امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطاب کے بعد خام تیل کی قیمتیں گرگئيں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں 10 فیصد سے زائد کی کمی آئی ہے جب کہ عالمی اسٹاک مارکیٹس نے بھی مثبت ردعمل دیا ہے۔
فلوریڈا میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں جلد ختم ہونے کا اشارہ دینے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آرہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ جلد ختم ہونے والی ہے۔ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا رواں ہفتےجنگ ہوگی؟ اس سوال پر ٹرمپ نےکہا نہیں۔
امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 11 فیصد کی کمی کے بعد 84.35 ڈالر فی بیرل فروخت ہورہا ہے۔ اسی طرح برطانوی خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت بھی 10.51 فیصد کمی کے بعد88.74 ڈالر فی بیرل ہوگئی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جغرافیائی کشیدگی کے باعث گزشتہ روز تیل کی قیمتیں تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں، جو 2022 کے بعد بلند ترین سطح تھی۔
اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا شروع
دوسری جانب جنگ جلد ختم ہونے کے امکان پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوگیا۔
جنگ ختم ہونے کے اشارےکے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں ساڑھے 6 فیصد سے زائد کا اضافہ ہوا۔ 100 انڈیکس 9 ہزار 696 پوائنٹس اضافےکے بعد 1 لاکھ 56 ہزار 177 پوائنٹس پر بند ہوا۔
خلیجی اسٹاک مارکیٹس میں مسلسل گراوٹ کے بعد تیزی آئی اور دبئی مارکیٹ میں نمایاں اضافہ ہوا۔ قطر، کویت اور سعودی عرب کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مثبت رجحان دیکھنے میں آیا۔
یورپی اسٹاک ایکسچینج میں بھی کاروبار کا مثبت رجحان دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ جاپان ، ہانگ کانگ ،کوریا اور بھارتی اسٹاک ایکسچینج میں بھی اضافہ ہوا۔