کتے میں تیرا خون پی جاؤں گا

"کتے میں تیرا خون پی جاؤں گا”۔ یہ مکالمہ اس لیے
ذہن میں آیا ہے کہ آج کل ہمارے علاقے میں کتوں کی آبادی بہت ہوگئی ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ کتے اب کمینے بھی ہوتے جارہے ہیں۔ ہمارے علاقے میں کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں۔جن میں کتوں نے معصوم بچوں کو کاٹ لیا۔انگریزی محاورہ ہے کہ

Barking Dogs Seldom Bite

کتے صرف بھونکتے ہیں کاٹتے نہیں ہیں۔ مگر موجودہ دور میں جہاں آدمی آدمی کو کاٹنے کے لیے دوڑ رہا ہے۔وہاں کتا تو پھر کتا ہے۔اگر وہ کاٹے گا نہیں تو اس کے جبڑے کا فائدہ کیا ہے۔جبڑے سے مجھے ایک جملہ یاد آرہا ہے۔

"مشتاق احمد یوسفی فرماتے ہیں کہ کتے میں سے اگر جبڑا نکال دیا جائے تو خاصا معقول جانور ہے۔”

سچ بات تو یہ ہے کہ کتے کے سامنے ہماری حالت غیر ہوجاتی ہے۔اس کو دیکھ کر خوف محسوس ہونے لگتا ہے۔ پسینہ چھوٹنے لگتا ہے اور کانپیں ٹانگنے، میرا مطلب ہے ٹانگیں کانپنیں لگ جاتی ہیں۔گلی میں کتا بیٹھا ہو تو گھر تک جانا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم سر جانی سے کھارا در جا رہے ہوں۔ اس پر ستم ظریفی دیکھیے کہ گلی میں بیٹھے ہوئے لوگ ہمیں خوف میں دیکھ کر مسکراتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ڈریے نہیں "کتا کچھ نہیں کہے گا” ایسا لگتا ہے کہ کتا ان کا کوئی کزن یا عزیز ہے ، اس پر ہم ان سے کہتے ہیں کہ

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی بہل جائے
اب اتنا بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

ایک مرتبہ ہمیں اسی طرح گلی میں بیٹھے آواہ کتے،معاف کیجئے گا آوارہ بندے نے کتے کے حوالے سے یقین دہانی کروائی کہ کتا کچھ نہیں کہے گا۔ مگر جیسے ہی ہم آگے بڑھنے لگے وہ کتا کہیں کا ،ہمارا تعاقب کرنے لگا۔ہم نے ڈبلیو گیارہ بس کی رفتار سے دوڑ لگادی اور وہ کم بخت ڈی سیون کی رفتار سے ہمارا پیچھا کرنے لگا۔ وہ تو ہماری قسمت اچھی تھی کہ ایک گھر کا دروازہ کھلا ہوا مل گیا اور ہم اس میں داخل ہوگئے ورنہ وہ کتا،کمینہ ہماری کتے والی کردیتا۔

اگلے دن وہی بندہ ہمیں مل گیا جس نے ہمیں کتے کے سامنے سے گزرنے کی تلقین کی تھی ۔کہنے لگا کیوں بھائی تجربہ کیسا رہا۔

ہم چپ رہے ہم ہنس دیئے

وہ عقل مند تھا۔اس نے بھانپ لیا۔کہنے لگا کتے نے آپ کی آنکھوں میں دیکھ لیا ہوگا۔ہمیں تعجب ہوا ہم نے کہا کیا مطلب۔ کہنے لگا دراصل کتا جب آدمی کی آنکھوں میں خوف محسوس کر لیتا ہے تو وہ پیچھے پڑ جاتا ہے۔ہم نے دل میں سوچا کہ ہم نے تو کبھی کسی لڑکی کی آنکھوں میں نہیں دیکھا یہ کتے کی آنکھوں میں دیکھنے کی بات کر رہا ہے۔

ایک قصہ مجھے یاد آیا کہ ہمارے ایک انکل بتایا کرتے تھے کہ وہ کسی فرم میں نوکری کرتے تھے۔اس فرم میں چینی ورکر کی بڑی تعداد کام کرتی تھی۔ وہ کتوں کے شوقین تھے۔ آپ سوچ رہے ہوں گے کہ انھیں کتوں سے محبت تھی اور وہ ان کی دیکھ بھال کرنا چاہتے تھے۔ تو آپ کا اندازہ غلط ہے۔نہیں جناب،وہ کتوں کو کھانے کے شوقین تھے۔ جس طرح ہم چکن اور مٹن کڑاہی شوق سے کھاتے ہیں۔ اسی طرح ان چینی ورکر کی محبوب غذا گلی محلے میں پھرنے والے کتے تھے۔

شروع شروع میں تو کتوں کو کوئی اندازہ نہیں ہو پایا مگر جب ان چینی بھائیوں نے اپنی تسکین کے لیے کتوں کا استعمال بلکہ استحصال کرنا شروع کیا تو کتے الرٹ ہوگئے اور انھوں نے وہ علاقہ ہی چھوڑ دیا۔اب اس علاقے میں جب بھی کوئی چینی بھائی نظر آتا ہے کتوں کی دوڑ لگ جاتی ہے۔

کتے کو برا بھلا تو کہا جاتا ہے۔لیکن اس کا استعمال روزمرہ میں بہت ہوتا ہے ۔ کتے پر بے شمار فلمیں بھی بنی ہیں۔ بہت سی فلموں میں کتوں نے بے مثال اداکاری بھی کی ہے۔ یعنی کتا بڑا فلمی کریکٹر ہے۔اس کے اوپر کئی ڈائیلاگ بھی لکھے گئے ہیں جیسے دھرمندر صاحب کا ایک ڈائیلاگ ہے۔

” بسنتی کتوں کے سامنے مت ناچنا "

اب اس بات کو محاورے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ ورنہ روزمرہ میں تو آدمی سوچے کہ بھائی ناچنا تو ویسے ہی معیوب سمجھا جاتا ہے اور پھر ان کتوں کے سامنے کیوں ناچا جائے کیا اب کتے بھی تماشبین بن گئے ہیں۔ ناچنا ہے تو ہمارے سامنے نا چو کیا ہم مر گئے ہیں۔

ایک اہم بات بھی آپ سے شئیر کر لوں ہمارے علاقے میں کچھ لوگوں نے بے شمار کتے پال رکھے تھے۔ وہ ان کتوں کو کھلا تے پلاتے۔ بدلے میں وہ کتے علاقے کی نگرانی بھی کرتے۔لیکن ان خاص لوگوں کے علاوہ اہل محلہ کتوں کی وجہ سے بہت پریشان تھے۔ بلکہ کئی حادثے بھی ہوچکے تھے۔ اسی وجہ سے ایک آدمی نے تنگ آکر کچھ کتوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور محلے میں امن وسکون ہوگیا مگر جو ان آوارہ کتوں کو کھلا تے پلاتے تھے۔ان لوگوں نے شور مچادیا اور یہاں تک کہ لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا اور پولیس کو بلانا پڑا۔آج کے دور میں ہم انسان اتنا لڑتے ہیں کہ کتے بھی شرما جائیں۔

ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ کتے کے کاٹنے سے ریبیز جیسی بیماری ہوجاتی ہے۔ انڈیا کے ایک پہلوان کبڈی کے کھلاڑی۔برجیش سولنکی کی ویڈیو اگر آپ نے نہیں دیکھی ہے تو دیکھ لیں۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ برجیش سولنکی کو ایک گلی میں ایک پپی( کتے کا بچہ) کہیں پھنسا ہوا ملا۔ جب پہلوان اس پپی کو باہر نکالنے لگا تو اس پپی نے اپنے دانت پہلوان کے ہاتھ میں گاڑ دیے۔ پہلوان نے کوئی دھیان نہیں دیا مگر چند ماہ بعد اس کا ہاتھ اور جسم سن ہونے لگا۔ یہی نہیں اس کو سانس لینے میں دشواری ہونے لگی اور اس کا دماغی سنتولن بھی خراب ہوگیا اور اس طرح ایک کتے کے بچے کی وجہ سے ایک کبڈی پلئیر جان کی بازی ہار گیا۔

دھرمندر صاحب ایک اور ڈائیلاگ جو بہت مشہور ہوا۔

"کتے میں تیرا خون پی جاؤں گا”

اب ذرا جملے پر غور کیا جائے کہ جب اس طرح کے مکالمے لکھے جائیں گے تو کتوں کو بھی برا لگے گا۔ اس طرح کے جملے کتوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔ اور پھر وہ بھی جوابی وار کریں گے۔

ایک صاحب کو دھرمیندر کا یہ مکالمہ سمجھ ہی نہیں آیا۔ویسے بھی ان کی اُردو ان کے ایمان کی طرح کافی کمزور ہے۔ کہنے لگے کہ کتے میں تیرا خون پی جاؤں گا۔

یہ جملہ سمجھ میں نہیں آیا کہ کوئی اتنا مشکل کام آخر کیسے کر سکتا ہے۔؟ پہلے کتے کو ارینج کیا جائے پھر اس کا آپریشن کیا جائے اور پھر اس کا خون نکال کر پیا جائے۔ یہ کام تو کوئی عامل یا حکیم ہی کرسکتا ہے اور آخر اس جھنجھٹ میں پڑنے کی آخر کیا ضرورت ہے۔

کتے پالنے والے ایک صاحب کہنے لگے کہ خبردار جو کسی نے میرے کتے کا خون پینے کی کوشش کی۔

اب ان احمقوں کو کون سمجھائے کہ یہ محاورے ہیں ان کا اصل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آخر میں ایک اور قصہ ذہن میں آرہا ہے۔ ہمارا ایک انگریز دوست بنا۔ ہم دوستوں نے سوچا کہ اسے ایک اور دوست مشکور صاحب سے ملواتے ہیں۔اس دوران ہمارے ایک ساتھی کو شرارت سوجھی اوراس نے دو ہار خرید لیے اور اس انگریز سے کہ دیا کہ آپ یہ دو ہار ہمارے دوست اور ان کے بیٹے کو پہنادیجیے گا ۔انگریز نے کہا ضرور ان کے نام کیا ہیں۔ ہمارے اس خبیث دوست نے کہا کہ ان کو پیار سے کتا کہتے ہیں۔ چھوٹا کتا اور بڑا کتا۔

انگریز نے کہا ٹھیک ہے۔اب جب ان کے گھر گئے تو مشکور صاحب نے دروازہ کھولا۔ انگریز نے فورا ہاتھ ملا کر ہار ان کے گلے میں ڈال دیا اور کہاکہ کیسے مزاج ہیں بڑے کتے اور چھوٹا کتا کہاں ہے؟ اس کے آگے جو ہوا وہ سنانے اور بتانے کے قابل نہیں ہے۔ بس ایک جملہ بتادیتا ہوں جو مشکور صاحب نے انگریز کے لیے کہا۔

"کتے میں تیرا خون پی جاؤں گا”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے