سیاست کا کٹھن سفر اور نہال ہاشمی کی استقامت

پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کا راستہ اکثر آزمائشوں کی بھٹی سے گزر کر نکلتا ہے۔ کچھ سیاستدان ہوا کے رخ کے ساتھ چلنا پسند کرتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نظریاتی وابستگی کی خاطر تپتی دھوپ میں کھڑے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج کل کراچی کی سیاست اور وفاق کے گلیاروں میں ایک نام بڑی شد و مد سے گونج رہا ہے: "نہال ہاشمی”۔ یہ محض ایک نام نہیں، بلکہ ایک طویل سیاسی جدوجہد، قانونی مہارت اور میاں نواز شریف سے غیر متزلزل وفاداری کی ایک داستان ہے۔

نہال ہاشمی کا تعلق کراچی کے ایک پڑھے لکھے اور متوسط گھرانے سے ہے۔ پیشے کے اعتبار سے وہ ایک منجھے ہوئے قانون دان ہیں جن کی سپریم کورٹ تک رسائی اور قانونی باریکیوں پر گرفت مسلمہ ہے۔ لیکن ان کی اصل پہچان پاکستان مسلم لیگ (ن) کے اس جاں نثار کارکن کی ہے جس نے سندھ کی سنگلاخ زمین پر اس وقت پارٹی کا جھنڈا تھاما جب وہاں ‘شیر’ کی دھاڑ سنائی دینا محال تھی۔ انہوں نے کراچی جیسے کثیر لسانی اور سیاسی طور پر پیچیدہ شہر میں مسلم لیگ (ن) کو منظم کرنے کے لیے اپنی جوانی اور توانائیاں صرف کر دیں۔

ان کی زندگی کا سب سے کٹھن موڑ 2017 میں آیا۔ ایک جذباتی تقریر، توہینِ عدالت کا مقدمہ، سینیٹ کی رکنیت سے محرومی، جیل کی سلاخیں اور پانچ سالہ نااہلی یہ وہ طوفان تھے جو کسی بھی بڑے برج کو گرا سکتے تھے۔ لیکن نہال ہاشمی نے ان حالات میں بھی پسپائی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے عدالتی فیصلے کو تسلیم کیا، سزا کاٹی، لیکن اپنے قائد اور نظریے سے انحراف نہیں کیا۔ یہی وہ "وفاداری” ہے جو آج انہیں ایک بار پھر سیاسی منظر نامے کے مرکز میں لے آئی ہے۔

مارچ 2026 کے بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں، جب سندھ کی گورنر شپ کے لیے موزوں ناموں پر مشاورت جاری ہے، نہال ہاشمی کا نام سرفہرست آنا حیران کن نہیں۔ سیاسی تجزیہ نگار اسے نون لیگ کی جانب سے اپنے "مخلص کارکنوں کو عزت دینے” کی پالیسی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں۔ گورنر سندھ کا عہدہ محض ایک تشریفاتی منصب نہیں، بلکہ یہ وفاق اور صوبے کے درمیان ایک اہم کڑی ہے۔ کراچی کی نبض سے واقف اور آئینی معاملات پر دسترس رکھنے والا شخص ہی اس عہدے کا اصل حقدار ہو سکتا ہے۔

اگر نہال ہاشمی گورنر ہاؤس سندھ کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں، تو یہ سندھ کے ان ہزاروں لیگی کارکنوں کے لیے ایک پیغام ہوگا کہ محنت اور وفاداری کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ ایک ایسا شخص جس نے قید و بند کی صعوبتیں کاٹیں اور نااہلی کے دن گزارے، اس کا اس بلند آئینی عہدے پر بیٹھنا جمہوریت کے حسن کو نمایاں کرے گا۔

یقیناً ان کا مقابلہ صرف سیاسی حریفوں سے نہیں بلکہ ان چیلنجز سے ہوگا جو کراچی اور اندرونِ سندھ کو درپیش ہیں۔ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا اور سندھ کے عوام کی محرومیوں کو دور کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا ان کا اصل امتحان ہوگا۔ نہال ہاشمی کا یہ سفر ثابت کرتا ہے کہ سیاست میں عارضی شکست مستقل ناکامی نہیں ہوتی، بشرطیکہ انسان اپنے مقصد اور نظریے پر چٹان کی طرح قائم رہے۔ ان کی ممکنہ تعیناتی محض ایک عہدہ نہیں بلکہ ان کے صبر اور استقامت کی فتح ہوگی۔ بقول شاعر:

وفا کے باب میں ٹھہری ہے جو مثال اپنی
اسی پہ فخر کریں گے اب اہلِ حال اپنی

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے