ٹانگے والا خیر منگدا

ٹانگے کی سواری بچپن کی حسین یادوں میں سے ایک ہے۔تب پشاور میں ٹک ٹک کر تے ٹانگے دوڑتے پھرتے تھے ۔ٹانگے کی سواری بھی بڑی دلچسپ تھی ۔رش میں جب پچھلی نشست پر بیٹھے ہوتے اور پیچھے سے آنے والا گھوڑا باقاعدہ ہمارے منہ کے پاس آ کر دانت نکوستا اور ہمارا دل اچھل کر حلق میں آجاتا ۔

سواریوں والے ٹانگے عوام کے لیے اور سالم ٹانگے امرا کے لیے۔۔سفر کا آسان سستا اور ماحول دوست ذریعہ تھے۔ ۔ہم سکول ٹانگے پر سوار ہو کر ہی جاتے۔اب صحیح لفظ ٹانگہ ہے یا تانگہ ۔عمومی طور پر اسے ٹانگہ ہی کہا جاتا ہے لیکن جنہیں اعتراض ہے وہ اسے تانگہ ہی پڑھیں ۔۔ ویسے ہی جیسے اشفاق احمد صاحب کی توتا کہانی ۔اسے عموماً عوامی سواری سمجھا جاتا ہے ۔لیکن جناب یہ شاہی سواری بھی ہے۔ایک دور میں امراء اور نواب بڑی شاہانہ بگھیوں میں سفر کرتے وکٹورین دور کے انگلش ناولوں میں بگھی سوشل سٹیٹس کا اظہار کرتے نظر آتی ہے ۔موجودہ دور میں بھی ہمارے پاکستان میں غیر ملکی سفیر جب صدر پاکستان کو اپنی سفارتی دستاویزات پیش کرنے آتے ہیں تو بگھی میں سوار ہو کر ایوان صدر آتے ہیں ۔پریوں جیسی شہزادی ڈیانا اپنی شادی کے موقع پر چرچ سے باہر نکلی۔۔۔

من موہنی مسکراہٹ کے ساتھ ہاتھ ہلاتی اپنے شہزادے چارلس کے ساتھ بگھی میں سوار ہوئی اور دنیا نے دیکھا کہ سڑک کے دونوں جانب لاکھوں افراد انہیں محبت کا نذرانہ پیش کرتے نظر آئے ۔برطانوی شاہی خاندان بھی اہم مواقع پر ہمیشہ بگھی میں سوار نظر آتا ہے ۔یعنی ٹانگا ہو یا بگھی اب بھی بڑی اہمیت کے حامل ہیں۔پاکستان میں شادیوں پر اکثر بارات کے موقع پر دولہا دلہن کو بگھی میں ہی بٹھا کر لایا جاتا ہے ۔پشاور کی قدیم ثقافت کی علامت محلہ سیٹھیاں سے بھی شاہی سواری ٹانگہ میسر ہے جہاں سیاحوں کو بگھی میں بٹھا کر قدیم پشاور کی سیر کروائی جاتی ہے ۔ٹانگے کو ہمارے ادب اور فلموں ڈراموں میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے ۔نامور ادیبوں کے افسانوں میں ٹانگے والے کا ذکر ملتا ہے ۔جبکہ مشہور زمانہ نغمہ
ٹانگے والا خیر منگدا
ٹانگا لہور دا ہوے بھاویں جھنگ دا
کبھی زبان زد عام تھا ۔اور پھر چنگ چی نامی سواری ایک عفریت بن کر پاکستان میں نازل ہوئی ۔موٹر سائیکل کے پیچھے رکشے کی سیٹیں لگا کر بظاہر ایک سستا آمد و رفت کا ذریعہ ۔۔۔لیکن چند ہی سالوں میں اس نے پاکستان کی آب و ہوا کا حشر نشر کر دیا ۔شہر ہوں یا دیہات چنگ چی گلیوں سڑکوں پر دوڑتی نظر آتی ہے ۔ہر طرف دھوئیں کے بادل۔۔ سانس لینا مشکل ۔۔چنگ چی نے ٹانگے کو منظر عام سے غائب کر دیا ۔اور ٹانگے والے اپنا روزگار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ۔ ۔

لیکن جناب موجودہ حالات میں ٹانگے کی اہمیت دوبارہ سے بڑھ گئی ہے ۔جب عالمی بحران کی وجہ سے پیٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں ۔ہماری حکومت کے نمائندے میڈیا پر آ کر بڑی معصومیت سے کہتے ہیں کہ یہ اقدام عوام کی سہولت کے لیے اٹھایا گیا ہے ورنہ پیٹرول کمپنیاں بڑی تعداد میں ذخیرہ اندوزی کر لیتیں ۔اب عوام بیچاری حکومت کے بیان کو سنتی ہے اور پھر اپنی جیبوں کو دیکھتی ہے جس میں پہلے ہی بڑے بڑے سوراخ ہو چکے ہیں ۔اس دور میں دوبارہ سے ٹانگے کی اہمیت اجاگر ہونے لگی ہے ۔سواری کا ایسا ذریعہ جو بغیر پیٹرول پھونکے آپ کو تسلی سے اپنی منزل مقصود تک پہنچا دیتا ہے اور وہ بھی بڑے مناسب کرائے میں ۔۔کیونکہ ٹانگے کو اس سے سروکار نہیں کہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ حملہ آور ہوئے ہیں اور ایران مڈل ایسٹ کے ملکوں پر ۔۔۔

اسے تو بس دو وقت چارہ کھانا ہے اور اپنی خدمت انجام دینی ہے ۔(خبردار اس سہولت کا حکومت کو پتہ نہیں چلنا چاہیے ورنہ ہو سکتا ہے چارے پر بھی ٹیکس لگ جائے) ۔موجودہ جنگ فی الحال تو کسی صورت ختم ہوتی نظر نہیں آرہی ۔لہٰذا لگتا ہے کہ جلد ہی ٹانگے ہماری سڑکوں پر ایک بار پھر دوڑتے نظر آئیں گے ۔ہماری پاکستانی عوام بھی الجھی نظر آتی ہے ۔جیسے حکومت کا پیٹرول کی قیمت بڑھانے کا معصومانہ اعلان ہے ویسے ہی ہماری خارجہ پالیسی بھی ۔ابھی ابھی خبروں میں سنا کہ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر نے ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ۔اور ساتھ ہی یہ بھی سنا کہ پاکستان نے عرب ممالک پر ایرانی حملوں کی بھی مذمت کرتے ہوئے ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ۔ساتھ ہی ساتھ دماغ میں وہ منظر بھی گھومتا ہے کہ ابھی کچھ ہی دن پہلے ہماری اعلیٰ قیادت امریکہ میں ٹرمپ کے ساتھ مصافحہ کر رہی ہے۔ٹرمپ صاحب ہمارے وزیراعظم اور سپہ سالار کی تعریف میں قلابے ملا رہے ہیں ۔اب عوام کیا سمجھے کہ امریکہ کی مذمت کرنی ہے۔۔۔ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنا ہے یا عربوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ایران کی مذمت کرنی ہے ۔عوام بھی عجیب الجھن کا شکار ہیں ۔بقول مرزا غالب
ایمان مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے اگے
ناز پروین معروف کالم نگار اور دو کتابوں کی مصنفہ ہیں ۔متعدد ادبی اور ثقافتی تنظیموں سے منسلک ہیں ۔پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے