدہ معاشرے کو مکمل طور پر کنٹرول کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ایران جیسے وسیع اور جغرافیائی طور پر پیچیدہ ملک میں زمینی جنگ طویل اور مشکل ثابت ہو سکتی ہے۔

میرے خیال میں اگر خلیج کے خطے میں طویل جنگ اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اس کے اثرات ریاستی نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ بعض علاقوں میں حکومتوں کی گرفت کمزور ہو سکتی ہے اور مقامی طاقتیں، مسلح گروہ یا قبائلی قیادتیں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر سکتی ہیں۔ ایسے حالات پورے خطے کی سیاسی ساخت کو بدل سکتے ہیں۔

ان تمام عوامل کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آنے والے برسوں میں بلوچستان کی جغرافیائی اور تجارتی اہمیت غیر معمولی طور پر بڑھ سکتی ہے۔ عالمی طاقتوں کی کشمکش، تجارت کے بدلتے ہوئے راستے اور علاقائی سیاست کی نئی ترتیب بلوچستان کو ایک ایسے مقام پر لا سکتی ہے جہاں سے مستقبل کی علاقائی معیشت اور سیاست کے نئے راستے متعین ہوں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے